تازہ ترینخبریںپاکستان سے

وانا میں "ڈیم بناؤ وزیرستان بچاؤ” کے موضوع پر اے پی سی

وانا،جماعت اسلامی کے زیر اہتمام "ڈیم بناؤ وزیرستان بچاؤ” کے موضوع پر اے پی سی کا وانا پریس کلب میں ایک بڑا سمینار منعقد ہوا،

اے پی سی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے علاوہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی، اے پی سے نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان وانا میں ہنگامی بنیادوں پر سمال ڈیمز اور بارانی ڈیمز تعمیر کئے جائیں بصورت دیگر عنقریب وانا کے لوگ نکل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے۔

وانا(خصوصی رپورٹ آدم خان وزیر سے) قبائل ضلع ساؤتھ وزیرستان وانا میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام "ڈیم بناؤ وزیرستان بچاؤ” کے موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس وانا پریس کلب میں ایک بڑا سمینار منعقد ہوا،

جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی.

جماعت اسلامی وانا کے امیر ندیم خان وزیر، جنرل سیکرٹری اسداللہ وزیر، پیپلزپارٹی سے عمران مخلص، پی ٹی آئی سے عجب گل ، پختونخوا میپ سے اشفاق وزیر، کلیم اللہ، زبیر وزیر ودیگر نے "ڈیم بناؤ وزیرستان بچاؤ” کے موضوع پر منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، کہ تمام قبائلی اضلاع میں جنوبی وزیرستان واناسب ڈویژن ایک زرعی علاقہ ہے اور اب ہوا کے لحاظ سے پوری قبائلی پٹی میں زراعت کے لئے موضوع اور مشہور جگہ ہے
یہاں کے 90 فیصد باسی زراعت سے وابستہ ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان وانا کی محل وقوع آبادی اورجعرافیہ نہ صرف زراعت کے لئے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ پسماندہ علاقہ سالانہ اربوں روپے زرعی اجناس سے ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو دے رہے ہیں۔

مقررین نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ وانا میں سمال ڈیم ، بارانی ڈیم اور بیس لائن ٹیبل وقت کی اہم ضرورت ھے۔ لہذا وفاقی اور صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور علاقے کو بنجر ہونے سے بچانے کیلئے سمال ڈیم اور بارانی ڈیم تعمیر کئے جائیں تاکہ آنے والے وقت میں لوگ نقل مکانی پر مجبور نہ ہو۔ اور ایک خوشحال زندگی بسر کرسکے۔

دوسری جانب اس حوالے سے نامور ایڈووکیٹ اجمل وزیر نے سمینار میں شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے رپورٹ کے مطابق ایشیاء زراعت کے لئے 90٪ زیر زمین پانی استعمال کر رہا ھے، واٹر ایڈ پاکستان رپورٹ کے مطابق پاکستان 70٪ زیر زمین پانی زراعت کے لئے استعمال کر رہا ھے۔ پاکستان دنیا میں تیسرا بڑا ملک ھے جو زیر زمین پانی استعمال کر رہا ھے۔ خشک سالی اور آبی قلت کے شکار 17 ممالک میں شامل ہیں۔

تاہم وزیرستان میں سالانہ 40 سے 65 فٹ پانی کی سطح گزشتہ چند سالوں میں نیچے جا چکا ھے۔ پاکستان بننے کے ساتھ فی گز 5 سے 6 ہزار کیوبیک میٹر پانی دستیاب تھا جو آب 1 ہزار تک محدود ہو گیا ھے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو 2025 میں 800 کیوبیک میٹر پانی رہ جائے گی جس سے پاکستان میں آدھی سے زیادہ آبادی قلت آب کا شکار ہو جائے گا۔

1995 میں جرمنی ماہرین سروے کے مطابق ضلع جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن وانا میں سمال ڈیمز اور ہر 200 سے 500 میٹر کے فاصلے پر شولام سے لیکر دانہ ندی نالے (لگاڈ) پر بیس لائن ٹیبل نہایت ضروری ھے تاکہ پانی کی سطح نیچے گرنے سے بچ سکے مگر اُس وقت کے حکومت نے اس کیلئے کوئی خاص اقدامات نہیں کئے اگر بروقت انتظامات کئے جاتے تو آج قوم کو اس سنگین بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا،

اب اگر حکومت وقت نے ڈیمز بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائیں
تو 2025 اور 2030 کے درمیان وزیرستان کے 40 فیصد زرخیز زمینیں بنجر ہو جائے گی ۔ لوگ وزیرستان سے نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے ۔

ایڈوکیٹ اجمل وزیر نے مزید کہا کہ اس لئے وزیرستان کے ہر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا فرض یہ بنتا ھے کہ وزیرستان میں سمال ڈیمز اور بارانی ڈیمز کے لئے آواز اٹھائیں۔
کیونکہ اب یہ زندگی کے مستقبل کا مسئلہ ہے لہذا علاقے کے مستقبل کیلئےتمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر بیک آواز ہوکر ڈیمز بنانے کیلئے کوششیں کی جائیں. تاکہ ہماری آنے والی نسل کو اس بحران سے بچایا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button