چین میں پاک، افغان مذاکرات

چین میں پاک، افغان مذاکرات
چین کے شہر ارومچی میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان ہونے والا حالیہ سہ فریقی اجلاس بلاشبہ خطے میں ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ ایسے وقت میں جب علاقائی کشیدگیاں، سیکیورٹی چیلنجز اور باہمی بداعتمادی اپنے عروج پر ہیں، یہ ملاقات اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ متعلقہ ممالک اب بھی سفارت کاری اور مکالمے کو مسائل کے حل کا موثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا ہے اور اس اجلاس میں اس کا کردار اسی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ افغانستان کی موجودہ صورت حال نہ صرف اس کے اپنے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔ دہائیوں سے جاری عدم استحکام، سیاسی غیر یقینی اور سیکیورٹی خدشات نے افغانستان کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہوجاتا ہے، جو نہ صرف ایک پڑوسی ملک ہے بلکہ افغان عوام کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط بھی رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کیا ہے اور ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہاں استحکام آئے۔ ارومچی اجلاس میں چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ خطے میں امن و ترقی کے لیے سنجیدہ ہے۔ چین کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ اس کے مغربی سرحدی علاقے پُرامن رہیں اور علاقائی تجارت، خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے منصوبے بلارکاوٹ جاری رہیں۔ تاہم، اس تمام سفارتی پیش رفت کے باوجود اصل امتحان زمینی حقائق پر بہتری لانا ہے۔ پاکستان نے اس اجلاس میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے مگر دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ ایک اصولی اور جائز موقف ہے۔ کسی بھی خودمختار ریاست کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ اس کے خلاف ہمسایہ ملک کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو۔ بدقسمتی سے، حالیہ برسوں میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگاکر دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ایک بڑا اور موثر اقدام کیا ہے۔ 2640 کلومیٹر طویل اس سرحد کی حفاظت کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اس ذمے داری کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس کے برعکس، افغان عبوری حکومت کی جانب سے بارہا ایسے بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں جو نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ وزارت اطلاعات کی جانب سے طالبان رجیم اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے متعلق دعوں کو مسترد کرنا بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈے اور من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ اگر واقعی خطے میں استحکام لانا مقصود ہے تو تمام فریقین کو سچائی، شفافیت اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ اب بھی خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہزاروں جانیں گنوائی ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ ایسے میں یہ توقع کرنا بالکل جائز ہے کہ ہمسایہ ملک بھی اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں گے۔ افغانستان کی عبوری حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ایسے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ارومچی میں ہونے والا سہ فریقی اجلاس ایک نئے آغاز کی علامت ضرور ہے، مگر اس کی کامیابی کا دارومدار عملی اقدامات پر ہے۔ محض بیانات اور اعلانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے لیے سنجیدہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ ہے اور ہر مثبت قدم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ تاہم، یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگر ایک طرف مذاکرات کی میز سجائی جارہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رہیں گی، کیونکہ یہی ایک ذمے دار ریاست کا تقاضا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خطے کا مستقبل باہمی تعاون، اعتماد اور ذمے داری کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ چین کی ثالثی، پاکستان کی سنجیدگی اور افغانستان کی عملی اقدامات کی آمادگی اگر ایک نقطے پر آ جائیں تو نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پورا خطہ امن، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے ہر صورت روکے، کیونکہ یہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان سمیت دنیا کے دیگر درآمدی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں آئندہ ہفتے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر 100روپے فی لٹر سے زائد اضافے کی خبریں عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاملات اس بحران کو مزید پیچیدہ بنارہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈی پر تحفظات اور عالمی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ ایک حقیقت پسندانہ مگر سخت شرط ہے۔ دوسری طرف حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر فوری بوجھ نہ ڈالا جائے، جس کے تحت ترقیاتی بجٹ سے سبسڈی دے کر وقتی ریلیف فراہم کیا گیا۔ تاہم، یہ حکمت عملی زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کو مسلسل سبسڈی میں منتقل کرنا معیشت کے طویل المدتی مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے حالیہ دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کی تجاویز مسترد کرنا ایک عوام دوست اقدام ضرور ہے، مگر یہ بھی واضح ہے کہ ایسے فیصلے محض وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ممالک، جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، عالمی منڈی میں اتار چڑھائو کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ جب تک توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی پیداوار اور موثر پالیسی سازی پر توجہ نہیں دی جاتی، ایسے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ حکومت کو اس نازک مرحلے پر نہایت متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ایک طرف آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے تاکہ مالیاتی استحکام برقرار رہے، تو دوسری جانب عوام کو مکمل طور پر مہنگائی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں۔ اس ضمن میں ٹارگٹڈ سبسڈی، کم آمدنی والے طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکیجز اور توانائی کے متبادل ذرائع پر فوری سرمایہ کاری جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ وقت جذباتی فیصلوں کا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کا ہے۔ اگرچہ عالمی حالات پاکستان کے کنٹرول میں نہیں، مگر ان کے اثرات کو کم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔ عوام کو ریلیف دینا ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہی توازن پاکستان کو اس مشکل صورت حال سے نکال سکتا ہے۔





