استعاذہ: انسان کی روحانی پناہ گاہ
استعاذہ: انسان کی روحانی پناہ گاہ
تحریر : صفدر علی حیدری
انسان کی زندگی محض سانسوں کا تسلسل نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی کشمکش کا نام ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آتا اور شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو وہ خود بیک وقت دو متضاد قوتوں کے درمیان کھڑا پاتا ہے۔ ایک قوت اسے روشنی، سچائی اور روحانی بلندی کی طرف بلاتی ہے اور دوسری اسے خواہشات، فریب اور انا کی تاریکیوں میں لے جانے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ جنگ کسی میدان میں نہیں لڑی جاتی ۔ نہ اس کے ہتھیار تلوار اور نیزے ہوتے ہیں ۔ یہ جنگ انسانی دل کے اندر برپا ہوتی ہے ۔ انسان کے قلب میں ایک ایسا میدان قائم ہے جہاں نور اور ظلمت آمنے سامنے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اور روحانی روایت میں انسان کی اصل کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اسی باطنی رزم گاہ میں ہوتا ہے ۔
اسلامی فکر نے اس داخلی کشمکش سے نکلنے کے لیے ایک نہایت بامعنی تصور پیش کیا ہے جسے استعاذہ کہا جاتا ہے ۔ استعاذہ دراصل اس شعور کا نام ہے کہ انسان اپنی ذات میں کمزور ہے اور اسے ایک ایسے دفاعی نظام ، ایک قلعے اور محفوظ پناہ گاہ کی ضرورت ہے جو ہر شر سے محفوظ اور ہر وسوسے سے بلند ہو ۔ جب انسان ’’ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ کہتا ہے تو یہ محض الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ ایک روحانی اعلان ہوتا ہے، جس میں وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اعلیٰ طاقت کی پناہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ یہ حکم بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اس میں ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ قرآن سراسر ہدایت اور نور ہے، مگر شیطان کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ انسان اس نور سے دور رہے۔ جب انسان قرآن کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے دل میں مختلف وسوسے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کبھی غفلت کے ذریعے، کبھی تکبر کے ذریعے اور کبھی فکری الجھنوں کے ذریعے۔
استعاذہ دراصل اس ذہنی اور قلبی صفائی کا نام ہے جو وحیِ الٰہی کے استقبال کے لیے ضروری ہے۔
دینی مفکرین میں ایک بلند پایہ علمی و روحانی شخصیت آیت اللہ دستغیب نے استعاذہ کو محض ایک لفظی دعا نہیں بلکہ ایک عملی روحانی تربیت قرار دیا ہے۔ ان کی کتاب ’’ استعاذہ ‘‘ خاصے کی چیز ہے۔ علمِ اخلاق کے اس بلند پایہ بزرگ کے نزدیک استعاذہ کے تین درجے ہیں۔
پہلا درجہ لسانی ہے، جس میں انسان زبان سے پناہ طلب کرتا ہے۔ دوسرا درجہ قلبی ہے، جہاں دل اس احساس سے بھر جاتا ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ تیسرا اور بلند ترین درجہ عملی ہے، جہاں انسان کی پوری زندگی اس پناہ طلبی کی گواہی دینے لگتی ہے۔
اس مرحلے پر استعاذہ محض ایک جملہ نہیں رہتا بلکہ انسان کی شخصیت ایک ایسے اخلاقی حصار میں داخل ہو جاتی ہے جہاں برائی کے لیے جگہ کم ہوتی جاتی ہے اور خیر کی روشنی غالب آنے لگتی ہے۔
کلاسیکی اسلامی فکر میں امام غزالیؒ ( اخلاقی تصوف کے علم بردار ) نے انسانی قلب کو ایک قلعے سے تشبیہ دی ہے۔ ان کے نزدیک شیطان اس قلعے کے گرد گھومتا رہتا ہے اور موقع ملتے ہی اس کے دروازوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ دروازے دراصل انسان کی کمزوریاں ہیں ۔ حسد، غصہ، لالچ، شہرت کی طلب اور جلد بازی ۔ اگر انسان ان دروازوں کی نگرانی نہ کرے تو شیطان با آسانی اس کے دل میں داخل ہو جاتا ہے۔
استعاذہ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان دروازے بند کر دے بلکہ یہ ہے کہ وہ دل کے اندر اللہ کے ذکر کی ایسی روشنی پیدا کرے جس کے سامنے وسوسوں کی تاریکی باقی نہ رہ سکے۔
صوفیانہ فکر میں ابن عربی ( وجودی تصوف کے پیام بر ) نے انسان کے باطن کا ایک اور گہرا پہلو بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک شیطان کا سب سے خطرناک روپ انسان کی انا ہے۔
ابلیس کے انکار کی جڑ بھی یہی انا تھی، جب اس نے کہا: ’’ میں اس سے بہتر ہوں‘‘۔ جب انسان اپنی کسی خوبی، علم یا عبادت پر غرور کرتا ہے تو وہ اسی ابلیسی روش کے قریب پہنچ جاتا ہے۔
استعاذہ دراصل اس انا کو توڑنے کا عمل ہے۔ جب انسان اللہ کی پناہ مانگتا ہے تو وہ اپنی خودی کو ایک بڑی حقیقت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ اور جہاں عاجزی پیدا ہو جائے وہاں شیطان کے وسوسوں کی طاقت کمزور پڑ جاتی ہے۔روحانیت کے ایک اور زاویے کو جلال الدین رومی ( عشقیہ تصوف کے رہبر )نے محبت کے پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک شیطان اس کتے کی مانند ہے جو صرف ان لوگوں پر بھونکتا ہے جن کے پاس دنیا کی خواہشات کا گوشت ہو۔
اگر انسان کا دل اللہ کی محبت سے بھر جائے تو شیطان اس کے قریب نہیں آ سکتا۔ رومی کے نزدیک استعاذہ دراصل شر سے فرار نہیں بلکہ خیر کی طرف رجوع ہے۔ جب دل عشقِ الٰہی سے روشن ہو جائے تو وسوسوں کی تاریکی خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔
آج کا انسان ایک ایسے زمانے میں جی رہا ہے جہاں ذہنی انتشار، معلومات کے ہجوم اور مسلسل مصروفیت نے اس کی باطنی یکسوئی کو کمزور کر دیا ہے۔ انسان باہر کی دنیا میں جتنا مصروف ہو گیا ہے، اپنے اندر کی دنیا سے اتنا ہی دور ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے ماحول میں استعاذہ ایک ایسی روحانی مشق بن سکتا ہے جو انسان کو اپنے مرکز کی طرف واپس لاتی ہے۔ جب انسان چند لمحوں کے لیے بھی اللہ کی پناہ میں جانے کا شعور پیدا کرتا ہے تو اس کے دل میں سکون اور توازن پیدا ہونے لگتا ہے۔
جدید نفسیات بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ انسان کے خیالات اس کے رویّوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ استعاذہ دراصل ایک ایسی ذہنی تربیت ہے جس میں انسان اپنے شعور کو منفی خیالات اور وسوسوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
استعاذہ دراصل انسان کے روحانی سفر کا ایک بنیادی مرحلہ ہے۔ یہ ایک ایسا دروازہ ہے جو انسان کو اپنے رب کی طرف لے جاتا ہے۔ جب انسان خلوصِ دل سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے تو وہ اپنے وجود کو اس نور کے حوالے کر دیتا ہے جو ہر تاریکی کو مٹا دیتا ہے۔
آج کے شور زدہ اور مادّی زمانے میں استعاذہ ایک ایسی پناہ گاہ بن سکتا ہے جہاں انسان اپنی تھکی ہوئی روح کو سکون دے سکے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت ہماری ذات میں نہیں بلکہ اس ذات میں ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔
اور شاید یہی استعاذہ کا سب سے گہرا راز ہے کہ جب انسان سچے دل سے کہتا ہے’’ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ تو وہ دراصل تاریکی سے روشنی کی طرف ایک قدم بڑھا دیتا ہے۔







