ColumnTajamul Hussain Hashmi

اسرائیلی فوج میں اندرونی شکست کی آہٹ

اسرائیلی فوج میں اندرونی شکست کی آہٹ
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ حوصلے، نظم و ضبط اور اندرونی یکجہتی جیت کی اصل بنیاد ہوتے ہیں ۔ جب کسی فوج کے اندر سے کمزوری کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں تو وہ دشمن کے ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو جاتی ہیں۔
آج اسرائیل ڈیفنس فورس کے حوالے سے سامنے آنے والی خبریں اسی نوعیت کی ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں انتہائی غیر معمولی الفاظ استعمال کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ’’ آئی ڈی ایف اندر ہی اندر گر سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں آپ کے سامنے 10خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہوں‘‘، یہ جملہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ معمولی نہیں بلکہ ساختی (structural)نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کو اس وقت شدید افرادی قوت کے بحران کا سامنا ہے۔ فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین کے مطابق آئی ڈی ایف کو فوری طور پر تقریباً 15000اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے، جن میں نصف سے زائد فرنٹ لائن (combat)اہلکار درکار ہیں۔ مزید یہ کہ غزہ میں دو سالہ جنگ کے دوران 900سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان اور ایران کے ساتھ تازہ جھڑپوں میں بھی جانی نقصان جاری ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اسرائیل کا دفاعی نظام بڑی حد تک ریزرو فوج پر انحصار کرتا ہے ۔ جنرل زمیر نے واضح کیا کہ اگر لازمی بھرتی اور ریزرو قوانین میں فوری تبدیلی نہ کی گئی تو ’’ ریزرو نظام قائم نہیں رہے گا‘‘ اور فوج اپنے معمول کے آپریشنز کے جاری نہیں رکھ پائے گی۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو دوسری جنگ اعظم میں اتحادی افواج خصوصاً ریڈ آرمی اور یونائیٹڈ سٹیٹ آرمی نے جانی نقصان اٹھانے کے باوجود کبھی اس طرح عوامی اعتراف نہیں کیا ۔ سوویت یونین کے تقریباً 2کروڑ 70لاکھ افراد ہلاک ہوئے، مگر بیانیہ کو مضبوط رکھا گیا تاکہ فوج اور عوام کا حوصلہ برقرار رہے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ جنگ امریکہ نے 20سال تک جنگ لڑی، تقریبا 2400سے زائد فوجی ہلاک ہوئے اور کھربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا لیکن شکست کو شکست نہیں کہا بلکہ خود ہی سٹریٹیجک ناکامی کہتے رہے ، لیکن دورانِ جنگ کسی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے ’’ فوج کے ٹوٹنے‘‘ جیسا بیان سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ بعد میں اس جنگ کو اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا گیا، مگر جنگ کے دوران بیانیہ کو مکمل کنٹرول میں رکھا گیا لیکن ایران کے جنگ میں اسرائیل فوج نے ایسا بیان کیوں دیا؟ یہی سب سے بڑا سوال ہے جس نے دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے خاص کر عرب ممالک کے رویوں میں بری تبدیلی نظر ا رہی ہے، طاقتوں ممالک نے سر جوڑ لئے ہیں ۔ عرب اتحاد کا خوف بڑھنے لگا ہے۔ انٹر نیشنل دنیا میں ہلچل مچ چکی ہے ۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی پہلی وجہ ’’ ملٹی فرنٹ وار ‘‘ کا خطرہ ہے۔ ایران ، لبنان میں حزب اللہ، اور غزہ میں حماس ایک ساتھ اسرائیل کے لیے دبائو بڑھا رہے ہیں۔ لبنانی محاذ کے حوالے سے بھی اسرائیلی فوج کا اعتراف ہے۔ دوسری وجہ اسرائیلی کی محدود آبادی ہے تقریباً 90لاکھ افراد جہاں مسلسل جنگی حالت اور معیشت کا بھی شہریوں پر بھی دبائو بڑھ رہا ہے۔ طویل ریزرو ڈیوٹیز ، معاشی مشکلات، اور اندرونی سیاسی اختلافات فوجی مورال کو متاثر کر رہے ہیں۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ جدید جنگ کا نفسیاتی پہلو ہے ۔ اسرائیل چھ بری جنگیں لڑ چکا ہے لیکن کامیابی کے بعد بھی اس کی مخالفت میں مسلسل اضافہ ہے جس کی وجہ اس کی اسلام مخالف پالیسیاں ہیں۔ آج جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ آج ایران دنیا سے ہمدردی سمٹ چکا ہے۔ ویت نام جنگ بھی اس کی بڑی مثال ہے جہاں امریکہ فوجی طور پر مکمل شکست کے باوجود اندرونی تقسیم اور عوامی دبا کے باعث پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔
اس تناظر میں اسرائیلی فوج کا حالیہ بیان ایک ’’ ریڈ لائن‘‘ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ یا تو ایک حقیقی اندرونی بحران کی نشاندہی ہے یا پھر ایک سوچا سمجھا دبا ہے تاکہ حکومت فوری قانون سازی کرے اور فوج کو مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔ جب فوج کے اندر سے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں، تو اصل جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ ریاست کے اندر لڑی جاتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ بیان ایک وقتی دبائو کی حکمت عملی تھا یا واقعی ایک ایسی دراڑ کی نشاندہی ہے جو کسی بڑی جیو پولیٹیکل تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ہیجانی کیفیت کے شکار ٹرمپ کی گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ بھی کہنے لگے ہیں۔ ایک ہی تقریر میں کبھی سعودی ولی عہد کے لیے نازیبا الفاظ بولتے رہے اور اگلے ہی لمحے انکی تعریف شروع کر دیتے ہیں۔ اس جنگ میں ٹرمپ صرف دشمنوں کیلئے ہی نہیں دوستوں کیلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں ۔

جواب دیں

Back to top button