Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Editorial

سمندری حدود کی نگہبان پاک بحریہ

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان نیول اکیڈمی کراچی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن بقائے باہمی اور ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دشمنوں کی کارروائی پر ہماری افواج کا یہ جوابی رد عمل تمام مذموم عزائم رکھنے والوں کے لیے ایک یاد دہانی کا کام کرے گا کہ پاکستان کی مسلح افواج مکمل طور پر ہمہ وقت تیار ہیں اور تمام خطرات سے ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔میری ٹائم مفادات کے تحفظ کے لیے بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہماری ترجیح ہے۔
خوشی ہے کہ نیوی اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہی ہے، پاکستان کا معاشی مستقبل پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابی سے منسلک ہے جبکہ اس منصوبے میں گوادر بندرگاہ کو بنیادی جزو کی حیثیت حاصل ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاک بحریہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔وزیراعظم نے دوست ممالک کے افسران کو اپنے اپنے ممالک کی افواج میں کمیشن حاصل کرنے پر بھی مبارکباد دی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ سمندری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے معاشی سرگرمیوں، میرین سکیورٹی اور سٹریٹجک دفاع کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر ایک مضبوط اور متحرک بحریہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے اور میری ٹائم ڈومین ٹیکنیکل ترقی اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کی وجہ سے مسلسل ترقی کر رہا ہے اور یہ تبدیلیاں عالمی اور علاقائی دونوں سطح پر ہو رہی ہیں اور اِن تبدیلیوں جو درحقیقت مشکل ترین چیلنجز ہیں، مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود کو تیار کرنا ہے،
بلاشبہ ہمارے معاشی حالات ملکی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں لیکن اِس کے باوجود پاک فوج کے تینوں شعبوں نے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ہر ممکن اور کامیاب کوشش کی اور ہر موقعے پر دشمنوںکو دھول چٹائی ہے، پاک فوج کے تینوں شعبوں نے کم ترین وسائل کے باوجود پاکستان دشمنوں کے سامنے فولادی بند باندھ رکھا ہے اسی لیے آج تک دشمن میں جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکے کیونکہ اُس کے تمام ایسے مقاصد کو خاک میں ملانے والے اپنے اپنے محاذ پر ہمہ وقت تیار کھڑے ہیں اور ان کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے،پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے، ہم کسی بھی ملک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، تاہم ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے اور وقت پڑنے پر ہماری مسلح افواج نے ثابت بھی کیا ہے کہ ہم کمزور پڑنے والے نہیں بلکہ مارگرانے والی قوم ہیں،
اِس لیے دشمن کا بالادستی کے لیے کوئی بھی پوشیدہ یا غیر فطری انتظام کبھی کامیاب نہ ہو گا دشمن نے جب بھی پاکستان کے زمینی، فضائی اور بحری دفاع کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی، انہیں ہماری جانب سے منہ توڑ جواب ملا ہے۔ پاک فوج کے تینوں شعبے اپنی اپنی پیشہ وارانہ مہارت کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں لیکن پاک نیوی پر بیک وقت کئی طرح کی ذمہ داریاں ہیں جنہیں کم ترین وسائل کے باوجود انتہائی احسن انداز سے پورا کیا جارہا ہے۔
پاک چین دوستی کا مظہر عظیم منصوبہ اقتصادی راہداری اپنی تکمیل کے قریب پہنچ رہا ہے یوں اقتصادی راہداری کی وجہ سے پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوچکا ہے اور سی پیک کے مکمل ہوتے ہی پاکستان نہ صرف چین بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کے لیے خلیج اور افریقہ سے رابطوں کا آسان ترین راستہ بن جائے گااِس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور سمندری نقل و حمل کو محفوظ کرنے کے لیے پاک نیوی کی ذمہ داریوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوجائے گا ،جغرافیائی لحاظ سے ہم انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور اقتصادی راہداری کے ذریعے ہی یہ ممالک معاشی فائدے اٹھاسکتے ہیں،
مشرق وسطیٰ، وسط ایشیا، افریقہ، جنوبی اورمشرقی ایشیاء کو افغانستان اور روس سے جوڑنے والی اہم راہداری پاکستان ہے، یہی وجہ ہے کہ اقتصادی راہداری کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے  خطے میں بڑھتی بحری معاشی، تجارتی اور دفاعی سرگرمیوں کی وجہ سے مضبوط میری ٹائم پالیسی کی اہمیت زور پکڑرہی ہے اورانہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاک بحریہ ہمہ وقت تیار ہوتی ہے، پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل پر پاکستان خطے میں معیشت کا مرکز اور مضبوط بحری قوت بن جائے گااسی لیے جہاں پاک فوج کے دیگر شعبے اِس عظیم منصوبے کو دشمنوں سے محفوظ بنارہے ہیں، وہیں پاک بحریہ بھی کم ترین وسائل کے باوجود اپنی ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے پوری کررہی ہے، آج دنیا کے کئی ممالک اِس منصوبہ کا حصے بننے کے خواہاں ہیں تو اِن کی سرمایہ کاری اور منصوبوں کو تحفظ دینے کی ذمہ داری پاک فوج بالخصوص پاک بحریہ پر آئے گی
اِس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ مستقبل کے چیلنجز اور موجودہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں افواج کی دفاعی ضروریات پوری بھی کرنی چاہئیں اور اُن کی خدمات خصوصاً ماضی قریب میں دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے کارناموں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کرنے کے لیے میری ٹائم نیشن بننا ضروری ہے اور اِس کے لیے ہمیں ناگزیر دفاعی ضروریات کو بھی پوراکرنا ہے تاکہ پاک چین دوستی کا مظہر عظیم منصوبہ اقتصادی راہداری اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہمیشہ محفوظ رہے۔ دنیا بھر میں بلیو اکانومی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جارہے ہیں
اگرچہ ہم اپنے کم وسائل، چیلنجز اور دیگر وجوہات کی بنا پر اُن ممالک سے کچھ پیچھے ہیں لیکن ہم مستقبل کی ضروریات اور فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اِس قدرتی موقعے سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہیں اسی لیے ہم ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی جو خوبصورت مقامات، پہاڑی سلسلوں اور قدرتی بندرگاہوں سے بھری ہوئی ہے، اِن سے بھرپور فائدہ معاشی اٹھانے کے لیے پاک بحریہ پر انحصار کررہے ہیں اور بلاشبہ تینوں مسلح افواج خصوصاً پاک بحریہ قوم کی توقعات پر پورا اُترتی آرہی ہے، ویسے بھی ملک و قوم کی سلامتی اور ضروریات کے لیے ہماری تینوں افواج ہمہ وقت تیار رہتی ہیں اور ہر لحاظ سے ملک و قوم کی ترقی اور تحفظ کے لیے اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری اور لگن سے کرکے ہمیشہ سرخرو ہوتی رہی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ پاک بحریہ تمام تر چیلنجز اور خطرات کے باوجود کامیابیوں کا سفر اسی طرح جاری و ساری رکھے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!