کیا پاکستان’’ چومکھی جنگ‘‘ کی زد میں ہے ؟

کیا پاکستان’’ چومکھی جنگ‘‘ کی زد میں ہے ؟
قادر خان یوسف زئی
شطرنج کی بساط پر بچھے اس عالمی معرکے کا دوسرا مہینہ ڈھل رہا ہے اور 28فروری 2026ء کو ’’ آپریشن ایپک فیوری ‘‘ کے نام سے جس آگ کا آغاز ہوا تھا، وہ اب پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ تہران کی فضاں میں چھایا بارود کا دھواں اور واشنگٹن کے اقتدار کے گلیاروں میں بنتی بگڑتی حکمتِ عملی یہ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ یا تو ایک تھکی ہاری مفاہمت ہے یا پھر ایک ایسی تباہی جس کا نقشہ شاید انسانی تاریخ نی پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ واقعی کسی حتمی نتیجے کی طرف بڑھ رہی ہے؟۔ اگر عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس خونی کھیل کا اختتام اگلے چار سے آٹھ ہفتوں کے درمیان، یعنی مئی کے اواخر یا جون کے آغاز تک متوقع ہے۔ زمینی حقائق کی کوکھ سے جنم لینے والی وہ حقیقت ہے جسے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ بھی ’’ شارٹ ٹرم وکٹری‘‘ کے لبادے میں دیکھنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ ایک ’’ لامتناہی جنگ‘‘ کا بوجھ اٹھانے کے موڈ میں نہیں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کے بحران کا حل نکال کر اپنی معیشت کو بچائیں، جبکہ تہران اپنی عسکری اور معاشی تھکن کے باعث اب اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ طویل عرصے تک اس شدت کی جارحیت کا مقابلہ کر سکے۔
اس ممکنہ سمجھوتے کی بنیاد وہ 15نکاتی مسودہ بنے گا جو پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ذریعے تہران پہنچایا گیا ہے۔ یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ خطے کی نئی جیو پولیٹیکل حقیقتوں کا عکاس ہے۔ واشنگٹن کا مطالبہ واضح ہے۔ جوہری پروگرام کا مکمل رول بیک، بیلسٹک میزائلوں پر پابندی اور ’’ مزاحمتی بلاک‘‘ کی سرپرستی کا خاتمہ۔ دوسری طرف ایران کے اپنے پانچ نکات ہیں جن میں حملوں کی فوری بندش اور ہرجانے کا مطالبہ شامل ہے۔ جو درمیانی راستہ نکلتا نظر آ رہا ہے، وہ ایک ایسی ’’ سرد جنگ بندی‘‘ ہوگی جہاں ایران اپنے جوہری پروگرام کی کچھ حدیں تسلیم کر لے گا اور جواب میں اسے معاشی پابندیوں میں نرمی اور حکومت کی تبدیلی نہ ہونے کی ضمانت ملے گی۔ یہ بالکل ویسا ہی ماڈل ہے جسے ٹرمپ نے وینزویلا کے معاملے میں آزمایا تھا۔ تہران میں مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ اور پاسدارانِ انقلاب کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ شاید اسے اس کڑوے گھونٹ کو بھرنے پر مجبور کر دے، کیونکہ اب بقا کا سوال نظریات سے بڑا ہو چکا ہے۔
لیکن اس پوری صورتحال میں اسلام آباد کا کردار سب سے زیادہ ڈرامائی اور تزویراتی اہمیت کا حامل بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان آج اس عالمی آگ کے درمیان ایک ایسے ثالث کے طور پر کھڑا ہے جس کے ایک ہاتھ میں تہران کا اعتماد ہے تو دوسرے میں واشنگٹن اور ریاض کے ساتھ گہرے دفاعی و معاشی مفادات۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کی حالیہ سفارتی دوڑ دھوپ یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ اس بساط کا وہ ’’ کلیدی مہرہ‘‘ ہے جس کے بغیر کوئی بھی امن فارمولا مکمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کی یہ ثالثی کوئی خیراتی عمل نہیں بلکہ اپنی معاشی بقا اور داخلی سلامتی کو بچانے کی ایک بقائی کوشش ہے۔ تاہم، یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔ ایران کو شک ہے کہ پاکستان کا جھکائو امریکی شرائط کی طرف ہے، جبکہ دوسری طرف صدر ٹرمپ کے متضاد پیغامات اور خارگ جزیرے پر قبضے کی دھمکیاں اعتماد کی فضا کو مکدر کر رہی ہیں۔ سب سے بڑا امتحان اس وقت آئے گا جب ستمبر 2025 ء کا پاک، سعودی دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا۔ اگر ایران نے سعودی عرب کی سرزمین یا تنصیبات پر حملے تیز کیے، تو ریاض اسلام آباد سے اس ’’ آرٹیکل 5‘‘ جیسی ضمانت کا تقاضا کرے گا جس کا وعدہ دفاعی معاہدے میں کیا گیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وہ ’’ ریڈ لائن‘‘ ہوگی جہاں اسے ایک طرف اپنے برادر اسلامی ملک کی دفاعی پکار سننی ہوگی اور دوسری طرف اپنے اس پڑوسی سے براہ راست تصادم سے بچنا ہوگا جس کے ساتھ سرحدیں اب بھی بدامنی کی زد میں ہیں۔
تصور کیجئے اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں اور صدر ٹرمپ اپنی فطری تیزی میں زمینی کارروائی یا ’’ گرائونڈ وار‘‘ کا آغاز کر دیتے ہیں، تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟ کیا پاکستان دوبارہ 9؍11کے بعد والے دور میں لوٹ جائے گا؟۔ پاکستان اس بار واشنگٹن کو فوجی اڈے فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں ہے۔ داخلی سطح پر عوامی غم و غصہ، خود مختاری کے سوالات اور سی پیک میں چین کے مفادات پاکستان کے لیے کسی بھی نئے فوجی اتحاد کا حصہ بننا ناممکن بنا دیتے ہیں۔ فوجی اڈے یا سہولت کاری کا مطلب ایران کے ساتھ براہ راست اعلانِ جنگ ہوگا جو پاکستان کے اندرونی فرقہ وارانہ توازن اور بلوچستان کی سرحدوں کو آگ لگا دے گا۔ یہاں خلیجی ممالک کی جانب سے دئیے گئے قلیل المدتی قرضوں کا دبائو بھی ایک حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔
اس بحران کے پسِ منظر میں بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی بے چینی بھی پاکستان کے لیے کسی چومکھی لڑائی سے کم نہیں۔ اگر پاکستان ایران کے معاملے میں الجھتا ہے تو نئی دہلی لائن آف کنٹرول یا بحیرہ عرب میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے مہم جوئی کر سکتا ہے۔ اسی طرح کابل میں بیٹھے طالبان رجیم اور ٹی ٹی پی ( فتنہ الخوارج ) کے بڑھتے ہوئے خطرات پاکستان کے مغربی بارڈر کو مستقل طور پر غیر مستحکم رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ’’ ملٹی فرنٹ چیلنج‘‘ ہے جہاں پاکستان کو اپنی معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی کے درمیان ایک ایسا توازن برقرار رکھنا ہے جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف، عالمی معیشت کے اس بدترین بحران میں چین اور روس کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ لیکن کیا وہ براہ راست اس جنگ کا حصہ بنیں گے؟ ہرگز نہیں۔
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں اس کی ہر چال اس کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ پاکستان کا مفاد نہ تو ایران کی مکمل تباہی میں ہے اور نہ ہی امریکہ کی غیر مشروط غلامی میں۔ اسلام آباد کی بقا صرف اور صرف اس ثالثی کی کامیابی میں ہے، کیونکہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو پاکستان کو وہ انتخاب کرنے پڑیں گے جو شاید اس کے ریاستی ڈھانچے کے لیے ناقابلِ برداشت ہوں۔ یہ جنگ صرف بارود کی نہیں، بلکہ اعصاب اور معاشی برداشت کی جنگ ہے، اور پاکستان کو اس پرائی آگ میں اپنا گھر بچانے کے لیے وہ تمام تر مہارت دکھانی ہوگی جو ایک منجھے ہوئے سفارتکار اور ماہرِ حرب کا طرہ امتیاز ہوتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپریل اور مئی کے یہ مہینے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر امن کی فاختہ لاتے ہیں یا پھر ایک ایسی خاک جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔





