Column

بچت کے نعرے اور فضول خرچی

بچت کے نعرے اور فضول خرچی
تحریر: رفیع صحرائی
ملک اس وقت سنگین معاشی دبائو سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ حکومتی خزانہ بھی مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے بار بار کفایت شعاری اور بچت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اخراجات کم کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور عوام کو بھی سادگی اختیار کرنے کا درس دیا جا رہا ہے۔ ایندھن کی بچت کی خاطر دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔ وزراء کی مراعات کم اور دو ماہ کے لیے اپنی جیب سے پٹرول ڈلوانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے گردش کرنے لگی کہ حکومت پاکستان نے کفایت شعاری مہم کے تحت گریڈ 1سے لے کر گریڈ 22تک تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کسی’’ ذہین‘‘ صارف نے تو اس خبر کے ساتھ باقاعدہ ایک مکمل چارٹ بھی جاری کر دیا جس میں بتایا گیا کہ گریڈ 1تا 10کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5فیصد، گریڈ 11تا 14کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد، گریڈ 15تا 17کے افسروں کی تنخواہوں میں 20فیصد جبکہ اس سے اوپر کے گریڈ کے افسروں کی تنخواہوں میں 30فیصد تک کٹوتی کر دی جائے گی۔
یہ غیر مصدقہ اطلاع دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاکھوں سرکاری ملازمین تشویش میں مبتلا ہو گئے اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف باقاعدہ ردعمل سامنے آنے لگا۔ جب معاملہ شدت اختیار کر گیا تو حکومت کو وضاحت جاری کرنا پڑی۔
وضاحت کے مطابق گریڈ 1سے 22تک کے عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی جا رہی۔ اصل فیصلہ ان اعلیٰ سرکاری عہدے داروں اور افسران سے متعلق ہے جو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔ بتایا گیا کہ تین لاکھ روپے سے کم تنخواہ لینے والے کسی بھی ملازم کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ تاہم تین لاکھ سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسروں سے پانچ فیصد، دس سے بیس لاکھ تنخواہ لینے والوں سے پندرہ فیصد، بیس سے تیس لاکھ تنخواہ لینے والوں سے پچیس فیصد جبکہ تیس لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والوں سے تیس فیصد کٹوتی کی جائے گی اور یہ اقدام بھی صرف دو ماہ کے لیے ہوگا۔
اس وضاحت کے بعد اگرچہ ملازمین کی بڑی تعداد کے خدشات دور ہو گئے، مگر اس سارے معاملے نے ایک اہم سوال کو جنم دے دیا ہے۔ آخر ایسا ابہام پیدا ہی کیوں ہوا؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی اعلان ہی مبہم تھا۔ جب یہ کہا جائے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں
پانچ سے تیس فیصد تک کٹوتی کی جائے گی تو فطری طور پر ہر ملازم خود کو اس فیصلے کے دائرے میں سمجھے گا۔ اگر ابتدا ہی میں وضاحت کر دی جاتی کہ یہ اقدام صرف اعلیٰ تنخواہیں لینے والے مخصوص افسران تک محدود ہی تو شاید لاکھوں ملازمین میں یوں اضطراب پیدا نہ ہوتا۔
ہمارے سیاسی و حکومتی نظام کی ایک تلخ روایت یہ بھی رہی ہے کہ بعض اوقات سخت فیصلوں سے قبل کسی نمائندے کے ذریعے مبہم یا ادھورا بیان دلوایا جاتا ہے۔ پھر عوامی ردعمل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر ردعمل زیادہ شدید نہ ہو تو فیصلہ نافذ کر دیا جاتا ہے اور اگر ردعمل شدید ہو تو وضاحت یا تردید سامنے آ جاتی ہے۔ ممکن ہے اس مرتبہ بھی ایسا ہی کوئی مرحلہ دہرایا گیا ہو اگرچہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ غیر مصدقہ معلومات شیئر کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ ایسی خبریں نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کرتی ہیں بلکہ ریاستی اداروں کے بارے میں بداعتمادی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ضروری ہے کہ کسی بھی خبر کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لی جائے۔
لیکن اس ساری بحث کے دوران ایک اور خبر سامنے آئی جس نے کفایت شعاری کے دعوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق چیئرمین سینیٹ سیّد یوسف رضا گیلانی کے لیے تقریباً نو کروڑ روپے مالیت کی ایک لگژری گاڑی خریدی گئی ہے۔ بعد ازاں خود چیئرمین سینیٹ نے اس خریداری کی تصدیق کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ گاڑی سینیٹ کے گزشتہ سال کے بجٹ میں ہونے والی بچت سے خریدی گئی ہے۔ یہ وضاحت اپنی جگہ، مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ اگر واقعی بجٹ سے بچت ہو گئی تھی تو کیا موجودہ معاشی حالات میں زیادہ مناسب یہ نہ ہوتا کہ اس رقم کو قومی خزانے میں واپس جمع کروا دیا جاتا؟ ایسے وقت میں جب حکومت عوام کو کفایت شعاری کا درس دے رہی ہو اور اخراجات کم کرنے کی بات کر رہی ہو، ایک مہنگی لگژری گاڑی کی خریداری کس پیغام کی عکاسی کرتی ہے؟
اصل مسئلہ یہی ہے کہ جب حکمران بچت کی بات کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس کے برعکس اقدامات نظر آتے ہیں تو عوام کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ ایک طرف کفایت شعاری کے اعلانات اور دوسری طرف شاہانہ اخراجات۔ یہ تضاد ہی عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
حکمرانوں کو یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ مثالوں سے قائل ہوتی ہیں۔ اگر واقعی بچت اور سادگی کو فروغ دینا مقصود ہے تو اس کا آغاز ایوانِ اقتدار سے ہونا چاہیے۔ جب اوپر بیٹھے لوگ اپنی زندگیوں میں سادگی اختیار کریں گے تو نیچے تک اس کا اثر خود بخود منتقل ہو جائے گا۔ ورنہ بچت کے نعرے صرف تقریروں اور بیانات تک محدود رہ جائیں گے اور عوام کے دلوں میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہے گا کہ کیا یہ بچت صرف دوسروں کے لیے ہے؟

جواب دیں

Back to top button