ڈپلومیسی کی آڑ میں!!

ڈپلومیسی کی آڑ میں!!
محمد مبشر انوار
زمانہ قدیم سے ہی جنگوں کے حوالے سے ایک اصول ضرب المثل رہا ہے کہ جنگ میں کوئی اصول نہیں ہوتا البتہ طلوع اسلام کے بعد جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کے اصول طے کر دئیے گئے وہیں جنگ کا یہ قدیم اصول بھی مسترد کر دیا گیا اور جنگ اور جنگ سے متعلقہ امور کے واضح اصول بھی متعین کر دئیے گئے ہیں۔ میدان جنگ میں پینترے بدلنا،گھات لگانا، دائو پیچ کھیلنا ،دشمن کو گھیرنا اور تہ تیغ کرنا،ان سب کے متعلق واضح اصول دین اسلام نے وضع کرکے،جنگ کو بھی اصول و ضوابط کے د ائرے میں رکھاہے جسے بعد ازاں آج کی مہذب دنیا نے بھی اپنے چارٹر میں شامل کیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان اصولوں پر عمل درآمد ،غیر مسلموں کی جانب سے کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہنے کو یہ مہذب دنیا ہے جہاں جانوروں،پرندوں اور درندوں تک کے حقوق اور اصول طے کئے جا چکے ہیں لیکن یہی غیر مسلم جب مسلم کے ساتھ برسر پیکار ہوتے ہیں یا غیر مسلموں کے درمیان بھی ،تب بھی ان جنگی اصولوں کی پرواہ نہیں کی جاتی اور ان طے شدہ اصولوں کی دھجیاں بکھرتے ساری دنیا دیکھتی تو ہے مگر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے ماسوائے ان مواقع پر جہاں کسی عالمی طاقت کو اپنے مفادات کھونے کا ڈر ہو،وہاں وہ فوری طور پر نہ صرف اس جنگ میں کود جاتے ہیں بلکہ ہر وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں کہ جس سے ان کے مفادات محفوظ رہیں۔ یوں تو اسرائیلی خنجر سر زمین فلسطین میں پیوست کرکے،اس خطہ کے امن کو داؤ پر لگایا جا چکا تھا اور اس کے مضمرات بھی غیر مسلم دنیا بخوبی دیکھ ہی رہی تھی کہ کس طرح یہودیوں نے فلسطینیوں ہی نہیں بلکہ پڑوسی ممالک کا سکون چھین رکھا تھا،اور کیسے یہی خود ساختہ مہذب مغربی دنیا یہودیوں کی درندگی کو دفاع کا نام دے کر ،نہتے فلسطینیوں کو دہشت گرد یا یہودیوں کی آزادی کے خلاف ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے رہے ہیں حتی کہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس جنگ میں، اسرائیل نے کس طرح فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے،کیسے ان کے گھربار تباہ کئے ہیں کہ کسی طرح غزہ کے شہری زچ ہو کر یہاں سے ہجرت کر جائیں،ان پر زندگی اس حد تک اجیرن کردی گئی کہ امداد کے نام پر بھی ان بیچاروں پر گولیاں اور بم برسائے گئے کہ کسی طرح یہ شہری خوفزدہ ہو کر،اس خطے کو خالی کرکے اسرائیلی خواہشات پوری کر دیںلیکن آفرین ہے غزہ کے ان شہریوں کے عزم پر کہ سب کچھ برداشت کر کے بھی اپنے موقف اور زمین سے پیچھے نہیں ہٹے۔ فلسطین کے نہتے شہریوں کی پشت پر ،مسلم ممالک میں سے عملا اگر کوئی ملک ،کوئی ریاست کھڑی دکھائی دی ہے تو وہ صرف اور صرف ایران ہے،جس نے اس پاداش میں اپنا نقصان ہی برداشت نہیں کیا بلکہ کسی بھی موقع پر فلسطینیوں کی عملی مدد سے پیچھے نہیں ہٹی۔ جبکہ دیگر مسلم ریاستوں کی حالت کو دیکھا جائے تو بہرحال ان کی مدد و حمایت یقینا فلسطین کے ساتھ ہے مگر زبانی حد تک یا سفارتی سطح پر کہ اس سارے عرصہ میں ان ممالک نے جنگ بندی رکوانے کے لئے ،سفارتی کوششیں تو کی مگر جغرافیائی سرحدوں اور سیاسی معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس جنگ کے شعلوں سے اپنی ریاستوں اور عوام کو اس سے دور رکھاکہ اسر ائیل کی پشت پناہی میں امریکہ نے کسی ایک لمحہ بھی کوتاہی نہیں برتی بلکہ خطے میں موجود ریاستوں کو اسرائیل کے لئے اسلحہ و ہتھیار فراہم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا۔
بہرحال اسرائیل کی نظر میں ایران وہ واحد ریاست ہے جو کسی بھی صورت فلسطین اور پڑوس کی ریاستوں سے اسرائیل کے درد سر بنی ہوئی ہے ،جس کا جواب دینے کے لئے ،اسرائیل نے امریکہ کو نہ صرف قائل کیا بلکہ اس کے ساتھ مل کر ایران پر جارحیت بھی کی گو کہ اس جارحیت سے قبل امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے مگر امریکہ نے حسب ماضی ایک بار پھر مذاکرات کی پروا نہ کرتے ہوئے،ایران پر جارحیت کی۔ اس جارحیت کے جواب میں ایران نے ،امریکہ اور اسرائیل کو بھرپور ،سخت اور کئی ایک سرپرائز دئیے کہ امریکہ واسرائیل جو ایران کو تر نوالہ سمجھ رہے تھے،ان کے لئے راہ فرار بھی نظر نہیں آرہی اور اڑتیس روزہ جنگ میں ایران نے خطے میں امریکی اثاثوں کو جس بری طرح سے تباہ و برباد کیا،اس نے امریکی برتری کا زعم زمین بوس کرکے رکھ دیا ہے۔ خلیج میں امریکی اڈوں کا وہ بھرکس نکالا گیا ہے کہ خلیجی ممالک بھی سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ کیا وہ اپنے دفاع کے لئے امریکہ پر انحصار کر سکتے ہیں یا نہیں کہ امریکہ تو خود اپنے اڈوں کی حفاظت میں ناکام ہو چکا ہے،تو کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ خلیجی ممالک خطے کے دیگر ممالک سے اپنے تعلقات بہتر کرکے،اپنی ریاست و عوام کے لئے پر امن ماحول مہیا کریں ؟گو کہ اس جنگ کے دوران امریکہ و اسرائیل کی بھرپور کوشش رہی کہ کسی طرح ،خلیجی ممالک کو اس جنگ میں گھسیٹنے میں کامیاب ہو جائیں تاکہ اس جنگ کو خلیجی جنگ بنا کر،اس کا خرچ ان متمول خلیجی ریاستوں سے وصول کیا جائے اور دوسری طرف مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف رکھا جا سکے،ان کے درمیان نفرت کی دیوار مسلسل کھڑی رکھی جائے ، البتہ اپنی مذموم کوشش میں یہ دونوں ممالک بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہ ایک طرف خلیجی ممالک اس جنگ کا حصہ نہیں بن رہے اور دوسری طرف ایران خطے میں امریکی اثاثوں کو پوری طرح تباہ کرچکا ہے،تیسر ی طرف جو سب سے اہم حقیقت کہ امریکہ کو اپنے دفاعی ہتھیاروں پر سب سے زیادہ اعتماد و بھروسہ تھا،ایران نے اس کو بری طرح ساری دنیا پر آشکار کرکے،اس امریکی بھرم کو ننگا کردیا ہے۔ ایران کانسبتا کم قیمت و ارزاں ڈرون و میزائل امریکہ کے انتہائی مہنگے ( قریبا تین سے چار ملین ڈالر لاگت)دفاعی تھاڈ یا پیٹریاٹ میزائل کو متحرک کرتا ہے اور ایک ایرانی ڈرون یا میزائل کے لئے ،امریکہ و اسرائیل کو کم ازکم دو یا تین دفاعی ہتھیار چلانے پڑتے ہیں،یوں امریکی دفاعی ہتھیارانتہائی تیزی کے ساتھ استعمال ہوئے اور ان کا ذخیرہ بھی ختم ہوتا گیا جبکہ دوسری طرف ایران کا یہ کہنا کہ ایران نے ابھی تک اپنے پرانے ڈرون اور میزائل ہی استعمال کئے ہیں اور جدید ترین ڈرون اور میزائلوں کو ابھی میدان میں لایا ہی نہیں گیا،امریکہ کو جنگ بندی اور ازسر نو اپنے لائحہ عمل کو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا۔
