Column

سیاسی صورتحال اور وزیر اعظم کا دورہ روس …. محمد الیاس رانا

محمد الیاس رانا
پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت اپنے نقطہ انجماد کو پہنچ چکا اور اپوزیشن کی سر گرمیوں میں غیر معمولی تیزی سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے اگلے ہی لمحے کچھ ہونے والا ہے ، اسے تذبذب کی صورتحال کہتے ہیں اور اس کے بہت نمایاں اثرات ہوتے ہیں جو صرف سیاست ہی نہیں بلکہ ہر شعبے میں نظر آتے ہیں۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان روس کے انتہائی اہم دورے پر ہیں اور اس کے بھی یقیناً ہماری خارجہ پالیسی پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے اس لیے آج کی تحریر میں سیاست کے ساتھ وزیر اعظم کا دورہ روس موضوع ہے۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور لانگ مار چ دونوں کے لیے پیش قدمی کر رہی ہیں ۔ یہ بھی قیاس کیا جارہا ہے کہ ایک ہی لانگ مارچ ہوالبتہ یہ ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اگر اپوزیشن حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی ضرب لگادیتی ہے اور وہ چوٹ گہری ہوئی تو ممکن ہے ایک ہی لانگ مارچ ہو جس کے لیے پیپلز پارٹی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
سیاسی تجریہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میںپیپلز پارٹی سیاسی طور پر بہت کچھ حاصل کر رہی ہے اورسابق صدر مملکت آصف زرداری جنہیں ”بادشا ہ گر“بھی کہا جاتاہے اپنے سارے سیاسی پتے سامنے نہیںلائے اوریہی سیاسی رویہ مسلم لیگ (ن) کا بھی ہے۔ بظاہر دونوںجماعتیں شیر و شکر ہیں لیکن ان کی تاریخ دیکھی جائے تو دونوں ایک دوسرے سے یقیناً محتاط بھی ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے پر توانائیاںصرف کر رہی ہے اوردوسری طرف پیپلز پارٹی 27فروری کے لانگ مارچ کی تاریخ، جو سر پر آن پہنچی ہے اس سے بھی دستبردارنہیں ہوئی بلکہ اس کی سر گرمیوںمیں تیزی آرہی ہے اوراب جبکہ اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم نے بھی پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا خیر مقدم کیا اور مختلف مقامات پر لانگ مارچ کے استقبال کی بھی یقین دہانی کرائی ہے تو پیپلز پارٹی جس پر یہ لیبل لگ چکا ہے کہ وہ صرف اندرون سندھ کی جماعت بن گئی ہے، اسے بھرپور طریقے سے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہر ہ کرنے کا موقع میسر آیا ہے اور وہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اس سے بھرپور فائدہ اٹھاناچاہتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے اور سب سے بڑھ کرجب پارٹی قائد لندن میںموجود ہیں مسلم لیگ (ن) اپنی زیادہ باتیںمنوانے کی پوزیشن میںنظر نہیں آتی اور اسی وجہ سے وہ موجودہ حالات میں اپوزیشن جماعتوںمیں کسی بد مزگی کے حق میں نہیں اور یہ طے کیا گیا ہے کہ ہم نے سب سے پہلے اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تاکہ اسے سیاسی طو رپر”سانس“مل سکے اور مسلم لیگ (ن) اس کے بعد دن دگنی رات چوگنی فارمولے پر سیاست کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اپوزیشن کی ایک جماعت کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے حکمران جماعت کے 10سے15لوگ جنہیں مبینہ طور پرپنجاب کی بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے آئندہ انتخابات میں ٹکٹ کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے وہ مستعفی ہوں اور اس کے بعد حکومت کو اعتمادکا ووٹ لینے کا کہاجائے لیکن اس تجویز کی کمزوری کا یہ جواز پیش کیا گیا ہے کہ استعفے توسپیکر کے پاس جانے ہیں جو حکمران جماعت سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور استعفوں کی تصدیق کے لیے اراکین کو طلب کرنے سمیت دیگر مراحل کی وجہ سے حکومت کے خلاف پیشرفت میں خلل آنے کاقوی امکان ہے اس لیے اس تجویز کو فی الوقت سیاسی زنبیل میں واپس رکھ دیاگیا ہے۔
اپوزیشن یہ بھی سوچ رہی ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادسے پہلے سپیکر کے خلاف یہ اقدام اٹھایاجائے کیونکہ اگر وہ اس میںکامیا ب ہو جا تی ہے تو اس کاسیاسی طور پرغیر معمولی فائدہ ہوگا لیکن اس کے بعد حکومت جو ممکنہ اقدامات اٹھا سکتی ہے اسے بھی پیش نظر رکھا جارہا ہے۔ویسے تو موجودہ حالات میں ظہرانے اور عشائیے یہ تاثر دیتے ہیں کہ اپوزیشن بظاہر ایک ہے لیکن دونوں بڑی جماعتوں کی سوچ الگ الگ ہے۔ مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ اس عمل کے فوری بعد نئے انتخابات ہو جانے چاہئیں لیکن پیپلز پارٹی یہ سوچ رکھتی ہے کہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سندھ حکومت اپنے پانچ سال مکمل کر لے جس کا اسے آئندہ عام انتخابات میں فائدہ ہوگا۔ شاید اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے بڑی” فراخدلی“کامظاہرہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اگرتحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ان ہاﺅس تبدیلی آتی ہے تو وہ اس کے لیے مسلم لیگ(ن) سے وزیراعظم کے امیدوار کی حمایت کے لیے بھی تیار ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف حکومت کے ساڑھے تین سالوں کے بوجھ کو اٹھاکر انتخابات میں جانے کے لیے تیار نظر آتی کیونکہ یہاں ڈیڑھ سال میں (ن) لیگ کوئی کارکردگی دکھا نہیںسکے گی بلکہ اگر تحریک انصاف اپوزیشن میں ہوتی ہے تو وہ بھی پراپیگنڈاکرے گی کہ اب ان سے معیشت کیوں نہیں سنبھل رہی اوراس کے ساتھ تحریک انصاف مدت پوری نہ کردینے کی بھی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرے گی۔
دوسری طرف ایسے حالات میںجب روس اور یوکرین میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور امریکہ سمیت کئی ممالک جو واضح اپنا موقف دے رہے ہیں ، ایسے حالات میں عمران خان کے روس کے دور ے سے پاکستان کیا حاصل کر سکتاہے ؟۔پاکستان کا کوئی وزیر اعظم گزشتہ 23 برسوں میں روس کا پہلا دورہ کر رہا ہے اور موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں اس دورے کو بہت اہم قرار دیا جارہاہے۔بظاہر وزیراعظم عمران خان کے دورے میں معیشت اور تجارت ایجنڈے پر حاوی ہوں گے لیکن ماہرین کے خیال میں اس دورے کے سیاسی پیغام کی گونج زیادہ ہے۔پاکستان سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد سے امریکی کیمپ میں رہا ہے اور اس لحاظ سے وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کو اس تاریخی سمت میں تبدیلی کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے لیکن پاکستان نے واضح کہا ہے کہ وہ کسی کیمپ کا حصہ نہیں ہے او ر اس جانب بھی اشارہ دیا گیا کہ پاکستان اب کسی ایک ملک سے جڑنے کی بجائے کثیر ملکی پالیسی میں دلچسپی رکھتا ہے۔خاص طور پر اپنے خطے کی بڑی طاقتوں سے اس امید پر تعلقات کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ تجارت اور توانائی کی راہداری کے طور پر اپنی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشت میں بہتری لا سکے۔ خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے یوکرائن کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور اس دورے کے باعث پاکستان اور یوکرائن کے تعلقات کو بھی دھچکا پہنچ سکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کس طرح اس دورے کے ذریعے اپنی خارجہ پالیسی کے توازن کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم عمران خان انتہائی نازک وقت میں روس کا دورہ کر رہے ہیں جس کے انتہائی دورس نتائج ہوں گے لیکن یہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے نتائج سے جڑے ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button