Column

راستی اور راستہ

راستی اور راستہ
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسانی زندگی ایک ایسی شاہ راہ ہے جہاں سانسوں کی آمد و رفت، قدموں کی چاپ بن کر سنائی دیتی ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ متحرک ہے اور اس حرکت کا ایک ہی نام ہے:’’ سفر‘‘۔ اس سفر کے لیے ایک راستہ درکار ہوتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر راستہ منزلِ مقصود تک نہیں لے جاتا۔ کچھ راستے سراب کی مانند ہیں جو پیاسے کو تپتے صحرائوں میں بھٹکا دیتے ہیں، کچھ شاہ راہیں گمراہی کی دلدل میں اتار دیتی ہیں، اور کچھ پگڈنڈیاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر دشوار گزار نظر آتی ہیں مگر ان کا اختتام ربِ کائنات کی رضا پر ہوتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا:
آگہی کی منزل سے لوٹ جائیں ہم کیسے
اس جگہ نہیں جائز دیکھنا پلٹ کر بھی
یہ شعر اس کائناتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب انسان کے باطن میں شعور کی شمع روشن ہو جائے اور اسے حق کی جھلک دکھائی دے، تو اس کے لیے جہالت کے اندھیروں کی طرف واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان محض ایک ’’ راہ گیر‘‘ نہیں رہتا، بلکہ وہ ’’ سالکِ راستی‘‘ بن جاتا ہے۔
کتابِ ہدایت نے انسانیت کو جس دعا کی تلقین کی ہے، وہ ہے: ’’ ہمیں سیدھا راستہ دکھا دے ( دکھاتا رہ اس پر چلاتا رہ، اس پر قائم رکھ)‘‘۔ یہاں اللہ تعالیٰ سے صرف ’’ راستہ‘‘ نہیں مانگا گیا، بلکہ ’’ سیدھا راستہ‘‘ یعنی’’ راستی‘‘ مانگی گئی ہے۔ راستہ تو وہ بھی ہے جس پر مغضوب اور گمراہ لوگ چل رہے ہیں، لیکن دعا اس راستے کی ہے جو واضح، ہموار اور حق پر مبنی ہو، وہ راستہ جو انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہے۔
اور اسی دعا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رفیق راہ کی پہچان بھی بتائی: ’’ یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو، اور تیرے رفیق راہ بھی اسی پر ہیں‘‘۔ یہ واضح کرتا ہے کہ راستی صرف انسان کی اپنی جستجو یا عقل سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی رہنمائی کے ذریعے ہی مکمل اور پائیدار ہوتی ہے۔ اللہ و رسول ؐ کا راستہ وہ معیار ہے جس پر چل کر انسان ہدایت یافتہ بنتا ہے اور اپنے کردار، نیت اور عمل میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اللہ و رسولؐ کا راستہ ہی راستی ہے۔
راستہ انسان کی عملی اور جسمانی سمت ہے، جس پر وہ اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کرتا ہے، جبکہ راستی اس راستے کی روح ہے، وہ باطنی کیفیت جس میں دل، زبان اور عمل ہم آہنگ ہوں۔ نبیؐ نے فرمایا کہ ’’ دین آسان ہے‘‘۔ راستی انسان کی فطرت کے مطابق ہے۔ جب انسان جھوٹ بولتا ہے یا ظلم کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی فطرت کے خلاف عمل کر رہا ہوتا ہے۔ راستی پر چلنے والا شخص اپنی اندرونی جنگ سے نجات پاتا ہے اور سکونِ قلب حاصل کرتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: ’’ حق کو پہچانو، اہلِ حق خود پہچان میں آ جائیں گے‘‘، ’’ حق کی پہچان شخصیتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ حق کو پہچانو تو اس کے ماننے والوں کو خود پہچان لو گے‘‘۔
یہ اصول انسان کو شخصیت پرستی کی غلامی سے نکال کر اصول پرستی کی آزادی عطا کرتا ہے۔ اکثر لوگ افراد کے پیچھے چل کر گمراہ ہو جاتے ہیں، لیکن جو شخص راستی ( حق کے اصولوں) کو معیار بنا لیتا ہے، وہ کبھی دھوکہ نہیں کھاتا۔ مفسر قرآن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب انسان اصولوں کو معیار بناتا ہے، تو اسے قرآن کی ہدایت کو سمجھنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔ اس فرمان کو سن کر ان کا کہنا کتنا بامعنی ہے کہ اس کے بعد حق کی پہچان میں مجھے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی۔
یہ تصریح اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ راستی اصول پرستی اور اللہ و رسولؐ کی رہنمائی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ راستی کی چند نمایاں خصوصیات ہیں: اللہ کی وحدانیت پر مبنی توحیدِ کامل، عدل و اعتدال، اخلاقی بلندی، اور قول و فعل میں یگانگت۔ جھوٹ، حسد، بغض اور تکبر سے پاک انسان کا کردار دوسروں کے لیے سایہ دار درخت کی مانند ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں راستی کا دارومدار نیت پر ہے۔
’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔
اگر کوئی شخص بظاہر نیکی کے راستے پر چل رہا ہے، نمازیں پڑھ رہا ہے یا خیرات کر رہا ہے، لیکن اس کی نیت میں دکھاوا یا کوئی دنیاوی مفاد چھپا ہے، تو وہ ’’ راستے‘‘ پر تو ہے مگر ’’ راستی‘‘ سے محروم ہے۔
نفس کی تین حالتیں ہیں: نفسِ امارہ جو برائی پر اکساتا ہے، نفسِ لوامہ جو گناہ پر ملامت کرتا ہے، اور نفسِ مطمئنہ جو حق اور رضا الٰہی پر سکون پا لیتا ہے۔ راستی، نفسِ لوامہ سے گزر کر نفسِ مطمئنہ تک پہنچنے کا عمل ہے۔ انسان جب اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام کے تابع کر دیتا ہے، تو وہ راستی کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔
راستی کا بنیادی ستون سچائی ہے۔ سچائیِ حال یعنی ہر حال میں عدل و انصاف پر قائم رہنا۔
نبیؐ نے فرمایا کہ ’’ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے‘‘۔
اس طرح سچائی، نیکی اور جنت ایک متصل سلسلہ بناتے ہیں۔
راستی کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ نفسانی خواہشات، حبِ دنیا، معاشرتی دبا، اور باطل نظریات اس راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ’’ خواہشات عقل کو اندھا کر دیتی ہیں‘‘۔
راستی پر قائم رہنا، خوف اور غم سے آزادی دیتا ہے۔
قرآن میں آیا ہے: ’’ بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ تم خوف کرو اور نہ غمگین ہو‘‘َ
انسانی زندگی کا اصل مقصد محض منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ درست راستے پر چلتے ہوئے خود کو راستی کا پیکر بنانا ہے۔ راستہ انسان کو چلنا سکھاتا ہے، جبکہ راستی انسان کو جینا سکھاتی ہے۔ آگہی اور شعور کی روشنی انسان کو ایک چراغ بناتی ہے، جو ہزاروں چراغ روشن کرتا ہے۔ اللہ و رسولؐ کا راستہ اختیار کرنا، راستی کا سب سے مستحکم اور پائیدار معیار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں فتن دور میں راستی کا سالک بنائے، آمین۔

جواب دیں

Back to top button