Column

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں

میں بڑا اضافہ

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑا اضافہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات براہ راست عام آدمی کی زندگی اور ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ پٹرول کی قیمت میں 55روپے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اتنا ہی اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی قیمت 335روپے 86پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ لہٰذا یہ فیصلہ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ حکومتی موقف کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ عالمی حالات غیر معمولی ہیں اور حکومت کو صورت حال کے مطابق سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ اس وقت پاکستان کے پاس پٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں، لیکن اگر عالمی کشیدگی کا سلسلہ طویل ہوگیا تو حالات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا اثر پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر براہ راست پڑتا ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ مقامی قیمتوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت کے قریباً ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے خورونوش، زرعی پیداوار، صنعتی سامان اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ خصوصاً ڈیزل کی قیمت میں اضافہ زرعی شعبے پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ زرعی مشینری اور مال بردار گاڑیاں زیادہ تر ڈیزل پر چلتی ہیں۔ اس طرح یہ اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے پٹرول پر لیوی میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی لیٹر لیوی 105 روپے 37پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اقدام مزید

سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف حکومت عالمی حالات کا حوالہ دے کر قیمتیں بڑھانے کا جواز پیش کرتی ہے جب کہ دوسری جانب ٹیکس اور لیوی میں اضافہ کرکے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ اس صورت حال میں عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصل مجبوری کیا ہے اور پالیسی ترجیحات کیا ہیں۔ حکومت کا یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ جیسے ہی عالمی حالات بہتر ہوں گے قیمتوں میں کمی بھی اسی تیزی سے کی جائے گی۔ دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی بھی ایک اہم عنصر ہے جس کا اثر توانائی کی عالمی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ اگر علاقائی صورت حال مزید خراب ہوتی ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں سعودی آرامکو کی جانب سے ینبع پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات پاکستان کے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کو حکومت نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متبادل انتظامات کر رہا ہے۔تاہم یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اصلاحات کے بغیر ایسے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنی توانائی کی درآمدی انحصار کو کم کرنا ہوگا بلکہ متبادل توانائی ذرائع جیسے شمسی، ہوا اور پن بجلی کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔ اگر ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ مقامی ذرائع سے پورا کرنے کے قابل ہوجائے تو عالمی منڈی کے اتار چڑھائو کے اثرات بھی نسبتاً کم ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کے نظام کا بھی ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔ اگرچہ حکومت کو مالی وسائل درکار ہوتے ہیں مگر موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ایسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن کے ذریعے کم آمدن والے طبقوں کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے یا پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سبسڈی دی جائے، تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔ مختصر یہ کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ حکومت کے لیے شاید ایک ناگزیر معاشی فیصلہ ہو، مگر اس کے اثرات عام آدمی کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہوں گے۔ موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت نہ صرف قلیل المدتی اقدامات کرے بلکہ توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات پر بھی توجہ دے۔ شفاف پالیسی سازی، ٹیکسوں کے بوجھ میں توازن اور متبادل توانائی کے فروغ کے ذریعے ہی پاکستان اس طرح کے بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹ سکتا ہے۔ ورنہ ہر چند ماہ بعد پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام شہری ہی برداشت کرتا رہے گا۔

طالبان رجیم کے 527کارندے ہلاک

پاک فوج کی جانب سے افغانستان کے خلاف جاری آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اب تک افغان طالبان کے 527کارندے ہلاک اور 755زخمی ہوچکے ہیں جب کہ متعدد چیک پوسٹیں تباہ یا قبضے میں لی جاچکی ہیں۔ حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران بھاری ہتھیاروں، آرٹلری اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ صورت حال خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں قربانیاں دیتا آیا ہے۔ ملک کے سرحدی علاقوں خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ قومی معیشت اور داخلی استحکام کو بھی متاثر کیا۔ ایسے میں اگر سرحد پار سے شدت پسند عناصر پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالیں تو ریاست کے لیے اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اسی تناظر میں پاک فوج کی حالیہ کارروائیوں کو سیکیورٹی حکام ایک دفاعی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کرم، ژوب اور قلعہ سیف اللہ کے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد افغان پوسٹیں تباہ کی گئیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے جنگجو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان اپنی سرحدی سلامتی کے معاملے میں سنجیدہ اور فعال حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ تاہم اس صورت حال کا ایک اہم پہلو سفارتی بھی ہے۔ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں افراد کا روزگار اور تجارت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی طویل کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معاشی اور انسانی سطح پر بھی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سرحدی سلامتی کے اقدامات کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رہنے چاہئیں۔ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا پائیدار حل صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے علاقائی تعاون اور سیاسی حکمت عملی بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر دونوں ممالک دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تو خطے میں امن کے امکانات زیادہ روشن ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مثر اقدامات جاری رکھے، سفارتی کوششوں پر بھی توجہ دی جائے۔ خطے کا امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب سیکیورٹی اور سفارت کاری دونوں کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

جواب دیں

Back to top button