جنگ بندی کی مدت گو کہ ابتدائی طور پر صرف پندرہ دن رکھی گئی مگر بعد ازاں حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس جنگ بندی کو کامیاب مذاکرات سے مشروط کر دیا گیا ہے اور ابھی تک مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہوا لیکن جزوی طور پر جنگ بندی برقرار ہے ۔ امریکہ کی جانب سے ،ایران کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کو غیر موثر کرنے کے لئے امریکہ نے کھلے پانیوں میں ناکہ بندی کررکھی ہے اور آبنائے ہرمز سے نکلنے والے جہازوں کی تلاشی و واپسی جیسے اقدامات بھی کر رہا ہے لیکن اس کی ناکہ بندی کو ایران ایک طرف بحری قزاقی قرار دے رہا ہے تو دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی بحری بیڑے،ایرانی ڈرونز اور میزائل کی رینج سے باہر موجود ہیں،جو امریکی خوف کا اظہار ہے۔ بہرکیف اس ساری صورتحال کے باوجود پس پردہ مذاکرات کی کوششیں مسلسل جاری ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ایسی بندش،عالمی تجارت کے لئے انتہائی مضر ثابت ہورہی ہے اور عالمی منڈی اس سے شدید متاثر ہورہی ہے،مذاکرات کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے،ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران اس وقت تک مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا جب تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی اور امریکہ مذاکرات کے لئے سنجیدہ نہیں ہوتا جبکہ دیگر امور پر بعد میں بات ہوگی۔ دیگر امور میں امریکی اولین شرائط میں ایران کی ایٹمی صلاحیت پر مکمل پابندی کے علاوہ ایران کے افزودہ یورینیم کا حصول بھی شامل ہے،جس پر ایران کی جانب سے بھی واضح کہا گیا ہے کہ ایران اپنا یورینیم کسی صورت حوالے نہیں کرے گا یوں مذاکرات کا یہ خواب فی الوقت ادھورا سا لگتا ہے اور امکان غالب ہے کہ یہ بیل کسی طور منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے برعکس معاملات انتہائی گھمبیر ہوتے جار ہے ہیں اور امریکہ گو کہ ایران کو یہ پیشکش کرچکا ہے کہ اب مذاکرات کی بجائے، معاملات فون پر طے کئے جا سکتے ہیں اور امریکہ ایران کی جانب سے فون کا منتظر ہے لیکن دوسری طرف امریکہ مشرق وسطی میں اپنی عسکری قوت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے،جس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا انتہائی آسان ہے کہ مشرق وسطی میں فوری امن ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ جنگی اصول اپنی جگہ اہم مگر جنگ بندی کے دوران جنگی تیاریوں سے غفلت کسی بھی فریق کے لئے مناسب نہیں اور اس وقت فریقین اسی اصول پر عمل پیرا ہیں جسے بہرطور ڈپلومیسی کی آڑ میں بھرپور اور فیصلہ کن جنگی تیاریوں سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔







