Aqeel Anjam AwanColumn

صحافت کی بدلتی دنیا اور پرنٹ میڈیا کا زوال

صحافت کی بدلتی دنیا اور پرنٹ میڈیا کا زوال!!!!
عقیل انجم اعوان
یہ زمانہ رفتار کا زمانہ ہے اطلاعات کی دنیا میں وہی زندہ رہتا ہے جو تیز تر ہو، جو بدلتے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرے اور جو آنے والے کل کی دھڑکن کو آج ہی محسوس کر لے۔ صحافت بھی اسی اصول کے تابع ہے۔ ایک وقت تھا جب اخبارات کی سرسراہٹ صبح کی فضا میں گھلتی تھی تو یوں لگتا تھا جیسے پورا معاشرہ ایک ہی صفحے پر سانس لے رہا ہو۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی ٹیکنالوجی نے اپنی گرفت مضبوط کی اور وہ لوگ جو کل تک خبر دینے والے تھے آج خود حالات کے رحم و کرم پر آ گئے۔ برٹلس جیسے افراد اس بدلتی دنیا کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ وہ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے بیورو چیف رہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کا نام خبر کی صداقت اور رفتار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ برٹلس نے اپنی زندگی کے کئی برس اس ادارے کے ساتھ گزارے جہاں ان کی ذمہ داری صرف خبر دینا نہیں بلکہ خبر کی سمت متعین کرنا بھی تھی۔ ان کے فیصلوں پر عالمی میڈیا کی نظریں ہوتی تھیں مگر وقت کا پہیہ جب پلٹا تو وہی شخص معاشی دبائو کا شکار ہو کر ٹیکسی چلانے پر مجبور ہو گیا۔ یہ کسی ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے اندر پیدا ہونے والی دراڑوں کی نشاندہی ہے۔ یہ سوال خود بخود جنم لیتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ کیا یہ صرف ٹیکنالوجی کی یلغار تھی یا اس کے پیچھے خود پرنٹ میڈیا کی اپنی کمزوریاں بھی شامل تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا بدل رہی تھی اخبارات کی دنیا اپنے ماضی کے خول میں بند رہی۔ وہی روایتی انداز، وہی سست رفتار خبریں، وہی ادارتی ڈھانچہ اور وہی سوچ کہ قاری ہمیشہ اسی طرح اخبار خرید کر پڑھے گا جیسے دہائیوں سے پڑھتا آیا ہے۔ مگر قاری بدل چکا تھا اس کے ہاتھ میں موبائل تھا اس کی آنکھ اسکرین پر تھی اور اس کی انگلی ایک لمحے میں دنیا بھر کی خبروں تک رسائی حاصل کر سکتی تھی۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ اخبار کاغذ کے چند صفحات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل دستاویز ہوتا ہے۔ اس میں شائع ہونے والی خبر تحقیق، تصدیق اور ادارتی ذمہ داری کے مراحل سے گزر کر سامنے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں عدالتیں بھی اخباری رپورٹس کو بطور بنیاد تسلیم کرتی رہی ہیں۔ کئی مقدمات میں اخبارات کی رپورٹس پر از خود نوٹس لیے گئے تحقیقات شروع ہوئیں اور فیصلے صادر ہوئے۔ یہ وہ مقام ہے جو سوشل میڈیا آج تک حاصل نہیں کر سکا کیونکہ وہاں خبر کی تصدیق کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ۔ مگر اس کے باوجود سوشل میڈیا نے اس قدر تیزی سے جگہ بنائی کہ پرنٹ میڈیا اس کے سامنے بے بس دکھائی دینے لگا۔ اب ہر شخص خود ایک چھوٹا صحافی بن چکا ہے۔ وہ ویڈیو بنا سکتا ہے، تصویر کھینچ سکتا ہے اور چند سیکنڈ میں اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ اس تیزی کی سامنے اخبار کی سست رفتار اشاعت اپنی کشش کھو بیٹھی۔ جب ایک خبر سوشل میڈیا پر چند منٹ میں پھیل جاتی ہے تو اگلے دن اخبار میں اس کا چھپنا قاری کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ پرنٹ میڈیا کی اصل طاقت اس کی ساکھ تھی۔ لوگ اخبار کو اس لیے پڑھتے تھے کہ وہ تصدیق شدہ خبر دیتا ہے اس میں تحقیق ہوتی ہے اور اس کی ہر سطر ذمہ داری کے ساتھ لکھی جاتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ معیار بھی متاثر ہوا۔ مقابلے کی دوڑ میں بعض اداروں نے جلد بازی کو ترجیح دی تحقیق کا معیار گرا اور سنسنی خیزی نے جگہ بنا لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اعتماد جو برسوں میں قائم ہوا تھا آہستہ آہستہ کمزور پڑ گیا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا نے اپنی الگ دنیا بنا لی۔ یہاں رفتار سب کچھ ہے یہاں خبر کی تصدیق سے زیادہ اس کی پھیلائو کی صلاحیت اہم ہے اور یہاں ہر وہ چیز مقبول ہے جو توجہ حاصل کرے۔ اس ماحول میں پرنٹ میڈیا کی سنجیدگی اور ٹھہرائو ایک بوجھ محسوس ہونے لگا۔ قاری اب فوری ردعمل چاہتا ہے وہ تاثر کو ترجیح دیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں پرنٹ میڈیا پیچھے رہ گیا۔ اشتہارات کی دنیا نے بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک وقت تھا جب اخبارات اشتہارات سے بھرے ہوتے تھے۔ بڑی کمپنیاں اپنے اشتہارات اخبار میں دینا فخر سمجھتی تھیں کیونکہ یہ ایک معتبر پلیٹ فارم تھا۔ مگر جب ڈیجیٹل دنیا نے اشتہارات کے نئے راستے کھولے تو صورت حال بدل گئی۔ اب اشتہار دینے والا یہ دیکھتا ہے کہ کہاں کم خرچ میں زیادہ لوگوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے یہ سہولت فراہم کر دی۔ ایک چھوٹا کاروباری بھی اپنی مصنوعات کو لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اشتہارات کو ہدفی بنا دیا۔ اب کمپنی یہ طے کر سکتی ہے کہ اس کا اشتہار کس عمر کے افراد دیکھیں گے، کس شہر میں دکھایا جائے گا اور کس دلچسپی رکھنے والے افراد تک پہنچے گا۔ اس کے مقابلے میں اخبار کا اشتہار ایک عمومی دائرے میں پھیلتا ہے جس میں ایسی ہدف بندی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اشتہارات کا رخ تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف مڑ گیا۔ جب اشتہارات کم ہوئے تو اخبارات کی آمدنی متاثر ہوئی۔ اخراجات بڑھتے گئے، کاغذ مہنگا ہوتا گیا، پرنٹنگ اور ترسیل کے مسائل میں اضافہ ہوا اور آمدنی سکڑتی چلی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اخبارات نے اپنے عملے میں کمی کرنا شروع کی۔ سینئر صحافیوں کو فارغ کیا گیا، بیورو بند کیے گئے اور وہ ادارے جو کبھی صحافت کے ستون سمجھے جاتے تھے خود عدم استحکام کا شکار ہو گئے۔ برٹلس جیسے افراد اسی عمل کا شکار بنے۔ ایک ایسا پیشہ جو کبھی وقار اور استحکام کی علامت تھا اب غیر یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ جب ادارے کمزور پڑ جائیں تو ان سے وابستہ افراد کہاں جائیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج بھی بہت سے صحافی تلاش کر رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا کا زوال صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری بحران بھی ہے۔ یہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جس نے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرنے سے انکار کیا۔ اگر اخبارات بروقت ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھتے، اگر وہ اپنی پیشکش کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالتے اور اگر وہ سوشل میڈیا کو خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر قبول کرتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ مگر ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ پرنٹ میڈیا کے پاس اب بھی ایک اہم سرمایہ موجود ہے اور وہ ہے اس کی ساکھ۔ اگر یہ ادارے اپنی اصل طاقت کو پہچان لیں، تحقیق اور معیار کو دوبارہ اپنی ترجیح بنا لیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے ساتھ جوڑ لیں تو وہ دوبارہ اپنا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ دنیا کو اب بھی معتبر صحافت کی ضرورت ہے ایسی صحافت جو شور سے الگ ہو جو حقائق پر مبنی ہو اور جو معاشرے کو سمت دے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں جھوٹ اور سچ کی تمیز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں ہر خبر کی تصدیق ممکن نہیں اور یہی وہ خلا ہے جسے سنجیدہ صحافت پر کر سکتی ہے۔ اگر اخبارات اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنی پیشکش کو جدید انداز میں ڈھالیں تو وہ ایک بار پھر قاری کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کی رہنمائی کرنا بھی ہے۔ اگر یہ مقصد سامنے رکھا جائے تو راستے نکل آتے ہیں۔ برٹلس کی زندگی ایک سبق ہے کہ وقت کے ساتھ نہ بدلنے والا پیچھے رہ جاتا ہے اور جو حالات کو سمجھ کر آگے بڑھتا ہے وہی اپنی جگہ برقرار رکھتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پرنٹ میڈیا اپنے ماضی کی عظمت کو دہرانے کے بجائے اپنے مستقبل کی تعمیر پر توجہ دے۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے اور اس کے ساتھ چلنے کے لیے نئے راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ اگر یہ ادراک پیدا ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب اخبار دوبارہ اپنی اہمیت منوا لیں گے، ایک نئے انداز کے ساتھ، ایک نئی سوچ کے ساتھ اور ایک بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق۔

جواب دیں

Back to top button