بسنت۔ پالا اُڑنت

بسنت۔ پالا اُڑنت
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
صوبہ پنجاب میں پتنگ بازی کے جان لیوا کھیل پر بیس سال سے زائد عرصہ سے پابندی لگی رہی ہے۔ کیمیکل، دھاتی اور مانجھے والی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی تھی یعنی انسانی جان کے لیے نقصان دہ پتنگ اڑانے والی ہر چیز پر پابندی تھی۔ پتنگیں بنانے، بیچنے اور رکھنے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ پتنگ بازی جو کہ ایک سستی اور بے ضرر سی تفریح تھی وہ خونی کھیل میں بدل چکی تھی۔ آئے روز گردن کٹنے کے واقعات معمول بن چکے تھے۔ اس پابندی کی وجہ سے ڈور پھرنے سے اموات اور زخمی ہونے کے واقعات کی روک تھام تو ہو گئی لیکن پنجاب کے لوگ ایک تفریح سے محروم ہو گئے جو نہ صرف لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا سبب تھی بلکہ اس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار بھی جڑا ہوا تھا۔ عوام کے اپنے غیرذمہ دارانہ رویّے کی وجہ سے ایک پوری انڈسٹری تباہ ہو گئی۔ من حیث القوم ہم جذباتی لوگ ہیں۔ محبت اور نفرت میں انتہا پسند ہیں۔ ہم لوگ آسانی سے ہار نہیں مانتے۔ مخالف کی جیت کو دھاندلی کا الزام لگا کر گہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب پتنگ بازی کے دوران پیچ لڑانے کا سلسلہ شروع ہوا تو اسے آرٹ سمجھا جانے لگا۔ پتنگ اڑانا مہارت کا کام تھا۔ پیچ لڑانا اس سے آگے کی مہارت بن گیا۔ لوگوں میں تحمل تھا، برداشت بھی تھی۔ پتنگ کاٹنے اور کٹوانے والا دونوں ہی لطف اٹھاتے تھے۔
آغاز میں پتنگیں ہر موسم میں اڑائی جاتی تھیں۔ پھر تجربے سے ثابت ہوا کہ یہ ایک موسمی کھیل ہے۔ موسمِ سرما میں ہوا کی کمی، برسات کے موسم میں ہوا میں نمی اور موسمِ گرما میں شدید دھوپ، آندھی اور طوفان کے باعث یہ کھیل ممکن نہیں۔ اس کے لیے مناسب ترین موسم بہار ہی ہے جب ہر لحاظ سے پتنگ بازی کے لیے فضا اور حالات سازگار ہوتے ہیں۔ یہ کھیل کھیلنے والے موسم کی شدت سے خود بھی محفوظ رہتے ہیں چنانچہ پتنگ بازی بھی موسمِ بہار میں شروع ہو گئی۔
ادھر بسنت بھی موسمِ بہار میں ہی منائی جاتی تھی جب چاروں طرف سرسوں پھولی ہوتی تھی ہر طرف ہری بھری فصلیں اور پیلی سرسوں ماحول کو مسحور کن بنا دیتی تھیں۔ بسنت کا تہوار موسمِ سرما کے اختتام اور موسمِ بہار کی آمد کا اعلان ہوتا ہے جب گرم لحافوں کو اتار کر ہلکی پھلکی رضائی کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ مویشی رات کے وقت باہر بندھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ موسم معتدل ہوتا ہے، نہ زیادہ سرد اور نہ ہی گرم۔ اس کے لیے پنجابی کی ایک ضرب المثل بھی بولی جاتی ہے’’ بسنت، پالا اڑنت‘‘ یعنی بسنت آئی اور سردی غائب ہو گئی۔
ایک ہی موسم ہونے کے باعث بسنت اور پتنگ بازی اس طرح ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوتے چلے گئے کہ بسنت کا نام آتے ہی پتنگ بازی ذہن میں آ جاتی۔ بسنت کے معاملے میں مشہور صوفی بزرگ شاہ حسین کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ شاہ حسین ایک ہندو لڑکے مادھو لعل کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ مادھو لعل کو پتنگیں اڑانے کا بہت شوق تھا۔ شاہ حسین اس کا شوق پورا کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ شاہ حسین کے انتقال کے بعد ان کے مزار پر دو تہوار منائے جانے لگے۔ ایک کو میلہ چراغاں کا نام دیا گیا اور دوسرے کو بسنت کہا گیا۔ میلہ چراغاں میں مزار اور اس کے اردگرد چراغ جلائے جاتے۔ بسنت کے دن ڈھول بجائے جاتے اور پتنگیں اڑائی جاتی تھیں۔ یہ تہوار پہلے پہل مادھو لعل حسین کے مزار اور میلے تک ہی محدود تھا۔ پھر اس کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا اور یہ لاہور سے نکل کر دیگر شہروں میں بھی پھیل گیا۔ قصور شہر میں بسنت کا تہوار بہت بڑا فیسٹیول بن گیا تھا جہاں ہر سال 19فروری کو بسنت بڑے تزک و احتشام سے منائی جاتی۔ اس کے بعد پنجاب کے ہر بڑے چھوٹے شہر اور قصبے میں پھیل کر بسنت نے قومی تہوار کی شکل اختیار کر لی۔ البتہ ہر شہر میں بسنت الگ الگ تاریخوں میں منائی جاتی۔ دن کے علاوہ رات کے وقت تیز روشنیوں کی مدد سے فضا بقعہ نور بنی ہوتی۔ اونچی آواز سے موسیقی کے سُر بکھرے ہوتے۔ نوجوان، بوڑھے، بچے، مرد و خواتین سبھی بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے کھیل میں دلچسپی سے حصہ لیتے۔ جونہی کوئی پتنگ کٹتی فضا بو کاٹا کے فلک شگاف شور سے بھر جاتی، ڈھول کی تھاپ پر رقص کر کے خوشی کا اظہار کیا جاتا۔ بسنت کے موقع پر خصوصی پکوان پکائے جاتے۔ ایک طرح سے اس تہوار کے ذریعے زندگی کی تلخیوں اور مصائب کا کتھارسس ہو جاتا تھا۔ ہر طرف رنگ و نور اور خوشبوئیں بکھیر کر ان میں سے خوشیاں کشید کی جاتی تھیں۔
ہمارے عمومی رویّوں نے اس کھیل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سپورٹسمین سپرٹ کی جگہ انا، ضد اور تکبر نے لے لی۔ اپنی پتنگ کٹوانا سبکی اور توہین سمجھا جانے لگا۔ پتنگ بازی میں مہارت کی جگہ ناجائز ذرائع کا استعمال کر کے جیت ہی کو سب کچھ سمجھا جانے لگا۔ پہلے پہل پتنگ اڑانے والی ڈور پر سریش اور کانچ کی تہہ چڑھا کر اسے تیز کیے جانے سے اس کا آغاز ہوا۔ اسے مانجھا لگانا کہتے تھے۔ یہ ڈور تلوار کی طرح تیز ہوتی تھی۔ ہاتھوں اور گردن کو زخمی کر دیتی تھی مگر بہر حال پیچ لڑاتے وقت کٹ بھی جاتی تھی۔ انا کی مکمل طور پر تسکین نہ ہوتی تھی چنانچہ مانجھے والی ڈور کی جگہ دھاتی ڈور نے لے لی اور یوں ایک تفریحی کھیل خونیں کھیل میں تبدیل ہو گیا۔ دھاتی ڈور بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر نہ صرف الیکٹرک شاک کا باعث بننے لگی بلکہ بجلی کے بریک ڈان کا سبب بھی بننے لگی۔ ٹرانسفارمر جلنے لگے۔ دھاتی ڈور نے قاتل ڈور کا روپ اختیار کر لیا۔ راہ گیروں خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے لگے اور مجبوراً حکومت کو پتنگ بازی پر پابندی لگانی پڑی۔
اب پنجاب حکومت نے صرف لاہور کی حد تک 6 سے 8فروری تک ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ پتنگ بازی اور بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے۔ عوام نے اس اجازت پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم لاہوریے بڑے پرجوش ہیں۔ دو دہائیوں کی پابندی کے بعد لوگوں میں یہ شعور بھی اجاگر ہوا ہے کہ اس کھیل کو تفریح کے طور پر لینا ہی مناسب ہے۔ تاہم ممکنہ طور پر چند غیرذمہ دار من چلے بھی اس صاف ستھرے کھیل کو آلودہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسے عناصر کو کڑی سزا دے کر دوسروں کے لیے مثال بنانا چاہیے تاکہ پتنگ بازی کی دم توڑتی صنعت کو آکسیجن فراہم کی جا سکے۔ اگر ’’ لہوریوں‘‘ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو ہو سکتا ہے پتنگ بازی پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگ جائے اور ایک پوری انڈسٹری لوگوں کی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھ جائے۔





