Column

امریکہ کے چاٹے ہرے نہیں ہوتے

امریکہ کے چاٹے ہرے نہیں ہوتے
صورتحال
سیدہ عنبرین
پاکستان کی ٹوپی میں کوئی سرخاب کا پر لگ جائے تو پاکستانی کو اس کی خوشی ہوتی ہے، لیکن ایک کوشش ناکام ہوئی ہے، جس کا افسوس ہے۔ امریکہ، اسرائیل کی ایران پر جارحیت بند کرانے کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان میں ہونے والا چار ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جس کا انجام توقع کے عین مطابق ہوا۔ ایک خاص طبقے نے اس سے خواہ مخواہ توقعات وابستہ کر لی تھیں، اور تاثر دیا جا رہا تھا کہ جوں ہی یہ اجلاس ختم ہو گا جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔ اجلاس میں متحارب بلکہ جارح ممالک اسرائیل اور امریکہ کے وزرائے خارجہ شریک نہیں ہوئے، اسی لئے ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اسے کوئی اہمیت نہیں دی، حالانکہ وزیراعظم پاکستان نے ان کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے سر توڑ کوششیں کی۔ انہوں نے ایک گھنٹہ ایرانی صدر سے بات کرتے ہوئے یقیناً سو مرتبہ کہا ہو گا۔ سر جی! آپ وزیر خارجہ کو بس بھیجنے کا وعدہ کریں، باقی میں سب سنبھال لوں گا، لیکن ایرانی قیادت خوب سمجھتی تھی کہ یہ اجلاس ایک جال ہے، جس میں ان کے وزیر خارجہ کی شرکت سے انہیں ناقابل تلافی نقصان ہو گا، بس وہ اس جال میں نہیں پھنسے، اگر وہ اس اجلاس میں شریک ہو جاتے تو بھی اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ ’’ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے‘‘، لیکن ان کی شرکت کے بعد امریکی صدر کا بیانیہ مضبوط ہو جاتا کہ امریکہ تو جنگ بند نہیں کرنا چاہتا، یہ ایران ہے جو شکست کھا چکا ہے اور جنگ بندی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے، انہوں نے اس سازش کو بھی ناکام بنایا ہے جو میدان جنگ میں ان کی حاصل کردہ کامیابیوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر ان سے چھیننے کی کوشش تھی۔ ذرائع ایک اطلاع دیتے ہیں کہ روسی انٹیلی جنس نے ایران کو خبردار کر دیا تھا کہ اس اجلاس میں شرکت بڑے خطرے سے خالی نہیں، انہوں نے اس خطرے کی طرف اشارہ کیا جو قطر میں مذاکرات کے دوران سامنے آیا، جب حماس کی لیڈر شپ کو میزائل یا بم حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد قطر اور اسلامی ملکوں کے سربراہ اس واقعے پر زبانی اظہار افسوس ہی کرتے نظر آئے، بیشتر اسلامی ملک تو کوئی دو ٹوک موقف بھی اختیار نہ کر سکے، انہوں نے اظہار افسوس بھی اپنے دل میں ہی کیا۔ روسی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی ایک مثبت کوشش کو ناکام بنانے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی ٹیمیں ہماری سرحد سے قریب ہی بیٹھی تھیں، وہ ایک بڑی واردات کرنے کی مکمل تیاری کے ساتھ موقع کی منتظر تھیں۔ اس خیال کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی نمائندگی کیلئے ابہام آخری وقت تک برقرار رکھا گیا، کیونکہ دونوں جارح ملک جنگ بندی میں سنجیدہ نہ تھے، اس لئے ان کا کوئی نمائندہ نہ آیا، نہ ہی ان کی طرف سے کوئی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لہٰذا جس طرح جتنے اختیارات اسرائیل اور امریکہ نے اس اجلاس میں شریک حکومتوں کے نمائندوں کو دیئے، اتنے ہی اختیارات ایران نے ہمیں دے دیئے، اور کہا کہ بات کو آگے بڑھائیں۔ دونوں ممالک یعنی ایران اور امریکہ کی طرف سے ایجنڈا پوائنٹس تو بہت پہلے ہی دنیا کے سامنے رکھے جا چکے تھے۔ امریکی ایجنڈے پر جنگ بندی تو خارج از امکان سمجھئے، اس ایجنڈے پر جنگ بندی منظور ہوتی تو جنگ شروع ہونے سے قبل ہو جاتی، ایران کی طرف سے بہت زیادہ قربانیوں اور نقصان اٹھانے کے بعد اس سے انہی نکات پر جنگ بندی کی توقع رکھنا یا ایران کا مان جانا حماقت ہی ہوتا۔
پاکستان میں ہونے والے وزرائے خارجہ اجلاس میں شامل ممالک کتنے غیر جانبدار ہیں، یہ دنیا جانتی ہے، کسی نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، کسی نے اسے اپنے ملک میں اڈے دے رکھے ہیں، کوئی پیس بورڈ میں شامل ہے، تو کوئی آج اس کا دایاں بازو بنا ہوا ہے۔ یہ سب مل کر ایران کو اس کا حق دلانے یا امریکی موقف منوانے کی کوششیں کرتے، اس سوال کا جواب دکانوں کے تھڑے پر بیٹھے حالات حاضرہ اور بین الاقوامی امور پر بات کرنے والے بتا سکتے ہیں، لفافہ دانشور، صحافی و کالم نگار تو وہی کہیں گے جو وہ جنگ شروع ہونے سے قبل کہتے تھے، وہ تو دو روز میں ایران کی فتح کی پیش گوئیاں کر کے ایران کو امریکی ایجنڈا قبول کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، ان کا دو ٹوک موقف تھا کہ ایران کو صرف اپنی جان بچانی چاہئے، اپنی غیرت و حمیت کا سودا کر لینا چاہئے، اور مالی مفاد حاصل کر کے گریٹر اسرائیل کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہئے۔
یہ مکروہ سوچ و کردار رکھنے والے پرامید ہیں کہ جیراڈ کشنر کے کھاتے سے انہیں غزہ اور مغربی کنارے میں ڈویلپمنٹ کے بعد ’’ فینسگ ریور‘‘ دو دو کنال کے پلاٹ ضرور ملیں گے، جس پر وہ ٹرمپ سرمائے سے اپنی کثیر المنزلہ عمارت تعمیر کر کے تمام عمر عیش کریں گے، وہ ساحل پر لیٹی اسرائیلی میموں سے عشق لڑائیں گے۔ رات آتش سیال سے غل کریں گے اور یہودی میڈیا پر بیٹھ کر اسرائیل اور امریکہ کے گن گاتے ہوئے تمام دنیا اور خصوصاً مسلمانوں کو ہندو و یہود کی طاقت سے ڈرائیں گے، جو جنگیں شروع ہوتی ہیں، انہیں ایک روز ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ جاری جنگوں کو ختم کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں، پاکستان میں ہونے والے وزرائے خارجہ اجلاس میں اگر چین اور روس کے نمائندے شریک ہوتے تو آج نتیجہ مختلف ہوتا۔ قطر اور ترکیہ میں ہونے والے اجلاس اسی لئے بے نتیجہ رہے کہ ان اجلاسوں میں امریکہ کے ترجمان بیٹھے تھے، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے والا ایک بھی نہ تھا۔ حالیہ اجلاس میں قطر کو شامل کیا جانا تھا، لیکن قطر نے پہلے اسرائیل کی طرف سے حماس لیڈروں کو نشانہ بنانے اور پھر امریکہ کو فوجی اڈے دے کر جو نقصان اٹھایا ہے، انہیں اس کا بروقت احساس ہو گیا ہے، انہوں نے امریکی جنگ سے لاتعلقی اور ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کے اعلان کے بعد وزرائے خارجہ اجلاس سے دور رہ کر اپنے غیر جانبدار ہونے کا تاثر دیا ہے، جو قابل تعریف ہے۔
پاکستان کو خطے میں امن قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ضرور ادا کرنا چاہئے، لیکن کسی بھی قسم کی میزبانی کر کے میلہ لوٹ لینے کا شوق دل سے نکال دینا چاہئے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے کسی اہم اجلاس میں اگر خدانخواستہ کسی ایرانی لیڈر پر حملہ ہو گیا تو ہماری برسوں کی مخلصانہ کوششوں پر پانی پھر جائے گا۔ ہم ایران کے قریب آتے آتے ہمیشہ کیلئے دور ہو جائیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کو ہماری قربت ایک آنکھ نہیں بھاتی، وہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء دیکھنا چاہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے امریکہ اپنے دوستوں سے کبھی وفا نہیں کرتا، انہیں ہمیشہ دغا دیتا ہے۔ امریکہ کے چاٹے درخت کبھی ہرے نہیں ہوتے۔ اب تو اس کے ساتھ اسرائیل اور بھارت بھی آ ملے ہیں۔ جنرل باجوہ کے بعد جناب اسحاق ڈار اہم موقع پر پھسل کر گرے ہیں، مزید کون کون کہاں پھسلتا ہے، کہاں کہاں کس کے قدموں میں گرتا ہے، دنیا اس کی منتظر ہے۔

جواب دیں

Back to top button