Editorial

ملکی سیاست کی نئی سمت

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کے بغیر ہی قومی اسمبلی کا اجلاس تین اپریل اتوار تک ملتوی ہوچکا ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث بھی شامل تھی۔ اِس اجلاس کی اہم بات وہ بائیس منحرف اراکین ہیں جو اجلاس میں موجود اور اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اِن کے پاس نمبر گیم ضرورت سے کہیں زیادہ ہے تاہم قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بائیس اراکین ہی سامنے آئے ۔پارٹی چیئرمین عمران خان کی طرف سے تمام اراکین قومی اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کرنے سے روکا گیا تھا لیکن اِس کے باوجود ان اراکین نے نہ صرف اجلاس میں شرکت کی بلکہ اپوزیشن کے پلڑے میں نظرآئے۔ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کی ہدایت پراِن اراکین اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کردیاگیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اِن منحرف اراکین کو دستور پاکستان کے آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرکے اِن سے آج دوپہر تک وضاحت مانگی گئی ہے، آئین کا یہ آرٹیکل اراکین اسمبلی کے فلور کراس کرنے پر کڑی قدغن عائد کرتا ہے اور آئین کے تحت پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے جاری پارٹی پالیسی سے انحراف کا مرتکب رکن قومی اسمبلی کو اپنی نشست سے ہاتھ دھونا ہوتے ہیںلہٰذا آج دوپہر بارہ بجے تک جماعت کو مطمئن نہ کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف باضابطہ ریفرنسز سپیکر کو بھجوائے جائیں گے جن میں اُن سے منحرف اراکین کی نشستوں کو خالی قرار دینے کی سفارش کی جائے گی۔ حکومت کی دو اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔پی ٹی آئی کے منحرف اراکین اسمبلی پہلے ہی حکومتی پالیسیوں پر اپنی تنقید کے ساتھ کھل کر سامنے آچکے ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے ارکان کے طور پر نااہل ہونے کی قیمت پر بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر سکتے ہیں دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ قاف اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد میں حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی اتحاد میں 20منحرف اراکین شمار کیے جائیں تو حکومت کے پاس 164نمبر ہیں جبکہ دوسری طرف اپوزیشن بظاہر 177نمبر پر ہے، اپوزیشن کے جام عبدالکریم بیرون ملک ہیں، پشتون موومنٹ کے علی وزیر جیل میں ہیں جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے عبدالاکبر چترالی نے ابھی تک کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا، اِس صورت حال میں تحریک عدم اعتماد کے ضمن میں اپوزیشن کا پلڑا واضح طور پر بھاری ہو گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا بارہاکہنا ہے کہ دھمکی آمیز خط کا تحریک عدم اعتماد سے گہرا تعلق ہے لیکن آخری گیند تک لڑوں گا، عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ غیر ملکی سازش کے تحت منتخب حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہے اور
اپوزیشن غیر ملکی عناصر کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا بھی کہنا ہے کہ آئینی طور پر حکومت کی تبدیلی میں کوئی حرج نہیں ہوتا، ثبوت دکھانے کے لیے پارلیمانی لیڈرز اور اپوزیشن کو بلایالیکن ان کا ملنے سے انکار ثبوت ہے کہ یہ خود سازش میں شریک ہیں۔ اگر تحریک ملک میں اٹھی ہوتی، تو اپوزیشن رہنما ان کیمرہ میٹنگز میں شریک ہوتے لیکن موجودہ اپوزیشن حکومت کو بدلنے کی غیر ملکی سازش میں شریک ہے۔وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کی سازش میں پاکستان کے میڈیا کے کچھ لوگ بھی شامل ہیں، سازش کی ابتدا لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ سے ہوئی ہے۔وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے اور آخری گیند تک لڑیں گے، پاکستان میں صرف ذوالفقار بھٹو کے دور میں، پھر عمران خان کے دور میں خارجہ پالیسی آزاد ہوئی ہے، پاکستان کی حاکمیت پر کسی بھی سودے کو مسترد کرتے ہیں۔ بلاشبہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور انہیں دھمکی آمیز خط ہی دو ایسے معاملات ہیں جو نہ صرف ملکی سیاست اور عوام بلکہ اب توبیرون ملک بھی زیر بحث آرہے ہیں اسی پرچینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ گریٹ پاور گیم میں چھوٹے ممالک کو نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ چینی وزیر خارجہ کی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی جس میں وانگ ژی نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک سرد جنگ کا حصہ نہ بنیں، ایشیا میں سرد جنگ کی سوچ کو دوبارہ پروان چڑھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایشیائی ممالک میں محاذ آرائی کی کیفیت کونہ دہرایا جائے، لہٰذا اِس تنبیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ بلاشبہ عدم اعتماد جمہوری طریقہ اور سیاسی بحران پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہیں تاہم موجودہ عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیا جارہا ہے اور حکومت دعوے دار ہے کہ بعض اپوزیشن رہنما اِس سارے معاملے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اگرچہ اگلے کچھ دنوں میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر صورت حال واضح ہوجائے گی اور کس نے اقتدار میں آنا اور کس نے جانا ہے سب کچھ ہوجائے گا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پھر بھی اِس خط کے معاملے کو قومی سطح پر لازمی دیکھا جائے کیوں کہ یہ عام یا چھوٹا معاملہ نہیں بلکہ ہماری ریاست کے سربراہ کے لیے براہ راست دھمکی ہے، اگر تو اِس کا مقصد پاکستان کو کسی خاص کیمپ میں شامل کرنا ہے تو یہ فیصلہ پاکستان نے خود کرنا ہے کیوں کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان کسی کیمپ کا حصہ نہیں بنے گا اور صرف امن کے لیے شراکت داری کرے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ سے پاکستان پر بیرونی فیصلے مسلط کیے جاتے رہے ہیں اور کسی بھی موقع پر پاکستان کو اپنے بہتر مفاد میں فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل نہیں رہی، ذوالفقار علی بھٹو شہید نے واضح طور پر کہا تھا کہ اُن کو نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور تاریخ دیکھیں وہ نشان عبرت بنے لیکن کیا اِس کے بعد بیرونی مداخلت ختم ہوگئی؟ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو اِس معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے ہمارے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی غیر کی جرأت کیوں ہو کہ وہ ہماری سلامتی اور ہمارے کل کا فیصلہ خود کرے اور ہم صرف دیکھتے رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button