Column

مشرق وسطیٰ کو آگ میں جھونکنے والی امریکہ اور اسرائیل کی خطرناک پالیسیاں

مشرق وسطیٰ کو آگ میں جھونکنے والی امریکہ اور اسرائیل کی خطرناک پالیسیاں
کالم نگار: غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا کے سیاسی افق پر اس وقت جو سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں، وہ صرف کسی ایک خطے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی گونج عالمی سطح پر بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتا ہوا فوجی تنازع ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر نیا قدم پچھلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں، خاص طور پر ایران کے خلاف تیز ہونی والی فوجی حکمت عملیاں، نہ صرف خطے کی صورتحال کو سنگین بنا رہی ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنجیدہ خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صرف تازہ ترین واقعات تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے پس منظر میں موجود طویل تاریخی، سیاسی اور سٹریٹجک عوامل کا جائزہ لیا جائے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہی ہے، جہاں تیل کے وسائل، سمندری راستے اور جغرافیائی اہمیت کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی افرا تفری براہِ راست عالمی معیشت اور سیاسی استحکام پر اثر انداز ہوتی ہے۔
امریکہ کی پالیسی طویل عرصے سے اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے پر مرکوز رہی ہے، جبکہ اسرائیل اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جارحانہ حکمت عملیاں اختیار کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ پالیسیوں نے کئی مواقع پر ایسے فیصلے جنم دئیے ہیں جو خطے میں تنازع کو کم کرنے کی بجائے بڑھاتے رہے ہیں۔ ایران کے خلاف موجودہ کارروائیاں بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔
جب جدید جنگی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہتے۔ بنکر بسٹر بم، ڈرون حملے اور میزائلوں کا استعمال انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام اور شہری زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ عام لوگ، جو کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں ہوتے، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے گھر، روزگار اور مستقبل سب کچھ اس تباہی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
ایران کے ردعمل کو بھی اس پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ جب کسی ملک کو لگے کہ اس کی خودمختاری خطرے میں ہے تو وہ دفاع کے لیے سخت اقدامات اٹھاتا ہے۔ اسرائیل پر میزائل حملے اسی ردعمل کا حصہ ہیں، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے، جہاں ہر حملہ ایک نئے حملے کو جنم دیتا ہے اور امن کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
لبنان کے محاذ پر بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جاری کشیدگی اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر یہ محاذ مکمل طور پر کھلتا ہے تو یہ تنازع ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس میں کئی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔
سمندری راستوں کی صورتحال بھی انتہائی حساس ہے۔ تیل بردار جہازوں پر حملے عالمی تجارت کے لیے بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔ جب ایسے حملے بڑھتے ہیں تو صرف تیل کی فراہمی متاثر نہیں ہوتی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور معاشی بحران ایسے حالات کے قدرتی نتائج ہیں۔
اس پوری صورتحال میں عالمی اداروں کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے۔ اقوامِ متحدہ سمیت کئی ادارے امن قائم رکھنے کے لیے وجود میں آئے، لیکن جب بڑی طاقتیں خود تنازع کا حصہ بن جائیں تو ان اداروں کی اثر پذیری کم ہو جاتی ہے۔ قراردادیں اور بیانات جاری ہوتے ہیں، لیکن عملی سطح پر کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی اہم ہے۔ ایک طرف مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، دوسری طرف عالمی دبا اور سفارتی تقاضے۔ ایسے حالات میں متوازن اور سمجھدار پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ملک اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے اور کسی بڑے تنازع کا حصہ بننے سے بچ سکے۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جنگوں کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ تعلیمی نظام، صحت کی سہولیات، معاشی ترقی، سب متاثر ہوتی ہیں۔ جنگ کے بعد بحالی کا عمل سالوں تک جاری رہتا ہے اور کئی ممالک کے لیے یہ عمل مکمل کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ پالیسیاں عالمی سطح پر ایک مثال قائم کرتی ہیں۔ اگر طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کریں تو دیگر ممالک کے لیے بھی ایسے رویے کو اختیار کرنے کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ اس سے عالمی نظام میں بے ترتیبی بڑھتی ہے، جو بالآخر سب کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
آج کی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی، تجارت اور رابطے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، وہاں کسی بھی خطے میں تنازع پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارتی راستے اختیار کیے جائیں۔ بات چیت، معاہدوں اور باہمی احترام کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں فیصلے انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر طاقت کا استعمال جاری رہا تو اس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں جو جنگ کی بجائے امن کی طرف لے جائے۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو تنازع کو بڑھاتی ہیں، اور ان کو بھی جو امن قائم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button