ایران پر مسلط جنگ اور پاکستان کے لیے مواقع؟

ایران پر مسلط جنگ اور پاکستان کے لیے مواقع؟
روشن لعل
جنگ چاہے جس نے بھی شروع کی ہو اسے ہر حال میں لڑنے والے ملکوں کے لیے تباہی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ لڑنے والے ملکوں کے لیے تباہی کا استعارہ سمجھی جانے والی جنگ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے اندر کسی دوسرے ملک کے لیے ترقی کے مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ ترقی کے یہ مواقع اس ملک کے ہاتھ آنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں جو دبائو کے باوجود خود کو کسی جاری جنگ کا ایندھن بننے سے روکے رکھتا ہے۔ پاکستان نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ کا حصہ بننے سے اسی طرح گریز کیا جس طرح ماضی میں عراق پر امریکی حملے اور سعودی عرب کی یمن کے حوثی باغیوں سے جاری کشمکش کے دوران کیا تھا۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان نے جنگ میں کودنے کی بجائے قیام امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان ، اپنے ہمسایہ ملک کے خلاف جاری امریکی جنگ کا حصہ تو نہیں بنا لیکن فی الوقت اس کے لیے یہ سوال ہے کہ اس جنگ کے بعد ترقی کے جو مواقع پیدا ہونگے ، کیا پاکستان ان میں سے کوئی حصہ حاصل کر پائے گا۔ اگر پاکستان کے ماضی کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اس کی جیو سٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے اسے قیام کے بعد بارہا ترقی کے مواقع میسر آئے لیکن ان مواقع کو ریاست اور عوام کی ترقی کے لیے بروئے کار لانے کی بجائے حکمران اشرافیہ انہیں اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کرتی رہی۔ پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد کے برعکس کارہائے نمایاں سر انجام دیتے رہنے والی حکمران اشرافیہ کے شرمناک ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے زمانہ حال میں بھی اس سے مختلف کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی مگر پھر بھی یہاں ترقی کے ایک ایسے موقع کا حوالہ دیا جارہا ہے جس کی پیشکش پاکستان کو بہت پہلے کی گئی تھی اور ایران پر مسلط کی گئی حالیہ جنگ کے بعد یہی موقع دوبارہ ہمارے دروازے پر دستک دیتا محسوس ہو رہا ہے۔
عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سعودی عرب نے سی پیک کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے گوادر میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ اس سلسلے میں بات چیت کا آغاز عمران خان کے ستمبر 2018 ء میں سعودی عرب کے اولین دورے کے دوران ہوا۔ عمران خان کے اسی دورہ، سعودی عرب کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان نے انہیں تحفے میں وہ قیمتی گھڑی دی تھی جسے بعد ازاں دبئی میں فروخت کر دیا گیا اور اس گھڑی کی فروخت کے نتیجہ میں عمران خان کو توشہ خانہ کیس کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کو جب اپنے دیئے ہوئے قیمتی تحفے کی دبئی میں فروخت کا علم ہوا تو انہوں نے ناراضی میں عمران خان اور پاکستان کے لیے جو سرد مہری اختیار کیا اسی کی وجہ سے گوادر آئل ریفائنری کا منصوبہ پس پشت چلا گیا۔ اس خیال کے برعکس ایک سنجیدہ نقطہ نظر یہ ہے کہ اپنی مبہم اور ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے عمران خان نے ملائیشیا میں ترکی اور ایران کے تعاون سے منعقدہ اس کانفرنس میں شرکت کا اعلان کر دیا جس کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکے تھے۔ عمران خان نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ ہر حال میں ملائیشیا کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن سعودی عرب کی ناراضی کے بعد عین موقع پر کوالالمپور کا دورہ منسوخ کر دیا۔ عمران خان کے اس مبہم رویے کو دیکھتے ہوئے محمد بن سلمان نے نہ صرف پاکستان کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کیا بلکہ اقتصادی تعاون کے زمرے میں آئل ریفائنری کی تعمیر جیسے جو معاہدے کیے تھے ان پر کسی قسم کی پیش رفت کرنے سے بھی منہہ موڑ لیا۔ عمران خان کے دور میں اگر ہماری خارجہ پالیسی مبہم اور غیر واضح رہی تو اس کی وجہ صرف عمران کا گومگو رویہ نہیں بلکہ فیض حمید اور باجوہ کا ناقص فہم بھی تھا۔
اگر پاکستان میں گوادر آئل ریفائنری جیسے منصوبے توڑ نہیں چڑھ نہیں پاتے تو اس کی بڑی وجہ یہاں مسلسل رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بھی ہیں۔ جب پاکستان کو آئل ریفائنری لگانے کی پیشکش کی گئی تو اس کے بعد سعودیہ کے وزیر برائے سرمایہ کاری و توانائی خالد الفلیح نے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے جنوری 2019ء میں پاکستان کا دورہ کیا۔ خالد الفلیح کے مذکورہ دورہ کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان فروری 2019ء میں خصوصی طور پر پاکستان آئے تھے۔ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران آئل ریفائنری کے حوالے سے یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ اس منصوبہ پر سعودی عرب ہمارے ہاں 10بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس سرمایہ کاری سے جو آئل ریفائنری لگائی جائے گی اس کی صلاحیت روزانہ تین سے چار لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی ہوگی۔ جس گوادر میں سعودیہ کی آئل ریفائنری لگانے کے منصوبے کا اعلان ہوا ، اسی گوادر کی طرف جانے والی کوسٹل ہائی وے پر محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے ڈیڑھ ماہ بعد اپریل 2019ء میں دہشت گردوں نے ایک بس کو رک کر اس میں سے 16غیر بلوچوں کو نکال کر ہلاک کر دیا ۔ اس کے بعد بھی کوسٹل ہائے وے پر دہشت گردی کے مختلف واقعات رونما ہوتے رہے۔ صرف کوسٹل ہائی وے ہی نہیں بلکہ گوادر کے اندر بھی سی پیک منصوبے پر کام کے لیے چین سے پاکستان آنے والے اہلکاروں کو دہشت گردی کا شکار ہونے سے محفوظ نہیں رکھا جاسکا۔ کوسٹل ہائی وے اور گوادر میں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب نے جب پاکستان میں آئل ریفائنری کے منصوبے پر پیش رفت کے لیے دوبارہ بات چیت شروع کی تو یہ کہا کہ وہ گوادر کی بجائے حب میں ریفائنری تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
تصور کیا جائے کہ اگر ہماری خارجہ پالیسی غیر مبہم ہوتی اور ہماری طرف سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنائے جانے کے بعد یہاں سعودیہ کی سرمایہ کاری سے آئل ریفائنری اپنا کام شروع کر چکی ہوتی تو آج ایران ، امریکہ جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال میں بیرونی سرمایہ کار یہاں کس طرح دوڑے چلے آتے۔ ایران ، امریکہ جنگ میں آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کو دمام سے تیل کی برآمد میں جو مشکلات درپیش ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے سعودیہ کی طرف سے پاکستان میں آئل ریفائنری کی تعمیر کو جلد ممکن بنانا بعید از قیاس نہیں ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے سعودی عرب اپنے شہر دمام سے خام تیل کی بذریعہ 1140کلومیٹر طویل پائپ لائن، عمان کے ساحلوں تک ترسیل کے منصوبے پر پہلے ہی کام شروع کر چکا ہے ۔ اگر گوادر میں آئل ریفائنری تعمیر ہوگئی تو مسقط سے گوادر تک 320تا400کلو میٹر زیر سمندر مزید پائپ لائن پچھا کر ، خام تیل، دمام سے براہ راست پاکستان لانا قطعاً مشکل نہیں ہوگا۔ مستقبل قریب میں پاکستان کو یہ موقع حاصل ہونا عین ممکن ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتی ہے یا قوم کو حسب سابق ان کی ناعاقبت اندیشیوں کی سزا بھگتنا پڑتی ہے۔





