ایران جنگ: امن کیلئے پاکستان کا مثبت کردار

اداریہ۔۔۔
ایران جنگ: امن کیلئے پاکستان کا مثبت کردار
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں جنگ کے بادل نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ایک نہایت اہم اور بروقت سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ اجلاس نہ صرف علاقائی صورت حال پر غور و خوض کیلئے منعقد کیا گیا بلکہ اس کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور دیرپا امن کے امکانات کو فروغ دینا بھی تھا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی میزبانی میں ہونے والے اس چار ملکی اجلاس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ موجودہ حالات میں طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ راستہ ہیں جو خطے کو تباہی سے بچاسکتے ہیں۔ اجلاس میں شریک تمام ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے صرف انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی بدحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار کا خطاب اس حوالے سے نہایت اہم تھا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسلم اُمہ کو اس مشکل وقت میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ان کا یہ موقف نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک وسیع تر اسلامی یکجہتی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس مشاورتی عمل کا آغاز 19مارچ کو ریاض میں ہونے والے پہلے اجلاس سے ہوا تھا، جس کے تسلسل میں اسلام آباد میں دوسرا اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس تسلسل سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ ممالک اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مستقل بنیادوں پر اس کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔ اجلاس کے دوران ایران کے وزیر خارجہ سے رابطہ اور امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جس پر ایران اور امریکا دونوں اعتماد کرتے ہیں۔ یہ اعتماد پاکستان کیلئے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ پاکستان خطے میں ایک ذمے دار اور متوازن کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش ایک جرأت مندانہ اور مثبت قدم ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں چین اور اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی حمایت بھی اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، خاص طور پر خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ اصول بین الاقوامی امن کے قیام کیلئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی ہی اکثر تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم بیٹھک سے یہ پیغام واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ متعلقہ ممالک جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرات کو محدود کرنے اور بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔مزید برآں، اسحاق ڈار کی جانب سے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے اور ان کی جانب سے پاکستان کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر ایک فعال اور موثر کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جاری تنازع کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کے بحران اور عوامی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے اس تنازع کا پُرامن حل نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ اسلام آباد اجلاس کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں علاقائی ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ممالک باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات پر توجہ دیں تو امن کا قیام ممکن ہوسکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد میں ہونے والا یہ چار ملکی مشاورتی اجلاس ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے۔ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں اور ان کا حل فوری طور پر ممکن نہیں، تاہم اس طرح کے سفارتی اقدامات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں جس پر امن کی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے سنجیدہ اور مخلص ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھی ان کوششوں کا ساتھ دے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
شذرہ۔۔۔
پی آئی اے کا لندن فلائٹ آپریشن بحال
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا لندن کے لیے فضائی آپریشن 6 سال کے وقفے کے بعد بحال ہونا محض ایک پرواز کی بحالی نہیں بلکہ ایک تاریخی اور جذباتی رشتے کی تجدید ہے۔ یہ وہی روٹ ہے جس نے سات دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان اور برطانیہ کے درمیان نہ صرف سفری بلکہ سماجی، ثقافتی اور معاشی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی فضائی نظام کو متاثر کیا ہے، پی آئی اے کی جانب سے یہ پیش رفت ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد سے لندن روانہ ہونے والی پہلی پرواز میں 325 مسافروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس روٹ کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ سادہ اور پُروقار افتتاحی تقریب اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی ادارے اپنی روایت اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتی اور سفارتی شخصیات کی شرکت نے اس اقدام کو مزید اہمیت دی جب کہ مسافروں کے لیے انعامات اور تحائف نے اس موقع کو خوش گوار بنا دیا۔ پی آئی اے کا یہ اقدام نہ صرف برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سہولت کا باعث بنے گا، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بھی نئی جہت دے گا۔ براہ راست پروازوں کی بحالی سے نہ صرف وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ کاروباری، تعلیمی اور خاندانی روابط بھی مزید مستحکم ہوں گے۔ اس کے ساتھ لاہور سے ہفتہ وار پرواز کے آغاز کا اعلان اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ادارہ اپنی خدمات کو وسعت دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم، اس کامیابی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پی آئی اے کو اپنی ساکھ کی بحالی، سروس کے معیار میں بہتری اور عالمی معیار کے مطابق کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں پیش آنے والے مسائل نے اس ادارے کی ساکھ کو متاثر کیا، لیکن اب یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے اعتماد بحال کرے۔ اگر پی آئی اے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرے تو نہ صرف یہ ادارہ دوبارہ عروج حاصل کر سکتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی شناخت کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔







