ذوالفقارعلی بھٹو کے افکار اور نظریات آج بھی زندہ

ذوالفقار علی بھٹو کے افکار اور نظریات آج بھی زندہ
سید مشرف کاظمی
تاریخ عالم نے اپنے سینے میں کیسی کیسی عظیم شخصیات کو چھپا رکھا ہے ان شخصیات نے ملک و قوم کے لیے ایسے کارنامے سرانجام دئیے ہیں کہ آج بھی وہ دنیا میں’’ زندہ ہے زندہ ہے ‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ ان ہی نامور شخصیات میں ایک ہستی ذوالفقار علی بھٹو کی تھی جس کی ڈکشنری میں جھکنا اور بکنا نام کے الفاظ موجود نہ تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ تختہ دار پر لٹک گئے مگر استعماری طاقتوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا۔
نظام قدرت ہر انسان کو جنم دیتا ہے اور آخر کار اسے اپنے انجام سے ہمکنار کرتی ہے۔ کروڑوں انسان آتے جاتے رہتے ہیں لیکن جو اپنے وجود سے تاریخ رقم کرتے ہیں وہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کی ان ممتاز ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 51سال کے مختصر عرصے میں تاریخ کو ایک نیا رخ دیا جسے تاریخ نے امتیازی طور پر ریکارڈ کیا ۔ ان کے فلسفے کا لب لباب یہ تھا کہ تمام انسان کے مقام کا تعین اس کی رضا اور مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہر شخص کو آدمیت کے مطابق وہ مقام حاصل ہونا چاہیے جو اس نے اپنے شہادت کے موقع پر اختصار سے میں کوشش کرتا ہوں کہ ان کے اس مقام کو جو تاریخ نے انہیں عطا کیا ہے اس کا ذکر ہوتا کہ آنے والی نسلیں اس سے متعارف ہوسکیں۔ پاکستان کے حوالے سے ان کی بیشمار خدمات ہیں جس کا ریکارڈ میں تذکرہ کیا جاسکتا ہے ۔ شہید تاریخ کے طالب علم تھے اور اسی روشنی میں ان کے فکر و فلسفے کا ارتقا ہوا تھا ۔ جس ادراک نے انہیں مختصر سی زندگی میں وہ ممتاز مقام حاصل ہونے کا موقع فراہم کیا جو عالمی برادری میں انہیں حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کی اور دنیا کو اپنے وژن کے مطابق مستقبل کی ایک نئی دنیا بنانی کی فلسفہ دیا۔ وہ بین الاقوامی برادری میں مظلوم عوام اور ان کے حقوق کے داعی تھے ۔ مشرق و مغرب کے جغرافیائی امتیاز سے بالا تر ہو کر انہوں نے اقوام کی برادر ی میں یہ پیغام پہنچایا کہ تمام اقوام متحد ہو کر مظلوم اور مفلوک الحال عوام کی جدو جہد کی ضمانت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دنیا کو اپنی سیاسی تقسیم سے بالا تر ہو کر اس سطح پر وہ مقام حاصل کرنا چاہیے جس کا تقاضا عوام الناس کرتے ہیں ۔ ان کے حقوق کی ضمانت ہونی چاہیے ۔ ترقی یافتہ اور زیر ترقی ممالک کی مابین اس نظریئے کو افضلیت حاصل ہونی چاہیے۔ اس طرح و ہ غیر جانبدار دنیا کے ممتاز قائد بن گئے۔ نہ صرف وزیر خارجہ کی حیثیت سے بلک وزیر اعظم اور ایک ایسے قائد جس نے پاکستان کو عالمی برادری میں احترام اور انفرادیت کے ساتھ متعارف کرایا اس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے ۔ ان کی شخصیت کے بیان میں تفصیل درکار ہے لیکن موقع کی مناسبت کے حوالے سے اسے اختصار میں سمونے کے لیے ان کے کلیدی کارناموں کا تذکرہ ان حوالوں سے کیا جاسکتا ہے ۔
1۔ عالمی سطح پر ایک ممتاز سیاست دان کا مقام حاصل کر کے انہوں نے آخر کار عظیم شہید کی حیثیت سے پاکستان کی تاریخ میں عزت و غیرت اور قربانی کے ایک نئے معیار کا تعین کیا ، جس تخلیق کی تائید عملا پاکستان کی تاریخ میں ان کی بیٹی دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی جدو جہد کے ذریعے متعین کی ۔
2۔ انہوں نے 25برس ضائع ہونے کے بعد ایک ایسے متفقہ اسلامی ، جمہوری ، وفاقی دستور سے پاکستان کو متعارف کرایا جو تمام تر تاریخی سنگین غلطیوں کے باوجود وفاق پاکستان کی جدوجہد اور سلامتی کا ضامن ہے ۔ یکے بعد دیگر کئی مارشل لا کی قوتوں نے اس دستور کو پسپا اور پامال کر نے کی کوشش کی لیکن اپنی بنیادی صفات کے سبب وہ واحد پاکستان کے وفاق کی سلامتی کا ضامن بنا اور آج بھی اس دستور کی اساس کی بحالی کی ضامن پیپلز پارٹی ہے ۔
3۔ شہید بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادیں رکھ کر اور اس کی دستاویزی اساس کی تعین کر کے ایک ایسی وفاقی پارٹی سے پاکستان کی قوم کو منسلک کیا کہ جس کے باعث ان کی فکر ی اساس نظریئے کی وجہ سی آج بھی وہ پارٹی جمہوری راستے سے پاکستان کی حکمراں پارٹی ہے ۔ جو جمہوریت ، غیر استحصالی معیشت ، عوامی حاکمیت اور اسلامی اقدار کی محافظ ہے اور جس نے پاکستان کے عوام کو جدوجہد کے راستے پر گامزن کرتے ہوئے شہادت کے مشن کی طرف مائل کیا ۔ اس پارٹی کا تجزیہ نہ صرف افکار بلکہ عمل پر کیا جاسکتا ہے اور عملیت پسندی بانی چیئر مین کی شہادت ، شریک چیئر مین محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور سیکڑوں نوجوان کارکنوں کی شہادت کا اثاثہ ہے ۔ یہ ان کے قول و فعل کی تمازت ہے کہ شہید بھٹو اور پارٹی لافانی قوت ہیں ۔
4۔ ایک عالمی قائد اور جنوبی ایشیا کے رہنما کی حیثیت سے خطے کو امن فراہم کرنے میں شہید بھٹو کا ممتاز مقام ہے ۔ جس خطے میں چین جیسی بڑی قوت اور ہندوستان جیسا منتقم مزاج ملک پڑوسی ہو وہاں پاکستان جیسے ملک کی ضمانت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے شہید بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے ہمکنار کیا اور جس کی پیروی کرتے ہوئے دختر مشرق شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا۔ یہ بھی ایک قابل ریکارڈ کارنامہ ہے ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا جس کے سبب کنونشنل جنگ کے خطرات کو خطے میں ختم کیا اور ایک ایسے پڑوسی ملک کو جو منی سپر پاور بننے کا خواب دیکھتا تھا اور جو اپنی جسامت کے حوالے سے جنگل کے ہاتھی کا رول پلے کرنا چاہتا ہے اس کی پیشرفت کو محدود اور اس کے عزائم کو مسدود کر دیا ۔ اگر آ ج پاکستان کے پاس یہ صلاحیت نہ ہوتی تو خطہ بھارت کی موجودگی میں جس صورتحال سے دوچار ہوتا اس خطرے کو دور کرنے میں بھٹو صاحب کا جو تاریخی کردار ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انہی کا انعام تھا کہ 28مئی 1998ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیتے ہوئے پاکستان نے جوابی کارروائی کر کے طاقت کا توازن بحال کیا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے تذکر ے کے بغیر پاکستان کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ عوام سے تعلق نبھانے والوں کی بات ہو گی تو بھٹو ان میں سرفہرست ہو نگے۔ پاکستان کی سیاست کے نشیب و فراز کا جائزہ لینے پر یہ حقیقت کھل کر آ شکار ہو تی ہے کہ ایک ایسا مسیحا بھی ملک کے حالات بدلنے کی جستجو میں صلیب پر گاڑ دیا گیا جس کی مسیحائی سے خود جلد بھی عزت کی زندگی جینے کے قابل ہوا تھا۔ دنیا میں بڑے بڑے عظیم رہنما اور لیڈر پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ذہانت کے بدولت اپنی قوم اور ملت کے لیے ناقابل تسخیر کارنامے سر انجام دئیے جن کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہتا ہے ذہانت اور قیادت کی صلاحتیں اللہ کی خاص عنایت ہوتی ہیں تعلیم و تربیت اور وقت ان کو نکھارتا ہے ہم نے ایسی بہت سی شخصیات کو ناقدری کے ذریعے کھو دیا آج پاکستان کی حالت ایک مقروض اور دنیا سے مانگنے والی نہ ہوتی اگر ہم نے قائدانہ صلاحیت کی شخصیات کو ضائع نہ کیا ہوتا گردش لیل و نہار برسوں جاری رہتی ہے تو پھر کہیں جا کر شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسی نایاب شخصیات اس دنیا رنگ و بو میں اپنے جوہر دکھانے کیلئے آتی ہیں ۔ فخر ایشیا قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کا عہد سیاست صرف بارہ سال پر محیط ہے جس میں 6سال ان کے عہد حکومت کے بھی شامل ہیں ان بارہ برسوں کی سیاست میں جناب بھٹو شہید کو وہ غیر معمولی عزت و شہرت نصیب ہوئی جو بڑے بڑے جفادری سیاست دانوں کو برسوں کی کوچہ گردی سیاست کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ بلاشبہ کروڑوں پاکستانیوں کو سیاست میں صرف جناب بھٹو کی شخصیت ہی نظر آتی ہے، جو اپنی عظیم شہادت کے 44برس بعد بھی کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں میں زندہ ہے ۔ 1967ء میں تاسیس پیپلز پارٹی کے ساتھ ہی بھٹو صاحب کی مشکلات کا آغاز ہوگیا تھا ۔ سیاسی جماعت بنانے کے بعد ملک عزیز کے طول و عرض میں بھٹو شہید کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اس سے ایوبی آمریت تھرتھرا گئی پی پی کے انقلابی منشور کو مقتدر قوتوں نے ہمیشہ اپنے خلاف سمجھا ملک عزیز میں پی پی کو کبھی بھی کھلم کھلا کردار ادا کرنے کی اجازت نہ دی گئی شہید بھٹو نے اپنی جان اور اپنی اولاد اس ملک پر نچھاور کر دی لیکن پھر بھی مقتدر قوتیں اور سیاسی جماعت پی پی کے خلاف ہی رہیں۔16دسمبر1971ء کی خون آشام شکست کے بعد انہوں نے ایک تھکی ہاری اور شکست خوردہ قوم کی رہنمائی کی انہوں نے بچے کھچے پاکستان کو صرف 6سال میں مستحکم اور مضبوط اور تیسری دنیا کا ایک انقلابی ملک بنا دیا ۔ انہوں نے نہایت پامردی ہمت اور بلند حوصلگی سے اپنے فرائض سرانجام دیئے ۔20ستمبر 1971ء کو وہ اسی کرسی پر رونق افروز ہوئے ۔ جس کو بانی پاکستان نے شرف عظمت بخشا تھا ۔ یہ کرسی پاکستان کی عظمت کی کرسی کہلاتی ہے اور جناب بھٹو عوامی تائید کی بنا پر ہی اس کرسی پر بیٹھنے کے حقدار ٹھہرے ۔ وزیراعظم بھٹو شہید کا عہد حکومت 20دسمبر 1971ء سے 4جولائی 1977ء تک محیط تھا انہوں نے ملکی ترقی کا سفر پیچھے سے شروع کیا اور صرف چھ سال کے قلیل عرصے میں اسے بام عروج تک پہنچا دیا ۔ ملکی ترقی و کمال کے بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پایہ تکمیل کو پہنچے ۔ مملکت خداداد کے تمام کلیدی ادارے بھٹو کے عہد حکومت میں ہی تشکیل پائے ۔ ان منصوبوں میں سر فہرست پاکستان کا جوہری پروگرام پاکستان سٹیل ملز معیشت کی بحالی تعلیمی اداروں کا وسیع جال میڈیکل کالجز زرعی اصلاحات انگریزی خطابات کا خاتمہ محنت کشوں کا تحفظ عوامی سیاسی شعور کی بیداری اور افرادی قوت کی بیرون ملک برآمد شامل ہیں ان کے دور حکومت میں ہی مملکت کو ایک متفقہ آئین 1973نصیب ہوا۔ ان کا ایک انمٹ اور زریں کارنامہ ہے 90سالہ قایادنی فتنہ بھی آپ کے دور حکومت میںختم ہوا ۔ قادیانی آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم قرار پائے ۔ آئین میں مسلمان کی متفقہ تعریف شامل کی گئی صدر وزیراعظم اور دیگر تمام کلیدی عہدوں کیلئے مسلمان ہونا ضروری قرار پائے ۔ ختم نبوت کے اقرار کو ہر کلیدی عہدے کے حلف نامے میں شامل کیا گیا ملک عزیز میں پہلی بار شناختی کارڈ کا اجرا کیا گیا عوام کو پاکستانی شناخت دی گئی ۔ الغرض ملکی تعمیر و ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہوا ۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو خارجہ امور کے بہترین ماہر تھے ۔ وہ صرف تین سال کی عمر میں پاکستان کے وزیر خارجہ بن گئے ۔ ذہانت و متانت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ایسا ذہین شخص پاکستان کو آج تک نہیں مل سکا ۔ وہ ماہر سیاست دان اور قادر الکلام خطیب تھے۔ لاکھوں انسانوں کے اجتماع سے گھنٹوں خطاب کرتے۔ انہوں نے متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی چین ایران انڈونیشیا اور عرب ممالک سے روابط کا اہتمام کیا ۔ امریکہ چین تعلقات کو بہتر بنانے میں خصوصی کردار ادا کیا پاک چین لازوال دوستی کا آغاز انہی کے عہد میں ہوا۔ مسلم امہ کی یک جہتی کیلئے انتھک کوشش کی ۔ عرب دنیا کو تیل کی دولت کی افادیت بتائی ۔ سعودی عرب سے خصوصی تعلقات قائم کیے ۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کی کامیابی کیلئے بہت جد و جہد کی ۔ 1972ء میں لاہور دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا پہلا اور آخری کامیاب انعقاد کرایا ۔ اس کے بعد اسلامی سربراہی کانفرنس کا ایسا انعقاد آج تک نہ ہو سکا ۔ مسٹر بھٹو کے عہد حکومت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی انتہائی کامیاب اور عروج پر تھی چہار سو پاکستان کا طوطی بولتا تھا بھٹو کی تشکیل کردہ خارجہ پالیسی کی رہنما اصول آج بھی ملکی خارجہ پالیسی کیلئے مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جناب بھٹو بہت ہی کم عرصے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے لیڈر اور سیاست دان بن گئے اپنی سیاسی پارٹی پی پی کی تشکیل کے صرف ڈھائی سال بعد وہ پاکستان کے مقبول ترین سیاست دان اور رہنما بن گئے ۔1970 ء کے عام انتخابات میں پی پی نے مغربی پاکستان میں بے مثال کامیابی حاصل کی ۔تاریخ عالم میں اتنی قلیل مدت میں ایسی شاندار کامیابی کسی بھی سیاستدان کو حاصل نہ ہو سکی۔ 1970ء کے انتخابات میں عوام نے پی پی کو اپنی نجات دہندہ جماعت قرار دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اپنا متفقہ و مسلمہ لیڈر و رہنما تسلیم کرلیا۔ ذو لفقار علی بھٹو نے پاکستانیوں کے قلب و روح کو متاثر کیا ان کی شخصیت کا تاثر اور سحر آج اتنے برس بعد بھی لوگوں کے اذہان پر طاری ہے ان کے اپنے الفاظ ہیں:’’ میں نے اس ملک کے لوگوں کی روح کو متاثر کیا ہے اور اب اس ملک کی تاریخ کبھی وہ نہ رہے جو میری عدم موجودگی میں ہوتی۔ ایک طویل عرصے تک عوام آزاد سوچ اور شخصی آزادی کے طالب رہیں گے اب طاقت کے بل بوتے پر ان پر حکومت نہیں کی جا سکے گی‘‘۔ اس حوالے سے محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے کہا تھا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا دور اسی طرح رواں دواں ہے یہ دور بینظیر کا نہیں ذوالفقار علی بھٹو کاہی دور لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہید بھٹو بھی ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ حکمران وہ نہیں عوام ہیں قائد وہ نہیں عوام ہیں یہ حکومت پیپلز پارٹی کی نہیں عوام کی حکومت ہے قانون کی حکمرانی اور امور مملکت میں عوام کی شرکت اور مشکل مسائل کیلئے عوام سے رہنمائی لینا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست تھی اور زندگی کے ان بنیادی اصولوں کو وہ اپنی سیاست کی بنیاد سمجھتے تھے اور یہی اصول جمہوریت کی روح ہیں جمہوریت ہی وہ قیمتی موتی ہے جس کی تلاش میں جس کے قیام کیلئی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی کے قیمتی سال پاکستان کے دیہات اور شہروں کے گلی کوچوں میں جد و جہد کرتے گزار دیئے وہ ایسے ایسے علاقوں میں گئے جہاں پہلے کوئی لیڈر کوئی حکمران نہیں گیا تھا اور پھر جمہوریت کی خاطر ہی انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا وہ جو تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں انہیں جب احساس ہوتا ہے کہ ان کی فانی زندگی کا تسلسل ان کے جسمانی وجود کی بقا ان کے اصولوں کی برقراری میں اتنی مدد نہیں کر سکتے ہیں جتنی موثر ان کی جان کی قربانی کر سکتی ہے تو ایسے لوگ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی موت میں ہی قوم کی حیات ہے۔ یہ سچ ہے کہ بھٹو شہید نے انتہائی کم عرصے میں بڑے عظیم کارنامے انجام دئیے جن کی بدولت پاکستان کے عوام کے دلوں پر آج بھی انکی حکمرانی ہے اور صدیوں تک رہے گی۔ عوام کے سچے اور کھرے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کے لیے جدوجہد کی اور پاکستانی سیاست کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ سیاست کو عبادت کا درجہ دینے والے ذوالفقار علی بھٹو نے صدر ایوب کے دور میں وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے کر عوام سے رجوع کر کیا۔ ملک گیر دورے کے دورا ن شہر شہر نگر نگر عوامی رابطہ مہم چلائی اور عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے 30نومبر1967 ء کو لاہور میں پاکستان پیپلز پار ٹی کی بنیا د ر کھ دی۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر قائم کی جا نے وا لی پیپلز پارٹی کی جڑیں عوام کے دلو ں میں پیوست ہوئیں اور چاروں صوبوں کو وحدت کی لڑ ی میں پرو نے والی پہلی سیا سی جماعت کے وطن پر ست رہنمائوں نے عوامی شعور اور قومی ترقی کا انقلاب بر پاکر دیا۔ افسوس ناک آمر یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4اپریل 1979ء کی صبح راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی انھیں نواب محمد احمد خان کے قتل کے متنازع مقدمے میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سزائے موت دی گئی، جسے ایک ’’ سیاسی قتل‘‘ ، اور عدالتی تاریخ کا سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ انہیں گڑھی خدا بخش میں دفن کیا گیا۔ عدالت کے اس فیصلے کو عالمی اور ملکی سطح پر سیاسی انتقام قرار دیا گیا، مارچ 2024ء میں سپریم کورٹ آ ف پاکستان نے اعتراف کیا کہ بھٹو کے ٹرائل میں منصفانہ عدالتی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تھے۔
سید مشرف کاظمی







