تازہ ترینخبریںٹیکنالوجی

کھانے پکانے کے تیل سے تیار ایندھن سے جہاز کی کامیاب پرواز کیسے ممکن ہوئی؟

کھانے پکانے کے تیل سے آج تک آپ نے اپنے پکوانوں کو ہی تیار کیا گیا ہوگا۔

مگر کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اسے کسی سواری کے ایندھن کے طور پر بھی استعمال ہے اور وہ بھی کوئی چھوٹی موٹی سواری نہیں بلکہ ایک طیارے کو؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایئربس کے اے 380 طیارے کی کھانا پکانے والے تیل سے آزمائشی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

3 گھنٹے کی آزمائشی پرواز کا تجربہ 25 مارچ کو تولوز کے ایئرپورٹ پر کیا گیا اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اے 380 دنیا کا سب سے بڑا مسافر طیارہ ہے۔

اس پرواز کے لیے ماحول دوست ایندھن تیار کیا گیا تھا جو کھانے پکانے کے تیل اور ضائع شدہ چکنائی پر مبنی تھا اور پرواز کے لیے سنگل رولز رائس ٹرینٹ 900 انجن کو استعمال کیا گیا۔

ایئربس نے اس کے بعد اے 380 کی ایک اور پرواز اسی ایندھن پر 29 مارچ کو تولوز سے نائس روانہ کی جس کی مانیٹرنگ ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران کی گئی۔

پرواز کے لیے ایندھن فرانس کی ایک کمپنی ٹوٹل انجنیئرز نے فراہم کیا تھا، جسے ہائیڈرو پراسیسڈ ایسٹرز اینڈ فیٹی ایسڈز (ایچ ای ایف اے) سے تیار کیا گیا جو سلفر اور آرومیٹکس سے پاک تھا۔

ایئربس کی جانب سے اس ایندھن پر چلنے والی پروازوں کی آزمائش 2021 سے کی جارہی ہے اور سب سے پہلے مارچ 2021 میں اے 350 میں اس کی جانچ کی گئی۔

اس کے بعد اکتوبر 2021 میں اے 319 نیو سنگل آئزل ایئرکرافٹ کو کوکنگ آئل پر اڑایا گیا۔

کمپنی کے توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک اس کے تیار اسی ایندھن پر پرواز کریں گے اور اس سے پہلے روایتی ایندھن میں 50 فیصد ماحول دوست ایندھن کو ملایا جائے گا۔

ایئربس 2035 تک دنیا کے پہلے زیرو زہریلی گیسیں خارج کرنے والے طیارے کو متعارف کرانے کی بھی خواہشمند ہے۔

دنیا بھر میں اے 380 کے استعمال میں کمی آئی ہے اور ایئربس نے آخری طیارے کو دبئی کی کمپنی ایمریٹس کو 2021 کے آخر میں پہنچایا تھا۔

ایئربس کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہ تجرباتی ہائیڈروجن ایندھن پر چلنے والے انجن کی آزمائش شروع کرنے والی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button