CM RizwanColumn

یاہو، ٹرمپ کی گارنٹی کون دے گا؟

جگائے گا کون؟
یاہو، ٹرمپ کی گارنٹی کون دے گا؟
تحریر: سی ایم رضوان
ظاہر سی بات ہے کہ جس شخص کی زبان اور عہد و پیمان کا کوئی یقین نہ ہو وہ نہ صرف بالآخر خود بھی ذلیل اور نامراد ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے ساتھ منسلک دیگر لوگوں اور خیر خواہوں کو بھی ذلیل کروا دیتا ہے چاہے وہ دنیا کی سپر پاور کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔ اور دنیا کی بدقسمتی اور بدنصیبی ملاحظہ ہو کہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ پر ایک ایسا شخص مسلط ہو گیا ہے جس کو کسی بھی حوالے سے معقول اور قابل اعتبار انسان نہیں کہا جا سکتا۔ اس شخص کی وجہ سے نہ صرف امریکی عوام کی اکثریت کی رائے کی تذلیل ہو گئی ہے بلکہ جمہوریت جیسے عالمگیر نظام حکومت پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں کہ اگر ٹرمپ یا عمران خان جیسے شخص کو بہت زیادہ ووٹ ڈال کر اقتدار پر بٹھا دیا جائے تو اس جمہوریت کا کیا نقصان ہوتا ہے جس کے تحت اکثریت کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ اگر آج یہ کہا جائے کہ کسی بھی گدھے یا الو کو زیادہ ووٹ دے دیئے جائیں تو بھی اس کی خصلت نہیں بدلتی۔ جس طرح کہ ٹرمپ نے آج اپنی خصلت یہ دکھائی ہے کہ ایران اسرائیل جنگ شروع کروا کر دنیا بھر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پچھلے ایک مہینے سے جاری اس خوفناک اور خطرناک جنگ کے خاتمہ کے لئے بالآخر اب پاکستان، مصر اور ترکی وغیرہ کی ثالثی یا سہولت کاری کے تحت متوقع ایران، امریکہ مذاکرات کی کامیابی کے امکانات مبہم طور پر واضح ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ اب پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے لئے بڑے سفارتی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی بھی پیشکش کی ہے، جسے شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ چینی حکومت اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ ایران اور امریکہ نے بھی پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران خاص طور پر ایرانی اسٹیبلشمنٹ یعنی پاسداران انقلاب کو مذاکرات کی میز پر لانے یا جنگ بندی پر مشروط طور پر آمادہ کرنے کے لئے پاکستان کی جانب سے اسحاق ڈار گزشتہ روز چین کے دورے پر بھی گئے تھے تاکہ چین کو اس امر پر آمادہ کیا جائے کہ وہ ایران کو جنگ بندی پر بات چیت کے تیار کرے۔ واضح رہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ہاتھ میں ایران کی اصل عسکری و ریاستی طاقت ہے اور پاسداران انقلاب کے فیصلے ہی دراصل ایرانی ریاست اور عوام کی تقدیر اور مستقبل کا فیصلہ کرتے اور رخ متعین کرتے ہیں جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کے چین کے ساتھ گہرے روابط، باہمی اعتماد اور دوستی کا تعلق ہے کیونکہ چین ایران کا زیادہ تر تیل انہی پاسداران انقلاب کے ساتھ ڈیل کے تحت خرید کرتا ہے اور چین ایک طرح سے ایران کا سٹریٹجک پارٹنر بھی ہے۔ لہٰذا چین ایران کو کسی بھی امر کے لئے نہ صرف آمادہ کر سکتا ہے بلکہ ایران کی جانب سے ہر حوالے سے گارنٹی اور ضمانت بھی دے سکتا ہے اور چین کی کسی بھی گارنٹی اور وعدے پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس نے دنیا میں اپنا اعتماد بنایا ہوا ہے وہ جو بات کرتا ہے اس پر پورا اترتا ہے لیکن سوال پھر بھی وہی ہے جو کہ ایران بار بار کر رہا ہے کہ قبل ازیں مذاکرات کے نام پر دھوکہ کر کے ایران پر جنگ مسلط کرنے والے ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کیا اعتبار کہ وہ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا دھوکہ دے کر یا کسی معاہدے پر جنگ بندی کروا کر دوبارہ جنگ شروع کروا دیں۔
جہاں تک ان مذاکرات سے قبل دونوں فریقوں کے مطالبات اور شرائط کا تعلق ہے تو امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے۔ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، میزائلوں کی تعداد کو کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مطالبات شامل ہیں جبکہ ٹرمپ کی تازہ قلابازی کے تحت وہ آبنائے ہرمز کو جنگ بندی کی شرائط سے خارج کر چکا ہی اور اس بات کا عندیہ دے چکا ہے البتہ بعد ازاں وہ ایران پر سفارتی دبائو بڑھا کر آبنائے ہرمز کھلوانے کی کوشش کر لے گا۔ یعنی اس شرط سے ہٹ کر وہ دنیا کو ایک بحران سے مسلسل دوچار رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آ رہا ہے۔ جبکہ ایران نے بھی اپنی شرائط واضح کی ہیں، جن میں امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے جوہری پروگرام کی حفاظت اور آبنائے ہرمز پر ایرانی خود مختاری کا اعتراف شامل ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکی نے دنیا کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر مذاکرات کی حمایت کی ہے اور اس بحران کے حل کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ان مذاکرات کے لئے دونوں فریقوں کے مطالبات اور شرائط سے ہٹ کر بھی مذاکرات کی کامیابی کے لئے چند شرائط ہونی چاہیے۔ ایک یہ کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنا ہوگا، خاص طور پر یورینیم کی افزودگی کے معاملے میں۔ اور جو یورینیئم اگر اس نے افزود کیا ہے تو وہ بغیر تلاشی اور کسی تادیبی کارروائی کے خود بخود امریکا کے حوالے کر دے۔ مذاکرات کی یہ بھی شرط ہونی چاہیے کہ امریکہ کو ایران پر عائد پابندیوں کو ختم کرنا ہو گا، تاکہ ایران اپنی معیشت کو بہتر بنا سکے۔ ایک شرط یہ بھی ہونا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے ایران اور امریکہ کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہو گا۔ مذاکرات کی کامیابی کے لئے بین الاقوامی خاص طور پر چین، روس، اور یورپی یونین کی حمایت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع ایک پیچیدہ اور حساس جھگڑا ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، فلسطینی تحریک، اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن شامل ہیں۔ خاص طور پر ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ وہ اسے اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس سے پہلے بھی اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لئے کئی بار فوجی کارروائی کی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جو لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پاکستان اس معاملے میں خدائی خدمت گار کیوں بنا ہوا ہے تو ان کے لئے عرض ہے کہ پاکستان کے لئے یہ تنازع ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے، لیکن وہ اسرائیل کو پہلے دن سے ہی نہ تو تسلیم کرتا ہے نہ کرے گا لیکن پاکستان ساتھ ہی ساتھ خطے میں امن اور بقائے باہمی کا بھی خواہاں ہے۔ وہ اپنی سرحدوں کے ایران کے ساتھ منسلک ہونے کے حوالے سے بھی جائز تحفظات رکھتا ہے۔ یہ بھی طے شدہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اگر تیل کی قیمت 75ڈالر فی بیرل ہوتی ہے تو پاکستان کے کرنٹ اکائونٹ خسارے میں 2.3ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ یہ تنازع پاکستان کی سکیورٹی اور سیاسی استحکام پر بھی اثرات ڈال سکتا ہے، خاص طور پر بلوچستان میں۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں بھی توازن برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس تنازع کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ اس کے لئے پاکستان ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے بغیر جنگ بندی کے امکان کا خدشہ ہے، تو اس سے واضح ہے کہ اس آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی ایندھن کا ایک بحران پیدا ہوا ہے۔ تاہم، کچھ جہاز اب بھی آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن یہ کوئی مستقل سہولت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف پاکستان، ترکی مصر وغیرہ ہی یہ راستہ بلاتاخیر کھلوانے کے لئے کوشاں نہیں بلکہ اس کے لئے فرانس اور برطانیہ نے 30ملکوں کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہوا ہے۔ کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیلی گزر گاہ ہے۔ یہاں سے روزانہ تقریباً 21ملین بیرل تیل گزرتا ہے، جو عالمی تیل کی تجارت کا 20فیصد ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو، تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑیں گے۔ چین، جاپان، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک بھی اپنی توانائی کی ضروریات کے لئے اسی راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جبکہ ایران نے جنگی حکمت عملی کے تحت آبنائے ہرمز مستقل بند کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے، جس کے جواب میں امریکہ اور اس کے اتحادی اس راستے کو کھلا رکھنے کے خواہاں ہیں۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش پاکستان کی معیشت پر بھی شدید اثرات ڈال سکتی ہے، کیونکہ پاکستان اپنی 90فیصد تیل اور ایل این جی گیس کی درآمدات اسی راستے سے کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان میں مہنگائی، درآمدی بل، اور کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان کا تیل کی درآمدات کا ماہانہ بل 384 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، اور سالانہ کرنٹ اکائونٹ سرپلس 4.6ارب ڈالر خسارے میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ اب جبکہ امریکہ ایران مذاکرات کی ابتداء کی امید ہے تو سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے عالمی فسادیوں کی گارنٹی کون دے گا؟

جواب دیں

Back to top button