Abdul Hanan Raja.Column

جولین کے خدشات اور نفتالی بینیٹ کی پیش گوئی 

جولین کے خدشات اور نفتالی بینیٹ کی پیش گوئی

تحریر : عبد الحنان راجہ

جولین چرچل ماہر تعلیم اور معروف کنیڈین یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کے مطابق ’’ اسرائیل، بھارت اور امریکہ نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے۔ پروفیسر کے مطابق پاکستان کے پاس 170جبکہ اسرائیل جو غیر علانیہ جوہری طاقت کے پاس 90جوہری ہتھیار ہیں مگر یہ بات دنیا بھر کے دانشوروں سمیت امریکہ، فرانس، روس برطانیہ، عرب ممالک اور اقوام متحدہ تک کو سمجھ نہیں آتی کہ آج تک انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی نے اسرائیل کے جوہری پروگرام کو روکنے یا اس کی جانچ پڑتال کی زحمت کیوں نہ کی ‘‘۔

پروفیسر کی تحریر چشم کشا اور عالمی ضمیر کے منہ پر زور دار طماچہ، کیا یہ دوغلی ،منافقانہ و تعصبانہ رویہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو نظر نہیں آتا اور وہ اس کے پیچھے چھپے مضمرات اور عزائم کو نہیں سمجھتے کہ کس طرح دنیا کے طاقتور ممالک اسرائیل کے لیے آنکھیں بند اور درہردہ اس کی پشت پناہی کرتے ہیں کہ جسے انسانی حقوق کی پامالی کے لیے کھلی چھٹی جبکہ یہ تنظیمیں جانوروں کے حقوق کی پامالی تو کبھی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ہنگامہ بپا کیے رکھتی ہیں۔ ماحولیات کی عالمی تنظیمات ہوں یا انسانی حقوق کے علمبردار انہیں ایران کے پٹرولیم ذخائر پر اسرائیلی حملوں پر خدشات ہیں اور نہ غزہ میں ہزاروں بچوں اور تہران میں 150ننھے طلبہ کی شہادت پر افسوس۔ مسلم دنیا کے خلاف کفر کا خبث باطن پوری طرح ظاہر مگر حیف کہ مسلم دنیا پھر بھی کم از کم مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنانے سے گریزاں۔ اکثریت مسلم ممالک نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی بجائے امریکی چھتری تلے خود کو محفوظ سمجھ رکھا ہے اور کچھ روس کے دست نگر۔ مجال کہ نیٹو طرز پر اسلامی دفاعی نظام بنانے کی کبھی سوجھی ہو۔

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ترکیہ اور پاکستان بارے بڑی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ترکیہ نیا ایران ہے‘‘، یروشلم میں بڑی امریکی یہودی تنظیموں کے سربراہوں کی کانفرنس میں انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ جوہری پاکستان کے ساتھ ایک مخالف سنی محور قائم کر رہا ہے۔ اسرائیل، بھارت اور امریکہ مل کر پاکستان اور طاقتور مسلم ممالک کے خلاف جال بن رہے ہیں بھارت کی ناکامی کے بعد انہوں نے طالبان رجیم کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا طوفان بپا کر کے اندرونی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم کوشش اور پھر اسی دوران مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے ایران پر حملہ مگر نظر آتی کھلی دشمنی کے باوجود اس سے بے پروا ہمارے اندر کے کچھ فتنہ گر اپنے ہی ملک کے خلاف حشر بپا کیے ہوئے ہیں۔ قوم کے ذہنی، فکری اور نظریاتی اتحاد پاش پاش کرنے کے لیے انکی کوششیں جاری ہیں۔ نادان دوستوں کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک انہیں دانا دشمنوں کے مکر و فریب اور جال سے بچائے کہ پاکستانی عوام کی وحدت اسے ایک مضبوط، عالی حوصلہ اور جرات مند قوم بنا سکتی ہے۔

ایک صدی قبل کہ جب اسرائیل کا وجود بھی نہ تھا، اقبال کا ابلیس کی مجلس شوریٰ میں کہا درست ثابت ہو رہا ہے کہ

وہ یہودی فتنہ گر وہ روح مزدک کا برووز

ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار

امریکی و مغربی ماہرین بھی اب اسرائیلی قبا چاک کرنے لگے ہیں مگر آنکھیں نہیں کھل رہیں تو خلیجی ممالک اور اقوام متحدہ کی۔ پروفیسر جان میر شائمر نے ایران اسرائیل جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اسرائیل جیسا بے رحم اور قاتل ملک کوئی نہیں اور شکست کی صورت میں وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ جبکہسابق امریکی فوجی عہدیدار کرنل میکگریگر کے مطابق امریکہ کا اسرائیل پہ موثر قابو نہیں رہا، ارب پتی صیہونی ڈونرز کے زیر اثر امریکی صدر ایسے فیصلے کرتے ہیں کہ جیسے وہ امریکہ نہیں اسرائیل کے صدر ہیں۔

اب یہ ایسی جنگ کہ جس کا ایندھن خلیجی ممالک اور ایران یعنی مسلم دنیا۔ اب بھی اگر امت بالخصوص عرب دنیا ہوش اور غیرت کا مظاہرہ نہیں کرتی کہ ایک طرف امریکی دبدبہ زوال پذیر تو اسرائیل کو اپنی بقا کے لالے پڑے ہیں ایسے میں خلیجی ممالک کے لیے بہترین وقت کہ وہ طاقت کے نئے توازن یعنی مشرق کی طرف بڑھیں۔ پاکستان ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا دفاعی اتحاد مسلم دنیا کو مستقبل کے خطرات سے بچا سکتا ہے۔ اس وقت ایک طرف ایران پاکستان اور روس کے ذریعے دنیا سے رابطے میں ہے تو دوسری طرف پاکستان سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو آندھی جنگ کا حصہ بننے سے روکے ہوئے ہے۔ ایسے میں ترکیہ اور چین کا کردار اہم ہو سکتا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو امریکی اڈے بتدریج ختم اور مشترکہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر قائل کر کے اسرائیلی خطرہ سے ہمیشہ کے لیے نجات پا سکتے ہیں کہ ان کے سر پر ترکیہ کی مضبوط فوجی قوت کہ وہ نیٹو کا بھی ممبر اور پاکستان کی ایٹمی ڈھال اور ہر دو ممالک کی سپاہ بے خوف اور جری کہ وقت آنے پر وہ امریکی فوجیوں کی طرح دم دبا کر بھاگنے والے نہیں۔ اور ایران کی جرات اور عوام کی استقامت نے گریٹر اسرائیل کے خواب کو چکنا چور کرنے کا موقع پوری امت مسلمہ اور بالخصوص عرب ممالک کو فراہم کر دیا ہے اب یہ ان پر منحصر کہ وہ اب بھی دجالی سائے میں پناہ لیتے ہیں یا اسلامی اتحاد کا حصہ بنتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button