سیاستدانوں کا عوام پر ظلم

سیاستدانوں کا عوام پر ظلم
تحریر : شکیل امجد صادق
پاکستان کی سیاست میں وعدوں، نعروں اور دعووں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو ان کے لہجے میں عوامی درد، معاشی انصاف اور مہنگائی کے خلاف شدید جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔ جلسوں میں ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ سننے والا سمجھتا ہے شاید اب واقعی عوام کے دکھوں کا مداوا ہونے والا ہے۔ مگر جیسے ہی اقتدار کے دروازے کھلتے ہیں، اکثر وہی نعرے خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور عوام کو اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست کے اس بازار میں وعدوں کی قیمت زیادہ نہیں ہوتی۔ چند برس پہلے تک مسلم لیگ ( ن) کے رہنما خصوصاً نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ نواز، مریم اورنگ زیب، عظمیٰ بخاری سابق حکومتوں پر شدید تنقید کیا کرتے تھے۔ جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں یہ بات بار بار کہی جاتی تھی کہ جو حکومت پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرتی ہے وہ دراصل غریب دشمن حکومت ہوتی ہے۔ اس وقت مہنگائی کو ظلم قرار دیا جاتا تھا اور عوام کو یقین دلایا جاتا تھا کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ عام آدمی کو ریلیف دیں گے۔ ایک موقع پر تو جذباتی انداز میں یہ جملہ بھی سننے کو ملا کہ ’’ میں اپنے کپڑے بیچ کر بھی پٹرول سستا کروں گا‘‘۔ یہ جملہ اس وقت عوامی حلقوں میں بہت مقبول ہوا تھا۔ غریب آدمی نے سوچا کہ شاید کوئی ایسا حکمران آنے والا ہے جو واقعی اس کی تکلیف کو سمجھتا ہے۔ مگر سیاست کی دنیا میں الفاظ اکثر حقیقت سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اکثر وہی لوگ حالات کی مجبوریوں کا ذکر کرنے لگتے ہیں جنہوں نے کل تک مہنگائی کو ظلم قرار دیا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں صرف ایک ہفتے کے اندر بیالیس روپے تک اضافہ کیا گیا جس نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید کو ختم کر رہی ہو، وہاں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دراصل ہر چیز کی قیمت میں اضافہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ اس ملک میں معیشت کا پہیہ بڑی حد تک پٹرول پر ہی چلتا ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سب سے پہلے ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو سبزی، آٹا، دال اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یوں ایک فیصلے کا بوجھ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو پہلے ہی محدود آمدنی پر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ مزدور، کسان اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کی اس چکی میں پس کر رہ جاتا ہے۔ عوام کے ذہن میں اب یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ وہ وعدے کہاں گئے جو اپوزیشن کے دنوں میں کیے جاتے تھے؟ وہ دعوے کہاں گئے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا؟ اور وہ جذباتی جملہ کہاں گیا کہ کپڑے بیچ کر بھی پٹرول سستا کیا جائے گا؟ سیاست دانوں کی زبان پر جب اقتدار کی چمک آتی ہے تو اکثر الفاظ کی حرارت بھی کم ہو جاتی ہے۔ طنزیہ انداز میں دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب اصول رائج ہے۔ اپوزیشن میں مہنگائی ظلم ہوتی ہے اور حکومت میں آ کر وہی مہنگائی معاشی مجبوری بن جاتی ہے۔ کل تک جو لوگ پٹرول کی قیمت میں چند روپے اضافے پر زمین آسمان ایک کر دیتے تھے، آج وہی لوگ درجنوں روپے اضافے کو معاشی اصلاحات کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ عوام حیران ہوتے ہیں کہ آخر سچ کون بول رہا تھا اور جھوٹ کون؟۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکمران طبقے کے لیے سب سے آسان راستہ یہی ہوتا ہے کہ مالی مسائل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے۔ حکومتی اخراجات کم کرنے، شاہانہ مراعات ختم کرنے اور اشرافیہ پر ٹیکس بڑھانے کی بجائے اکثر یہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پیٹرول مہنگا کر دیا جائے۔ اس فیصلے کا اثر براہ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ پاکستان کا مزدور پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے۔ کسان پہلے ہی زرعی اخراجات کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ ایسے میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ عام آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر اس کے لیے آسانی کب پیدا ہوگی۔ سیاست میں سب سے قیمتی چیز اعتماد ہوتی ہے۔ جب سیاست دان بار بار ایسے وعدے کریں جو بعد میں پورے نہ ہوں تو عوام کا اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ صرف ایک حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کیونکہ جب عوام کا اعتماد ٹوٹتا ہے تو جمہوری نظام کی بنیادیں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی حالات، معاشی دبا اور دیگر عوامل بھی حکومتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر حکمران طبقہ اپنی شاہانہ زندگی میں کچھ کمی کر لے اور غیر ضروری اخراجات کم کر دے تو عوام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قربانی ہمیشہ غریب سے مانگی جاتی ہے جبکہ مراعات اکثر امیروں کے پاس ہی رہتی ہیں۔
طنز کی زبان میں کہا جائے تو پاکستانی سیاست ایک ایسا تھیٹر بن چکی ہے جہاں ہر الیکشن کے موسم میں نئے نئے وعدوں کے ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ عوام تالیاں بجاتے ہیں، امیدیں باندھتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد مایوسی کے ساتھ اگلے ڈرامے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یہ سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے اور شاید اسی وجہ سے عوام کے دلوں میں سیاست دانوں کے بارے میں بداعتمادی بڑھتی جا رہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو صرف نعروں اور جذباتی تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر واقعی عوام کی خدمت مقصود ہے تو ایسے فیصلے کیی جائیں جو عام آدمی کے لیے آسانی پیدا کریں۔ حکومتی اخراجات کم کیے جائیں، اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں اور معاشی نظام کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ بوجھ صرف غریب پر نہ پڑے۔
حکومتوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب مہنگائی حد سے بڑھ جاتی ہے تو معاشرے میں بے چینی، غصہ اور مایوسی پیدا ہونے لگتی ہے۔ نوجوانوں کے دلوں میں مستقبل کے بارے میں خوف پیدا ہوتا ہے اور معاشرتی توازن متاثر ہونے لگتا ہے۔ پاکستان کے عوام بہت صبر کرنے والے ہیں۔ وہ مشکلات برداشت کرتے ہیں، حالات سے لڑتے ہیں اور امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ مگر اس صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر حکمران طبقہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ صبر آہستہ آہستہ بے چینی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے جو آج ہر عام آدمی کے ذہن میں موجود ہے۔ اگر ہر حکومت اپوزیشن میں مہنگائی کو ظلم قرار دے اور اقتدار میں آ کر اسے مجبوری کہنے لگے تو پھر عوام کے مسائل کا حل کون نکالے گا؟ اگر وعدے صرف تقریروں تک محدود رہ جائیں تو عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ سیاست دانوں کو شاید یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے مگر عوام کی یادداشت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ جو وعدے کیے جاتے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے الفاظ اور عمل کے درمیان فاصلہ کم رکھتے ہیں۔
بقول ظفر اقبال:
یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں
داد ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں
اصرار تھا انہیں کہ بھلا دیجیے ظفر
ہم نے بھلا دیا تو وہ اس پر بھی خوش نہیں







