
ہمسائے کا منہ لال، ہم نے تھپڑوں سے کر لیا
تحریر : سی ایم رضوان
بعض تجزیہ کار یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ امریکہ بالآخر ایران، امریکہ، اسرائیل جاری جنگ سے نکل جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسا کچھ ہو بھی جائے، لیکن سردست ایسے امکانات نظر نہیں آ رہے، کیونکہ اس تباہ کن جنگ کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اس جاری جنگ سے نکلنے کے بجائے اس میں مزید گہرائی سے شامل ہو رہا ہے، کیونکہ وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے 6مارچ 2026ء کو بیان دیا تھا کہ امریکہ اس جنگ کے چار سے چھ ہفتے تک جاری رہنے کی توقع رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے 28فروری 2026ء کو ’’ آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک تہران سمیت ایران بھر میں 3000سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے ’’ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘‘ کا مطالبہ ابھی بھی برقرار ہے اس کے بغیر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ڈیل پر آمادہ نہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنا، اس کی بحریہ کو تباہ کرنا اور ایران میں ’’ حکومت کی تبدیلی‘‘ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ایران نے جواب میں اس سے دو ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے خطے کے متعدد ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکہ نے مشرقِ وسطٰی میں مزید فوج اور بحری بیڑے ( جیسے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ) تعینات کر دئیے ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں عوامی سطح پر اس جنگ کی حمایت کم ( قریباً 25فیصد) ہے، لیکن فی الحال امریکی حکومت کے اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے تک اس تنازع سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اس جنگ کے دوطرفہ فریقوں اور متاثرہ ملکوں نے اپنے اپنے خارجی اور داخلی معاملات کو اپنی ضروریات، پالیسیوں، قوانین اور ترجیحات کے تناظر میں ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان بھی ظاہر ہے خطے میں جاری اس جنگ کا واضح ترین متاثرہ ملک ہے لہٰذا اس نے بھی اپنی ایک خارجہ عسکری و سفارتی اور داخلی پالیسی ترتیب دی ہے۔ پاکستان کی خارجہ و عسکری پالیسی کی آج کی عالمی صورتحال جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے، لیکن اس کی عارضی اور مستقل داخلی خاص طور پر عام پاکستانی کے حق میں پالیسی پر جتنا بھی سر پیٹا جائے اور ماتم کیا جائے، وہ تھوڑا ہے، کیونکہ بدقسمتی سے جب سے پاکستان بنا ہے تب سے لے کر آج تک یہاں آنے والی ہر جائز ناجائز اور وردی و شیروانی والی حکومت نے اپنے اوپر معیشت کے حوالے سے ایک ڈالر کا پڑنے والا بوجھ بھی سو گنا کر کے عوام پر ہی ڈالا ہے۔ اس لئے یہاں آنے والی ہر معاشی افت حکمرانوں کے لئے ایک نئی اور موٹی دیہاڑی کی صورت میں ان کے ہاں عید جیسی خوشیاں اور عوام کے لئے عاشورہ محرم جیسا سوگ اور محرومی لے کر آتی ہے۔ اس تناظر میں حکومت کی خوش نصیبی اور عوام کی وہی ازلی بدنصیبی کہ ادھر ایران امریکہ اسرائیل کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں لگی آگ کو آٹھ روز پورے نہ ہوئے اور ادھر پاکستانی حکومت نے نویں روز کی ابتدا سے قبل یعنی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب رات بارہ بجے سے پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل کی فی لٹر قیمتوں میں فوری طور پر 55، 55روپے کا اضافہ اور ساتھ ہی مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ یہیں پر بس نہیں بلکہ مزید خون نچوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے یہ پیشگی خدشہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ عالمی صورتحال کے پیش نظر مزید سخت فیصلے بھی کرنا پڑیں گے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی 335روپے 86پیسے فی لٹر ہو گئی ہے، جس کا اطلاق اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کر کے کر دیا ہے۔ ساتھ ہی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کر ڈالی اور کہا کہ اس وقت ہمارے پاس پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی معقول مقدار موجود ہے، تاہم عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم چاہتے ہیں عوام پر کم از کم بوجھ ڈالا جائے۔ ساتھ ہی یہ درجہ دوم کے حکمران عوام کو ٹرک کی مدہم سی بتی دکھانا بھی نہیں بھولے، کہ جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کر دیں گے۔ یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں۔ البتہ کشیدگی میں کمی کے لئے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل دوسرے ممالک سے رابطے میں ہیں۔ شکر ہے پروازوں کی بندش کے باعث جہازوں پر بیٹھ کر یہ لوگ بیرون ملک دوروں پر روانہ نہیں ہوئے، ورنہ اس مد پر بھی بیچارے عوام کے کروڑوں ڈالر ڈوب جاتے۔ بہرحال تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اس پریس کانفرنس میں قائدین نے انجانے میں حکومتی بدنیتی اور عوام دشمنی سے بھی پردہ یہ بتا کر اٹھا دیا کہ سعودی آرامکو نے بھی ینبع پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ یعنی باشعور عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ملک میں تیل کے ذخائر بھی کافی ہیں، سعودیہ جیسا ہمدرد دوست بھی بوقت ضرورت تیل بقدر وافر دینے کو تیار ہے تو اب عید سے پہلے تیل مہنگا کر کے عوام کا رہا سہا خون خشک کرنے کی موجودہ سیانے حکمرانوں کو کیا ضرورت پڑ گئی تھی۔ اس کی دلچسپ وجہ بھی اسحاق ڈار نے یہ بتائی کہ کیونکہ خطے میں جنگ کی صورتحال ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ( لہٰذا ہم نے سوچا کیوں نہ سکون سے بیٹھے پاکستانی عوام کو بھی چونا لگانے کا پروگرام شروع کر دیا جائے) کیونکہ وزیر اعظم اس متعلق بہت فکر مند ہیں، وزیر اعظم نے جمعہ کو خود میٹنگ کی ہے، جس میں صورتحال کا جائزہ لیا، کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے۔ کوئی راستہ نکالنا تھا، پس ہم نے راستہ نکال لیا، کہ گو کہ پاکستان میں کوئی میزائل، گولہ بھی نہیں گرا، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہیں۔ زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ البتہ گہری سوچ اور صدمے کی وجہ یہ تھی کہ اس جنگ سے فوائد کیا لئے جائیں۔ بالآخر یہ فیصلہ کر ہی لیا کہ پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی جائیں۔ قارئین! پاکستانی حکومت کو تکلیف یہ تھی کہ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہو رہا ہے، سو انہوں نے ہمسائے کا منہ لال دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار کر لال کر لیا۔ ہونہار وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ ہم غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں۔ پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہے کہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ اب ہم ہفتہ وار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیں گے۔ وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم نے جو کمیٹی تشکیل دی وہ پانچ روز سے کام کر رہی ہے اور عالمی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خطیر اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ہماری روزانہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ توانائی کا براہ راست تعلق پاکستانی معیشت سے ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس وقت مستحکم پوزیشن میں ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے، تاہم اگر یہ سلسلہ زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کمیٹی اگلے دو روز میں وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز کی ساتھ بھی ملاقات کرے گی اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور ہم صوبوں کو ریلیف دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں وزرائے اعلیٰ کو بھی حصہ دیں گے،، اور مل کر عوام کو چونا لگائیں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پٹرول پر لیوی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ فی لٹر لیوی میں 20روپی 97پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول پر لیوی بڑھ کر 105روپے 37پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اس اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پٹرول پر فی لٹر لیوی 84روپے 40پیسے مقرر تھی، تاہم نئے اضافے کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی کمیابی جیسے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔ ان حالات میں حکومت پاکستان نے بغیر کسی معاشی وجہ کے برصغیر کے ماضی کے مہاجنوں جیسا کردار ادا کرتے ہوئے عوام سے پہلے ہی جگا ٹیکس لینا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ طے ہے کہ حکومت کے کھاتے میں جو رقم عوام کی جیبوں سے چلی جائے گی۔ کل کلاں اگر تیل سستا بھی ملا جو کہ ظاہر ہے سعودی عرب سے ملے گا۔ لیکن اس اضافی رقم جو اب وصول کی جائے گی، اس میں سے سبسڈی تو کبھی نہیں ملے گی، لیکن عوام پر ظالمانہ اقدام کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں پیشگی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم بھی گراتے ہوئے اب بجلی صارفین پر ماہانہ ہزاروں روپے کے فکسڈ چارجز عائد کر دئیے گئے ہیں، صارفین کو اب بجلی استعمال نہ کرنے پر بھی ماہانہ ہزاروں روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ان فکسڈ چارجز کا نفاذ سولر سسٹم لگوانے والے صارفین کو زیادہ متاثر کرے گا جبکہ پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز کے صارفین پر بھی یہ اضافی بوجھ پڑے گا۔ لہٰذا نیپرا کی منظوری کے بعد سولر سمیت تمام تھری فیز میٹرز کے حامل صارفین کے لئے فکسڈ چارجز نافذ کر دئیے گئے ہیں۔ پاکستان میں پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے حکومتی فیصلوں پر عوام کا ردعمل مہنگائی کے خلاف احتجاج اور شدید ناراضی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے اب پٹرول اور بجلی کے مزید مہنگا ہونے سے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلے ہی سے کہہ رکھا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھے گی اور بجلی کے نرخوں میں کمی کرے گی۔ اب ان کے یہ تمام دعوے اسی طرح جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں جس طرح کہ سابق وزیر اعظم بانی پی ٹی آئی جھوٹوں کا چیمپئن تھا۔ اب گیند وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے، کہ آیا وہ بھی اپنا انجام بانی پی ٹی آئی والا چاہتے ہیں یا کچھ مختلف، کیونکہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر ملک دوست اور عوام دشمن سپاہی ہیں۔ شہباز شریف کے جھوٹ دیکھ کر اگر کل کلاں ان کی ترجیحات بدلیں تو پھر اس سول حکومت کو بھی ایک لمحہ بھی ٹھہرنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
سیا یم رضوان






