سندھ میں گورنر کی تبدیلی: پسِ پردہ کہانی

سندھ میں گورنر کی تبدیلی: پسِ پردہ کہانی
تحریر : رفیع صحرائی
سندھ کی سیاست ایک بار پھر ہلچل کا شکار ہے۔ گورنر ہاس کراچی کی فضا بدل چکی ہے، چہرے تبدیل ہو گئے ہیں مگر سوال وہی ہیں: کیا یہ محض آئینی تقرری تھی یا طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی خاموش مفاہمتوں اور ناراضگیوں کا نتیجہ؟ ساڑھے تین برس بعد کامران ٹیسوری کی رخصتی اور نہال ہاشمی کی تعیناتی نے سندھ کی سیاسی بساط پر نئی چال چل دی ہے۔
ماضی پر نظر ڈالیں تو ڈاکٹر عشرت العباد متحدہ قومی موومنٹ کے کوٹے سے چودہ سال تک سندھ کے گورنر رہے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جو استحکام، مفاہمت اور طاقت کے توازن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس کامران ٹیسوری کا دورانیہ محض ساڑھے تین سال رہا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا سیاسی برداشت کم ہو گئی ہے یا مفادات کی سیاست زیادہ بے رحم ہو چکی ہے؟
بظاہر معاملہ سیدھا ہے۔ وزیرِ اعظم کی ایڈوائس، صدرِ مملکت کی منظوری اور نیا گورنر مقرر۔ مگر سیاست میں ’’ بظاہر‘‘ اکثر پوری حقیقت نہیں ہوتا۔ کامران ٹیسوری خود یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں انہیں’’ کس کے کہنے پر‘‘ ہٹایا گیا۔ رسمی اختیار اپنی جگہ، اصل فیصلہ سازی کہیں اور ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ واقفانِ حال ایک واقعے کو اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ ملیر میں ایک منصوبے کے افتتاح کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے ایک بینر دیکھا جس پر لکھا تھا:’’ کراچی کی ترقی کے لیے کامران ٹیسوری ضروری ہیں‘‘۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ جملہ بلاول کو ناگوار گزرا۔ شکایت ایوانِ صدر تک پہنچی جہاں آصف علی زرداری پہلے ہی صوبائی سیاسی توازن کے معاملے میں حساس سمجھے جاتے ہیں۔ اس ناراضی کی ایک بڑی وجہ وہ بیانات بھی بتائے جاتے ہیں جن میں سندھ کی ممکنہ تقسیم یا انتظامی تشکیلِ نو کی باتیں ہوئیں۔ گورنر ہائوس کراچی میں اس موضوع پر سیمینار کا انعقاد ہوا اور بعد ازاں قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو نے یہ موقف اختیار کیا کہ گورنر ہائوس میں ’’ سندھ کی تقسیم کی سوچ‘‘ کو جگہ دی جا رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست سندھ کی وحدت سے جڑی ہے۔ کراچی کو الگ صوبہ بنانے یا انتظامی علیحدگی کی کسی بھی بحث کو وہ اپنے سیاسی وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ اگر کراچی الگ اکائی بنتا ہے تو شہری ووٹ بینک کی سیاست نئے رخ اختیار کر سکتی ہے۔ یہی خدشہ پیپلز پارٹی کی سخت مزاحمت کی بنیاد ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی گردش کرتا رہا کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی سطح پر رابطے تیز کیے۔ اس کے لیے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا نام لیا جاتا ہے کہ خود صدر زرداری نے ان سے گورنر سندھ کی تبدیلی کی بات کی جبکہ اتحادی جماعت مسلم لیگ ( ن) پر بھی یہ دبائو تھا کہ معاہدے کے تحت اپنا گورنر لائیں ورنہ منصب پیپلز پارٹی کے حوالے کریں۔ یعنی پیغام بالکل واضح تھا کہ کامران ٹیسوری مزید قابلِ قبول نہیں۔
سندھ کی سیاست میں ایک غیر تحریری اصول بھی زیرِ بحث رہتا ہے۔ اگر وزیرِ اعلیٰ سندھی بولنے والا ہو تو گورنر اردو بولنے والے حلقوں سے لیا جائے اور گورنر شپ کراچی کے حصے میں آئے۔ یہ فارمولا طاقت کے توازن اور نمائندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گورنر کے لیے مسلم لیگ ( ن) کے پاس نام زیادہ نہ تھے۔ ان کے پاس غالباً پہلی ترجیح بشیر میمن سابق ڈی جی ایف آئی اے تھی مگر پیپلز پارٹی کے لیے وہ قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ان کے بعد بزرگ سیاستدان اور پرانے مسلم لیگی سلیم ضیاء کا نام آتا ہے مگر علالت کے باعث وہ عملی سیاست سے دور ہیں۔
بالآخر قرعہ فال نہال ہاشمی کے نام نکلا۔ یہ ایسا انتخاب تھا جس پر اتحادیوں کو کھلا اعتراض نہ تھا۔
جہاں تک متحدہ قومی موومنٹ کا تعلق ہے تو وہ اس فیصلے سے سخت ناراض دکھائی دیتی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ گورنر ہائوس کو ’’ عوامی گورنر ہائوس‘‘ بنانا اگر جرم ہے تو یہ جرم جاری رہے گا۔ ان کے مطابق کامران ٹیسوری کو گل پلازہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔ فاروق ستار کا موقف ہے کہ کچھ اہم حقائق منظرِ عام پر آنے والے تھے اسی لیے تبدیلی لائی گئی۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے فیصلے کو غلط قرار دیا اور ایم کیو ایم قیادت سے حکومتی اتحاد پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔
اگر کامران ٹیسوری کی گورنر شپ کی بات کی جائے تو تو ان کا دور ایم کیو ایم کے لیے ریلیف ثابت ہوا۔ انہوں نے پارٹی کے بند دفاتر کے تالے کھلوا کر انہیں بحال کیا۔ گورنر ہائوس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیئے۔ گورنر ہائوس میں عوامی تقریبات کا انعقاد کیا اور شہری روابط کو بڑھانے پر توجہ دی۔ ان کا ایک اور اہم کام گورنر ہائوس کے باہر شہنشاہ اکبر کی زنجیرِ عدل کی طرز پر ’’ امید کی گھنٹی‘‘ لگوانا تھا۔ یہ اقدامات علامتی ضرور تھے مگر شہری سیاست میں قربت کا احساس پیدا کرتے رہے۔
سیاست میں عہدے آتے جاتے رہتے ہیں مگر فیصلے تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ سندھ کی گورنر شپ کی یہ تبدیلی وقتی انتظامی اقدام سے بڑھ کر طاقت، مفاہمت اور بیانیے کی جنگ دکھائی دیتی ہے۔ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا کہ یہ قدم استحکام لاتا ہے یا سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھاتا ہے۔






