ColumnQadir Khan

افغان رجیم کا ’’ میر علی معاہدہ‘

افغان رجیم کا ’’ میر علی معاہدہ‘‘

تحریر : قادر خان یوسف زئی

جنوبی ایشیا کی تاریخ کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ریاستوں کے عروج و زوال اور ان کی سلامتی کے تصورات اکثر ان پالیسیوں کے اسیر نظر آتے ہیں جو دہائیوں پہلے کسی بند کمرے میں مرتب کی گئی تھیں۔ دہائیوں تک پاکستان کی عسکری اور خارجہ پالیسی کا محور ایک ہی طلسماتی اصطلاح کے گرد گھومتا رہا جسے ہم ’’ تزویراتی گہرائی‘‘ یا اسٹریٹجک ڈیپتھ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس کے تحت کابل میں ایک ہم خیال اور دوست حکومت کا قیام ناگزیر سمجھا جاتا تھا تاکہ خدانخواستہ مشرقی سرحد پر کسی بڑے روایتی تصادم کی صورت میں مغربی سرحد پر ایک محفوظ پناہ گاہ اور بیک اپ میسر آ سکے۔ اگست2021ء میں جب افغان طالبان نے کابل پر کنٹرول حاصل کیا تو اسلام آباد کے پالیسی ساز حلقوں میں اسے ایک شاندار تزویراتی فتح کے طور پر دیکھا گیا، لیکن تاریخ کا جبر دیکھیے کہ محض چند برسوں میں یہ فتح ایک ایسے ڈرائونے خواب میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے ملکی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وہ افغان طالبان، جن کی سفارتی تنہائی دور کرنے کے لیے پاکستان نے دنیا بھر میں وکالت کی، اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر فتنہ الخوارج کے لیے محض ایک محفوظ پناہ گاہ نہیں بلکہ ایک فعال سرپرست کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ کوئی قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک تلخ زمینی حقیقت ہے جس کا مظاہرہ فروری اور مارچ 2026ء میں ہونے والے ان واقعات میں ہوا جب پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کے انتہائی حساس اور گہرے عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

عسکریت پسندی کی اس نئی لہر میں سب سے خطرناک عنصر کمرشل آف دی شیلف ڈرون ٹیکنالوجی کا جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہے۔ ماضی میں گوریلا جنگجو آئی ای ڈیز اور خودکش حملہ آوروں پر انحصار کرتے تھے، لیکن اب عام بازاروں میں دستیاب ڈی جے آئی میٹرس جیسے کواڈ کاپٹرز کو معمولی ردوبدل کے بعد مہلک ہتھیاروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان ڈرونز پر جی پی ٹوئنٹی فائیو گرینیڈ لانچرز اور تھرمل کیمرے نصب کر کے رات کے اندھیرے میں بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی گئی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی، جس نے روس یوکرین جنگ میں بھی تہلکہ مچایا، اب افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں سے نکل کر پاکستان کے شہری اور عسکری مراکز تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ عسکریت پسند اب صرف سرحد پر موجود چوکیوں کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ ریاست کے دل پر وار کر رہے ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کئی ڈرون سرحد پار سے نہیں بلکہ پاکستان کے اندر موجود سلیپر سیلز کی مدد سے اڑائے جا رہے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں افغان طالبان کا کردار دوغلے پن اور سفارتی منافقت کی بدترین مثال ہے۔ دنیا کو مطمئن کرنے کے لیے انہوں نے 2020ء کے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے اور یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، لیکن درحقیقت ان کی اصل وفاداری اس خفیہ ‘میر علی معاہدے’ کے ساتھ ہے جو انہوں نے فتح سے قبل حقانی نیٹ ورک، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے غیر ملکی جنگجوئوں کی ان کے نام نہاد جہاد میں حمایت کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کابل میں اقتدار ملنے کے بعد طالبان کی وزارت داخلہ نے باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں خوست ، کنڑ اور پکتیکا میں ان جنگجوئوں کے لیے رہائشی کمپلیکس اور تربیتی کیمپ تعمیر کرائے۔ جب پاکستان نے تنگ آ کر فروری2026ء کے اواخر می’’ کھلی جنگ‘‘ کا اعلان کیا اور ’’ آپریشن غضب للحق‘‘ کے تحت افغان حدود میں بائیس مقامات پر فضائی کارروائیاں کیں تو اس کا مقصد دہشت گرد فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرست افغان طالبان رجیم کے عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔ پاکستان نے لگ بھگ نوے افغان چوکیاں تباہ کیں اور سیکڑوں جنگجوئوں کو ہلاک کیا، لیکن یہ کائنیٹک کارروائیاں مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ جب تک ڈرون ٹیکنالوجی کی سستی اور آسان دستیابی موجود ہے اور افغانستان میں ان گروہوں کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے، یہ غیر متناسب جنگ رکنے والی نہیں۔ تزویراتی گہرائی کا وہ خواب جو دہائیوں پہلے دیکھا گیا تھا، اب ایک ایسے ڈرائونے بھنور میں تبدیل ہو چکا ہے، اس عفریت سے نمٹنے کے لیے اب روایتی سوچ سے ہٹ کر ایک جامع، کثیر الجہتی اور جدید تکنیکی دفاعی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔افغانستان کے پاس کبھی فضائی صلاحیت حاصل نہیں رہی ، جدید ٹیکنالوجی و مہارت کے بجائے انہیں خود کش دھماکوں کا تجربہ زیادہ رہا ہے ۔ انسانی بم تیار کرنے میں ان کا کوئی شرمناک حد تک ثانی نہیں ۔ انسانی بم کا استعمال عام شہریوں ، مساجد ، بازاروں اور عام مقامات پر کرنا ان کا ہمیشہ سے آسان ہدف رہا ہے۔ مذہب کے نام پر فرقہ کے نام تو کبھی قوم پرستی کی آڑ لے کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی روش ان کا وتیرہ رہا ہے۔ فتنہ الخوارج و کالعدم نام نہاد علیحدگی پسند گروپوں کی بڑھتی مذموم کارروائیوں کے جواب میں پاکستان کا صبر قابل مثال رہا اور مذاکرات کے ذریعے افغان طالبان رجیم کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ امریکہ و نیٹو سے آزادی کے بعد انہیں اپنی ملک میں استحکام و عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کثیر الجماعتی افغان عوام کے ساتھ مل کر عبوری حکومت کے بجائے مستقل بنیادوں پر ایک جامع اور ہر طبقے کی نمائندگی کے ساتھ حکومت سازی کرے تاکہ ایک ایسی حکومت کا قیام عمل میں آئے ، جس کے لاکھوں شہری پڑوسی ممالک سے واپس آکر ملک و قوم کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔ لیکن افغان طالبان رجیم کا رویہ نہ پہلے تبدیل ہوا تھا اور نہ تبدیل ہوگا۔

افغانستان نے انتہا پسندی و انتقام کی روش جاری رکھی ، بد قسمتی سے احسان فراموشی کی مثالیں بھی قائم کیں ۔ ایران ہو یا پاکستان ، دنوں ممالک نے افغانستان کے مہاجر عوام کو اپنے تمام تر داخلی و معاشرتی مسائل کے باوجود میزبانی کی ۔ لیکن اس کے نتیجے میں صرف دہشت گردی کا تحفہ ہی افغانستان سے ملا ۔ یہ احسان فراموشی کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ساتھ غداری بھی جنہوں نے ان کی تین نسلوں کی پروریش کے لئی اپنے ملک کے ہزاروں بے گناہ عوام اور اربوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کیا ۔ اب جبکہ پاکستان، افغان طالبان رجیم سے صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو روکے تو بجائے اس کے پشتون ولی کی روایت عمل کیا جاتا وہ خود فرنٹ پر کھل کر سامنے آچکے ہیں اور تمام اسلامی اصولوں او اخلاقی حرمتوں کو پامال کر رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button