Editorial

قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف پراپیگنڈا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ پاک فوج ہر طرح کے حالات میں تمام اندرونی و بیرونی خطرات میں پاکستان کا دفاع کرے گی۔فورم نے کچھ حلقوں کی جانب سے پاک فوج کو بدنام کرنے،ادارے اور معاشرے کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی حالیہ پراپیگنڈا مہم کا نوٹس لیاہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں پیشہ ورانہ امور اور نیشنل سکیورٹی چیلنجز پر بریفنگ دی گئی اور اعلامیہ کے مطابق فورم نے ادارے اور سوسائٹی کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی مہم کا نوٹس لیااور فارمیشن کمانڈرز نے موقف اپنایا کہ اس پراپیگنڈے کا مقصد سوسائٹی اور ادارے کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے لیکن پاکستان کی قومی سلامتی سب سے بڑھ کر مقدم ہے۔
پاک فوج کوئی سمجھوتہ کیے بغیر ریاستی اداروں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق فارمیشن کمانڈرز نے عسکری قیادت کی جانب سے آئین اور قانون کی سربلندی کے لیے عسکری قیادت کے فیصلوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آئین وقانون کی حکمرانی کے لیے عسکری قیادت کے بہترین فیصلوں پر ہر قیمت پر ساتھ ہیں۔ فارمیشن کمانڈرز کی کانفرنس پر مزید بات کرنے سے پہلے ہم وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کے حوالے سے بھی بتانا چاہتے ہیں ، انہوں نے فوج پر تنقید سے متعلق سوال پر کہا کہ قومی ادارے کے خلاف بے جا الزام تراشی غلط بات ہے۔ جو ایسا کرتا ہے اسے قانون کی زد میں آنا چاہیے۔ فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم ناقابل برداشت ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون سخت کارروائی کرے گااور یہ مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس اور وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کے بیان کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر سبھی کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے کیوں کہ پچھلے چند روز سے سوشل میڈیا کے ذریعے جو پراپیگنڈا پاکستان کے سلامتی کے اداروں اور مسلح افواج کے خلاف کیا جارہا ہے، وہ انتہائی تشویش ناک اور قابل مذمت ہے۔فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ کی مکمل تائید و حمایت کی جانی چاہیے کہ مسلح افواج اور سلامتی کے ادارے ہی پاکستان کی وحدت ، اتحاد اور قومی عظمت کی علامت ہیں ۔ اِن اداروںکے خلاف مہم چلانے والے اور اِس کا حصہ بننے والے ملک کے اندر انتشار اور فساد کی کوششوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔
دراصل یہ ملکی سلامتی کے ضامن اداروں اور معاشرے کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے اور بدقسمتی سے ہمارے بعض لوگ حالیہ پراپیگنڈا مہم کے محرک اور اُن کے عزائم سے ناواقف ہونے کے باوجود اِس ففتھ جنریشن وار کا حصہ بنے جارہے ہیں جو قطعی طور پر درست نہیں۔ قومی سلامتی کے ضامن اداروں بالخصوص پاک فوج کی قیادت کی جانب سے
بارہا نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ وہ ففتھ جنریشن وار میں دشمن کی پہنچ سے دور رہیں کیوں کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا انتہائی مہلک ہتھیار کے طور پر اس کرہ ارض پر بسنے والے کم و بیش ہر فرد کے ہاتھ میں ہے۔ کیا سوشل میڈیا کی تخلیق کا مقصد یہی تھا کہ اِس کے ذریعے کوئی بھی پراپیگنڈا فی الفور دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر مقاصد حاصل کیے جائیں یا پھر کچھ اور تھا؟ حالیہ چند سالوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جتنی تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے اُس کے اُتنے ہی منفی اثرات سامنے آرہے ہیں اور یہ صرف ہمارا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی نوجوان نسل بھی اِس عفریت نما ترقی کی وجہ سے اپنے قومی نظریات سے ہٹ کر اُس سمت جارہی ہے جس سمت اُسے چلانا مقصد ہوتا ہے اِسی لیے آج پوری دنیا میں ’’جعلی خبریں‘‘ اور ’’پراپیگنڈا‘‘ بڑے مسائل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
قریباً دو سال پہلے محرم الحرام کے دوران وطن عزیز میں مسلک کی بنیاد پر قوم کو تقسیم کرکے فسادات کی سازش رچانے کی کوشش کی گئی اور جب اِس معاملے کی تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ پڑوسی ملک بھارت اور دنیا کے کئی حصوں میں بیٹھے بھارتی ایسے جعلی اکائونٹس کے ذریعے وطن عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے تھے اور فرضی ناموں کے ذریعے ایسے سوشل میڈیا اکائونٹس آپریٹس کیے جارہے تھے۔ قریباً ایک سال پہلے بھی ایسے ہی شرمناک حرکت کی گئی اور وہی محرکات اور وہی مقاصد سامنے آئے اور اب پھر حالیہ دنوں میں ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کو دشمنوں نے ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور ہمارے بعض ناسمجھ لوگ دشمن کی اِس مہم کا حصہ بن رہے ہیںاِس لیے پاکستان کی مسلح افواج اور سلامتی کے اداروں کے خلاف مہم چلانے والے کبھی پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔ آج قریباً سبھی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے سوشل میڈیا کا ہتھیار اُٹھایا ہوا ہے بلکہ جو جتنی بڑی سیاسی و مذہبی پارٹی ہے اُس کی سوشل میڈیا ٹیم اُتنی ہی بڑی اور منظم ہے اور جب ایسی کوئی صورت حال ہو تو کم و بیش سبھی متحرک ہوجاتے ہیں کچھ لوگ حق میں اور کچھ مخالفت میں اور بسا اوقات تو اِس لڑائی میں وہ بھی کود پڑتے ہیں جن کا اِس سارے معاملے سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہوتا اور فقط اُنہوں نے جلتی پر تیل ڈالتے رہنا ہوتا ہے ، یوں یہ بڑا ہی خطرناک امر ہے۔
ہم ملک بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صبر و تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی فیک نیوز ،بے بنیاد خبر یا پراپیگنڈا کے زیر اثر ملک کے اندر انتشاور اور فساد کی کوششوں کوکامیاب نہ ہونے دیں کیوں کہ ماضی میں بھی ایسی سازشیں کی گئیں تاکہ قوم اور پاک فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں لیکن تب بھی عقل و دانش کا استعمال کرنے والوں نے اِن سازشوں کو ناکام بنایا اب ایک بار پھر اِسی فہم و فراست کی ضرورت ہے کیوں کہ وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی فوج ، سلامتی کے اداروں اور قوم کے اتحاد سے ہی ہے۔ خصوصاً ہم سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سوشل میڈیا پر متحرک کارکنان سے اُن کی قیادت کے ذریعے اپیل کرتے ہیں کہ براہ کرم کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز اور تحمل ، برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ قومی سلامتی کے اداروں کو ہمارے کسی عمل کی وجہ سے نقصان نہ پہنچے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button