خوشحال کسان، مضبوط معیشت

زرا سوچئے
خوشحال کسان، مضبوط معیشت
امتیاز احمد شاد
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، مگر بدقسمتی سے اسی زراعت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی کسان سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہے۔ کسان وہ طبقہ ہے جو دن رات محنت کرکے زمین سے سونا اگاتا ہے، مگر خود اس کی زندگی مشکلات اور محرومیوں سے بھری ہوتی ہے۔ دھوپ کی تپش ہو یا سردی کی شدت، بارش ہو یا خشک سالی، کسان ہر موسم میں اپنی زمین سے جڑا رہتا ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر کھیتوں کا رخ کرتا ہے، اپنی محنت، وقت اور وسائل لگا کر فصلیں اگاتا ہے تاکہ نہ صرف اپنے گھر کا چولہا جلائے بلکہ پورے ملک کی غذائی ضروریات بھی پوری کرے۔ مگر افسوس کہ جب فصل تیار ہوتی ہے تو اسے اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔
پاکستان میں کسان کو سب سے بڑا مسئلہ اپنی فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے کا ہے۔ جب وہ بیج بوتا ہے تو اس وقت اسے کھاد، بیج، زرعی ادویات اور پانی پر بھاری اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔ آج کے دور میں کھاد اور سپرے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ ڈیزل اور بجلی کے نرخ بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس سے ٹیوب ویل چلانا اور زمین کو سیراب کرنا مزید مہنگا ہو چکا ہے۔ کسان اپنی جمع پونجی لگا دیتا ہے، بعض اوقات قرض بھی لیتا ہے، اس امید پر کہ فصل تیار ہونے پر اسے اچھا منافع ملے گا۔ مگر جب وہ اپنی گندم یا دیگر فصلیں مارکیٹ میں لے کر جاتا ہے تو اسے ایسے نرخ دئیے جاتے ہیں جو اس کی لاگت بھی پوری نہیں کر پاتے۔
خاص طور پر گندم کی فصل، جو پاکستان کی بنیادی غذائی ضرورت ہے، ہر سال کسان کے لیے ایک آزمائش بن جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے سپورٹ پرائس مقرر کی جاتی ہے، مگر اکثر اوقات یا تو اس پر صحیح عملدرآمد نہیں ہوتا یا کسان کو اپنی فصل سرکاری مراکز تک پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیوپاری اور مڈل مین اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور کسان سے کم قیمت پر گندم خرید کر بعد میں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ یوں اصل منافع کسان کے بجائے مڈل مین کی جیب میں چلا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کسان کو موسمی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے۔ کبھی بارشیں وقت پر نہیں ہوتیں، کبھی سیلاب آجاتا ہے، کبھی شدید گرمی فصل کو جلا دیتی ہے تو کبھی ژالہ باری ساری محنت برباد کر دیتی ہے۔ ان تمام خطرات کے باوجود کسان ہمت نہیں ہارتا اور ہر سال نئی امید کے ساتھ فصل اگاتا ہے۔ مگر جب حکومت اور مارکیٹ دونوں اس کے ساتھ انصاف نہ کریں تو اس کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں۔
پاکستان میں زرعی پالیسیوں کی کمزوری بھی کسان کے مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، اور سائنسی طریقہ کار تک کسان کی رسائی محدود ہے۔ چھوٹے کسان تو خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں۔ وہ نہ تو مہنگے زرعی آلات خرید سکتے ہیں اور نہ ہی جدید طریقوں سے اپنی پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی فصل کی پیداوار بھی کم رہتی ہے اور آمدنی بھی۔
ایک اور اہم مسئلہ کسان کی مالی حالت کا ہے۔ زیادہ تر کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ وہ بینکوں یا نجی قرض دہندگان سے رقم لیتے ہیں اور پھر فصل خراب ہونے یا کم قیمت ملنے کی صورت میں قرض واپس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ صورتحال اتنی سنگین ہو جاتی ہے کہ کسان ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کے حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ سب سے پہلے تو گندم اور دیگر فصلوں کی مناسب سپورٹ پرائس مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ کسانوں سے براہ راست خریداری کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ مڈل مین کا کردار کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر سبسڈی دی جائے تاکہ کسان کے اخراجات کم ہو سکیں۔
زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ بھی بہت ضروری ہے۔ کسانوں کو تربیت فراہم کی جائے، انہیں جدید طریقہ کاشتکاری سے روشناس کرایا جائے اور انہیں آسان شرائط پر زرعی آلات فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہو سکے۔
مزید برآں، کسانوں کے لیے انشورنس سکیمیں متعارف کرائی جائیں تاکہ اگر کسی قدرتی آفت کی وجہ سے فصل تباہ ہو جائے تو انہیں مالی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔ اس سے کسان کا اعتماد بڑھے گا اور وہ زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ کام کرے گا۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کسان کو مضبوط بنانا ہوگا۔ کسان خوشحال ہوگا تو زراعت ترقی کرے گی، اور جب زراعت ترقی کرے گی تو ملک کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، پالیسی ساز اور معاشرے کے تمام طبقات کسان کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ کیونکہ جو ہاتھ ہمیں کھانا فراہم کرتے ہیں، ان ہاتھوں کو مضبوط کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔





