ColumnQadir Khan

پاکستان۔ ایران کا وسطی ایشیا لاجسٹک کوریڈور

پاکستان۔ ایران کا وسطی ایشیا لاجسٹک کوریڈور

قادر خان یوسف زئی

عالمی سیاست کی شطرنج پر جب سپر پاورز اپنے مہرے چلتی ہیں، تو عموماً چھوٹی ریاستیں ان کے بوٹوں تلے روند دی جاتی ہیں یا خاموشی سے ان کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیمِ خم کر لیتی ہیں۔ لیکن اپریل 2026ء کے ہنگامہ خیز ایام نے تاریخ کے اس روایتی بیانیے کو یکسر جھٹلا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ، امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم اور عالمی سمندری تجارتی راستوں کی ناکہ بندی کے دوران پاکستان نے جس طرح اپنے پتے کھیلے ہیں، وہ سفارت کاری اور جیو اکنامکس کا ایک ایسا ماسٹر اسٹروک ہے جس پر عالمی مبصرین بھی ششدر ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جب پوری دنیا ایک عالمی جنگ کے خوف میں مبتلا تھی، تو پاکستان کو اسلام آباد مذاکرات میں ایک ’’ بالغ فریق‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ مگر پاکستان کا اصل کمال محض سفارتی ثالثی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک ایسی معاشی حکمت عملی اختیار کی جس نے ایک طرف امریکی بحری ناکہ بندی میں پابندی سے بچا کی راہ نکالی اور دوسری جانب افغانستان کے اس دیرینہ تکبر کو بھی خاک میں ملا دیا کہ کابل کے بغیر پاکستان کی وسطی ایشیا تک رسائی ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس تزویراتی بساط کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب 13اپریل 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک سخت ترین بحری ناکہ بندی مسلط کر دی۔ اس عالمی ناکہ بندی کا براہ راست اور تباہ کن اثر پاکستان پر پڑا، کیونکہ کراچی کی بندرگاہ پر ایران جانے والے تین ہزار سے زائد تجارتی کنٹینرز پھنس کر رہ گئے۔ ایک عام ریاست شاید اس موقع پر سپر پاور کے دبا میں آکر اپنے تاجروں کو اربوں کا نقصان برداشت کرنے کا مشورہ دیتی، مگر پاکستان کی وزارتِ تجارت نے 25اپریل کو ایک غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026 (SRO 691)کا فوری نفاذ کر دیا۔ اس ایک قانونی نوٹیفکیشن نے امریکی بحری ناکہ بندی میں ایک بہت بڑے قانونی بحران سے بچائو کی راہ اختیار کی۔ چونکہ امریکی پابندیاں سمندری حدود پر نافذ تھیں، پاکستان نے کمال ہوش مندی سے ایران کے لیے چھ زمینی تجارتی راستے باضابطہ طور پر کھول دئیے، جن میں گوادر سے گبد اور کراچی سے تفتان تک کے اہم کوریڈورز شامل تھے۔ اس اقدام نے نہ صرف پھنسے ہوئے ہزاروں کنٹینرز کو ان کی منزل تک پہنچایا، بلکہ پاکستان کو خطے کا ایک ناگزیر تجارتی اور لاجسٹک مرکز بھی بنا دیا۔

یہ محض ایک ہنگامی معاشی بندوبست نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا عملی مظاہرہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن ( این ایل سی) نے گبد۔ ریمدان بارڈر ٹرمینل کو ٹی آئی آر سسٹم کے تحت فعال کر کے کیا۔ تاریخ میں پہلی بار، کراچی سے منجمد گوشت کا ایک تجارتی قافلہ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے روانہ ہوا اور گوادر و ایران کے زمینی راستے سے ہوتا ہوا سیدھا ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند جا پہنچا۔ یہ چند ٹرکوں کا سفر نہیں تھا۔ یہ دراصل پاکستان کی جانب سے وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے افغان سرزمین کے محتاج ہونے کی تاریخی زنجیروں کو توڑنے کا باقاعدہ اعلان تھا۔ ایک طویل عرصے سے پاکستان، افغانستان کو اپنا قدرتی تجارتی راستہ سمجھ کر کابل کے نخرے اٹھا رہا تھا، مگر یہ نیا ایرانی کوریڈور زیادہ محفوظ، تیز ترین اور بین الاقوامی کسٹمز کے جدید نظام سے آراستہ ہے، جس نے افغان ٹرانزٹ روٹ کی اہمیت کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔ اگر ہم اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو افغان حکومت کی اسٹریٹجک حماقتیں اور ان کا تکبر ان کی اپنی معاشی تباہی کا سبب بن چکا ہے۔ کابل کے حکمرانوں نے ایک انتہائی خطرناک ’’ پراکسی گیمبٹ‘‘ کھیلتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( فتنہ الخوارج ) کو پاکستان کے خلاف ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس پراکسی جنگ کے ذریعے پاکستان پر دبائو ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے، مگر انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب کسی ایٹمی ریاست کی بقا کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اس کا ردعمل کیسا ہوتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اکتوبر 2025ء میں طورخم اور چمن کی سرحدی بندشوں کے نتیجے میں افغان تاجروں کو محض ایک ماہ میں 200ملین ڈالر کا ہوش ربا نقصان اٹھانا پڑا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کے لیے افغان برآمدات میں 38.2فیصد کی ہولناک کمی واقع ہوئی اور وہ گر کر محض 505ملین ڈالر تک محدود ہو گئیں۔ اس معاشی تنہائی سے گھبرا کر کابل اب متبادل کے طور پر بھارت کی جانب دیکھ رہا ہے، اور حیران کن طور پر چاہ بہار پورٹ کے ذریعے بھارت، کابل کی سب سے بڑی ایکسپورٹ ڈیسٹینیشن بن چکا ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایران پر انحصار کیے بغیر کابل بھی بھارت تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب سفارت کاری اور معاشی دبا سے بات نہ بنی اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی نے پاکستان کی برداشت کا پیمانہ لبریز کر دیا، تو اسلام آباد نے اپنی روایتی ’’ دفاعی پالیسی‘‘ کو ترک کر کے ’’ تعزیری ُپالیسی‘‘ کا راستہ اپنا لیا۔ فروری 2026ء کے اواخر میں پاکستان نے ’’ آپریشن غضبِ للحق‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے افغانستان کے اندر گہرائی میں موجود عسکری اور تزویراتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کابل، قندھار اور تزویراتی اہمیت کے حامل بگرام ایئر بیس پر ہونے والے یہ فضائی اور زمینی حملے اس بات کا دو ٹوک پیغام تھے کہ پاکستان اب کسی پراکسی وار کو اپنی سرزمین پر برداشت نہیں کرے گا۔

یہ ایک کھلی جنگ کا آغاز تھا جس کا مقصد افغان طالبان کو یہ باور کرانا تھا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کی قیمت اب انہیں براہِ راست اپنے انفراسٹرکچر اور ریاستی وجود کی تباہی کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ آج کا منظرنامہ انتہائی شفاف اور بے رحم ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ پاکستان نے جذباتیت کی بجائی انتہائی تدبر اور ٹھوس حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ ایک طرف اس نے امریکی پالیسی کو چیلنج کئے بغیر حکمت عملی سے قانونی و جائز راستہ اختیار کرتے ہوئے ٹرانزٹ آرڈر 2026کے ذریعے اپنے معاشی اور تجارتی راستے کھلے رکھے اور ایران کے ساتھ مل کر وسطی ایشیا تک ایک نیا لاجسٹک کوریڈور قائم کر لیا، اور دوسری جانب افغانستان کی جانب سے مسلط کردہ دہشت گردی کا جواب، مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دے رہا ہے۔ کابل کے لیے یہ ایک تاریخی سبق ہے کہ جو ریاستیں اپنی جغرافیائی اہمیت کا غلط اندازہ لگا کر اپنے پڑوسیوں کی بقا سے کھیلتی ہیں، وہ بالآخر معاشی تنہائی اور فوجی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتیں۔ پاکستان کا یہ نیا سفر اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ اب فیصلے اسلام آباد کے مفادات کے تابع ہوں گے، کسی جذباتی یا نظریاتی بلیک میلنگ کے نہیں۔

جواب دیں

Back to top button