دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کُن عزم

دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کُن عزم
بلوچستان کے سیاحتی ضلع زیارت میں پولیس چوکی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو اب بھی ایسے عناصر کا سامنا ہے جو امن، ترقی اور قومی استحکام کے دشمن ہیں۔ اس بزدلانہ کارروائی میں دو ایس ایچ اوز سمیت بلوچستان پولیس کے 9افسروں و اہلکاروں کی شہادت پوری قوم کے لیے انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ یہ وہ بہادر سپوت تھے جو عوام کی جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے تھے۔ قوم ان شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کے امن کی حفاظت کی۔ دہشت گردی کی یہ واردات صرف پولیس پر حملہ نہیں بلکہ ریاست، قانون اور بلوچستان کے امن پر حملہ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، صبر آزما اور خونریز جنگ لڑی ہے۔ اس دوران افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ملک میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی، مگر دشمن قوتیں اب بھی مختلف طریقوں سے بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کبھی سرحد پار سے دراندازی، کبھی پراکسی گروہوں کی پشت پناہی اور کبھی سوشل میڈیا کے ذریعے نفسیاتی جنگ، یہ سب اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ زیارت حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز، بلوچستان پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جس سرعت اور پیشہ ورانہ انداز میں مشترکہ کلیئرنس آپریشن کیا اور پندرہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ دہشت گردوں کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ ایک صفحے پر ہے اور ہر حملے کا بھرپور اور مثر جواب دیا جائے گا۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں تسلسل، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور اداروں کے درمیان مربوط تعاون دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا واقعے پر فوری ردعمل بھی قومی عزم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے نہ صرف شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا بلکہ واضح الفاظ میں کہا کہ دہشت گرد بلوچستان کی ترقی، امن اور عوام کی خوش حالی کے دشمن ہیں اور انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا یہ موقف درحقیقت پوری قوم کی آواز ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صرف دفاعی حکمتِ عملی اختیار نہیں کیے ہوئے بلکہ پوری قوت کے ساتھ ان عناصر کے خاتمے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ ریاست اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے اور وہ دن دُور نہیں جب دہشت گردی کا یہ ناسور مکمل طور پر ختم ہوگا۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ دہشت گرد ہمیشہ ایسے مقامات اور ایسے افراد کو نشانہ بناتے ہیں جو عوام کی خدمت اور امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں پر حملے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال متاثر کیا جاسکے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے کبھی بھی پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکے۔ ہر شہادت کے بعد ریاست کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے زیادہ موثر انداز میں جاری رہی ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ سیاحت، معدنیات، تجارت اور علاقائی روابط کے حوالے سے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن عناصر اس صوبے میں بدامنی پیدا کرکے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت کے منصوبوں، مواصلاتی نیٹ ورک اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بلوچستان کی بدلتی ہوئی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ دہشت گرد انہی مثبت تبدیلیوں سے خائف ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خوش حال بلوچستان ان کے بیانیے کی سب سے بڑی شکست ثابت ہوگا۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں ہاری جاسکتی۔ مضبوط طرزِ حکمرانی، عوامی اعتماد، تعلیم، روزگار، انصاف کی بروقت فراہمی اور نوجوانوں کے لیے مثبت مواقع بھی اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ جہاں ریاست اپنی رٹ مضبوط کرتی ہے اور عوام کو ترقی کے ثمرات پہنچاتی ہے، وہاں انتہا پسند عناصر کے لیے زمین تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، نوجوانوں کی فنی تربیت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو بھی مزید تیز کیا جائے تاکہ دشمن کے پراپیگنڈے کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنایا جاسکے۔ اس موقع پر پوری قوم کی ذمے داری بھی کم نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔ عوام کو مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینا، افواہوں سے گریز کرنا، ریاستی اداروں سے تعاون کرنا اور قومی اتحاد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کو بھی ذمے دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے ایسی خبروں اور تجزیوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو غیر ارادی طور پر دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیں۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اختلافات کے باوجود دہشت گردی جیسے معاملات پر پوری قوم یک زبان رہے۔ زیارت کے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کا لہو اس عزم کی تجدید ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے کبھی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔ ریاستی اداری پوری قوت، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کے تعاقب میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ عزم کہ دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ قوم کو یقین رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پاکستان جیتے گا، کیونکہ یہ صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں بلکہ حق، امن، ترقی اور قومی بقا کی جنگ ہے۔ متحد قوم، مضبوط ریاست اور باصلاحیت سیکیورٹی ادارے مل کر ان عناصر کا مکمل خاتمہ کریں گے اور پاکستان کو پُرامن، مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔
وسطی ایشیا سے مضبوط ہوتے تعلقات
صدر مملکت آصف علی زرداری کا کرغزستان کا سرکاری دورہ پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت اور علاقائی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں اقتصادی تعاون، علاقائی روابط اور تجارتی شراکت داری کو ترجیح دے۔ کرغزستان کے ساتھ حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقات اسی مثبت سوچ کی عکاس ہے۔ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں، تاہم ان تعلقات میں موجود وسیع اقتصادی امکانات سے ابھی تک مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ان کی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق خوش آئند پیش رفت ہے۔ اگر ان شعبوں میں طے پانے والے فیصلوں پر مثر انداز میں عمل کیا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔صدر آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ پاکستان کی ’’ وژن سینٹرل ایشیا‘‘ پالیسی میں کرغزستان کو اہم مقام حاصل ہے، درحقیقت پاکستان کی طویل المدتی علاقائی حکمت عملی کی نشان دہی کرتا ہے۔ وسطی ایشیا قدرتی وسائل، توانائی اور تجارتی امکانات سے مالا مال خطہ ہے جب کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی بدولت ان ممالک کے لیے سمندری راستوں تک رسائی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ سازی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کاسا۔1000منصوبہ بھی اس تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں اقتصادی انضمام، باہمی اعتماد اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ اسی طرح تعلیم، ثقافت اور بین الپارلیمانی روابط میں اضافہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں معاون ثابت ہوگا۔ کرغزستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر انتخاب بھی قابلِ ستائش پیش رفت ہے، جس پر پاکستان کی جانب سے مبارکباد دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا اظہار ہے۔ عالمی فورمز پر باہمی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے مفادات کے تحفظ میں مددگار ہوگا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو بھی تقویت دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں ہونے والے اتفاقات کو صرف بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ مضبوط سیاسی تعلقات کو پائیدار اقتصادی شراکت داری میں بدلنا ہی دونوں ممالک اور پورے خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔





