پنجاب میں خواتین کی جیلیں

پنجاب میں خواتین کی جیلیں
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
قیام پاکستان سے اب تک پنجاب میں خواتین کی ایک جیل ملتان میں واقع ہے، جہاں صوبے کی مختلف جیلوں سے سزا یاب خواتین کو یہاں بھیجا جاتا ہے۔ چلیں پنجاب کی خواتین اپنی جگہ، صوبہ کے پی کے سے آنے والی خواتین کو گرفتاری کی صورت میں سینٹرل جیل راولپنڈی میں رکھا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں سزا ہونے پر خواتین کی ڈسٹرکٹ جیل ملتان بھیج دیا جاتا ہے۔ ایک صوبے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو جب دوسرے صوبے کی دور دراز جیل میں بھیجا جائے تو قیدی خواتین اور ان کے اہل و عیال پر کیا گزرتی ہو گی، جبکہ راولپنڈی سے ملتان کا سفر کم از کم سات سو کلومیٹر ہے، ایک صوبے کی خواتین کے ملاقاتیوں کو دوسرے صوبے میں پہنچے کے بعد چھ سو کلومیٹر کی مسافت طے کرنا پڑے تو سفری تھکان کے علاوہ سفری اخراجات کس قدر زیادہ برداشت کرنا پڑتے ہوں گئے۔ جیل مینوئل کے مطابق قیدیوں کو ان کے آبائی اضلاع کی قریب ترین جیلوں میں رکھنے کو کہا گیا ہے لیکن سوال ہے جب جیل ایک ہو تو خواتین قیدیوں کو سوائے ملتان بھیجے جانے کے سوا محکمہ جیل خانہ جات کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں رہ جاتا ۔ پنجاب حکومت نے صوبے کے تین بڑے شہروں فیصل آباد، لاہور اور راولپنڈی میں خواتین کی جیلوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا، جس کا کریڈٹ آئی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کو جاتا ہے، جن کے ہوتے ہوئے خواتین کی تین نئی جیلوں کی تعمیر کا منصوبہ پایہ تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔ چنانچہ اس منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ویمن جیل فیصل آباد سے ہوگا۔ فیصل آباد کی خواتین جیل بالکل تیار ہے جس میں قریبا دو سو قیدی خواتین کو رکھا جائے گا۔ لاہور میں خواتین کی نئی جیل ابھی زیر تعمیر ہے، جس میں کچھ وقت لگے گا جبکہ راولپنڈی میں دو جیلیں زیر تعمیر ہیں جن میں ایک حوالاتی مردوں کے لئے علیحدہ سے ڈسٹرکٹ جیل زیر تعمیر ہے اور ساتھ ہی خواتین کی جیل زیر تعمیر جس میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ سینٹرل جیل اڈیالہ سے ملحقہ اراضی پر دو نئی جیلوں کی تعمیر سے سینٹرل جیل پر قیدیوں کا بوجھ بہت کم ہو جائے گا، کیونکہ وفاقی دارالحکومت کی نئی جیل تعمیر کے آخری مرحلے میں جہاں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کے قیدیوں اور حوالاتیوں کو رکھا جائے گا۔ اس طرح سینٹرل جیل اڈیالہ پر قیدیوں حوالاتیوں کی تعداد معمول پر آجائے گی کیونکہ سینٹرل جیل راولپنڈی میں کل 2500قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، مگر اس وقت کم از کم سات ہزار سے زیادہ قیدی اور حوالاتی ہیں۔ راولپنڈی میں مردوں کی ضلعی جیل کے فنکشنل ہونے کے بعد سینٹرل جیل پر قیدیوں کا بوجھ بالکل ختم ہو جائے گا۔ جہاں تک خواتین کی زیر تعمیر جیل کی بات ہے راولپنڈی میں ڈسٹرکٹ جیل کے فنکنشل ہونے سے خواتین کو اپنے آبائی اضلاع سے دور دراز ملتان جیل کی کوفت سے نجات مل جائے گی۔ پنجاب حکومت نے خواتین کی جیلوں میں عملہ کی بھرتی کے لئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر میاں سالک جلال کی سربراہی میں قائم کر دی ہے جس میں ایک ڈپٹی سیکرٹری اور ایک خاتون افسر شامل ہیں۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے اتوار کے روز فیصل آباد میں خواتین امیدواروں کی دوڑ کرائی، جس میں کامیاب ہونے والی خواتین کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے۔ چنانچہ اسی طرح آئندہ آنے والے اتوار کو بھرتی کمیٹی کے ارکان راولپنڈی میں سینٹرل جیل اڈیالہ میں خواتین امیدواروں کی دوڑ کرائیں گے جس میں کامیاب ہونے والی خواتین کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے بعد کامیاب امیدواروں کا تحریری امتحان ہوگا اور کامیاب ہونے والی خواتین کو میڈیکل ٹیسٹ سے گزرنے کے بعد کامیاب امیدواروں کو تقرری نامے جاری کئے جائیں گے۔ ہمارے مشاہدات کے مطابق جیلوں میں نوجوان لڑکوں کو بطور وارڈر بھرتی کیا جاتا ہے، لیکن چند ماہ بعد ان کی بہت بڑی تعداد ملازمت چھوڑ کر دوسرے محکموں میں چلی جاتی ہے۔ سوال ہے آخر کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا نوجوان ملازمت ترک کرکے چلے جاتے ہیں۔ درحقیقت محکمہ جیل خانہ جات میں ملازمین کے لئے سہولتوں کا بہت زیادہ فقدان ہے۔ جیل ملازمین کے اوقات کار کو دیکھا جائے علی الصبح انہیں جیل کے اندر ڈیوٹی کے لئے بھیج دیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی اکثریت رات جیل بند ہونے کے بعد ڈیوٹی سے واپس آتی ہے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہو گی محکمہ جیل خانہ جات میں جب کوئی اہلکار ایک مرتبہ جیل کے اندر داخل ہو جائے تو اسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جیلوں کے ملازمین کی اکثریت ناشتہ اور کھانا قیدیوں اور حوالاتیوں سے کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض جیل افسران بہتر کلاس کے قیدیوں اور یا پھر ایسے قیدی جن کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہوتا ہے ان سے کھانا منگواتے ہیں۔ جب ایک اہل کار کو صبح سویرے اٹھتے ہی جیل میں داخل ہونا ہو وہ بھوکے پیٹ جیل میں داخل ہو گا۔ ہمارے مشاہدات کے مطابق جیلوں میں وقفے وقفے سے وارڈر کی بھرتی اسی لئے ہوتی ہے نوجوان اہل کار ڈیوٹی کے اوقات کار اور پابندیوں کے باعث ملازمت چھوڑ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے دور میں جیلوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے سکیل بہتر کئے تھے لیکن اس کے باوجود جیل کی ملازمت میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو جب کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا وہ جیل کی ملازمت چھوڑ جاتے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کا یہ عالم ہے پوسٹ گریجویٹ اور گریجویشن کرنے والے نوجوان وارڈر کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاہم جب انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ملازمت چھوڑ جاتے ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں اکثریت وارڈر ایسے بھرتی ہوتے ہیں جن کے والدین جیل ملازمت میں ہوتے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہی جب کوئی جیل ملازم مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچتا ہے وہ اپنے کسی بیٹے کو وارڈر محض اس لئے بھرتی کرا دیتا تاکہ سرکاری طور پر اسے الاٹ ہونے والا گھر اس کے بیٹے کے نام منتقل ہو جائے ورنہ جیل کی ملازمت میں اور کوئی کشش نہیں ہے۔ آئی جیل خانہ جات نے اپنے دور میں جہاں ملازمین کی ریکارڈ ترقیاں کرائی ہیں، وہاں انہیں نئے بھرتی ہونے والے وارڈرز کی ملازمت کو پرکشش بنانے کے لئے اقدامات بارے بھی سوچنا ہوگا۔





