Editorial

5سال میں معیشت کو بدلنے کا عزم

پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمنوں کے نشانے پر ہے، اُن سے وطن عزیز کی ترقی اور خوش حالی کسی طور گوارا نہیں ہوتی، اس لیے وہ کئی عشروں سے اس کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرتے چلے آرہے ہیں، مگر محب وطن قوم اور افواج ان سازشوں کو ناکام بناتے آئے ہیں اور آئندہ بھی ان ریشہ دوانیوں کا توڑ کیا جاتا رہے گا۔ کسی بھی مملکت کو مشکلات سے دوچار کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اُس کی معیشت کا بٹہ بٹھادیا جائے۔ اُس کی کرنسی کو بے وقعت کردیا جائے اور مہنگائی کے بدترین طوفان کو قوم پر مسلط کردیا جائے۔ خرابیوں در خرابیوں کو پروان چڑھایا جائے۔ راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔ پچھلے 5، 6سال کے دوران وطن عزیز میں یہ تمام ناپسندیدہ مشقیں متواتر دیکھنے میں آئی ہیں۔ پاکستانی روپیہ تاریخ کی بدترین بے وقعتی سے دوچار ہوا، ڈالر اُسے ہر بار چاروں شانے چت کرتا دِکھائی دیا۔ یہ وہی روپیہ تھا ایک زمانے میں جنوبی ایشیا میں جو سب سے معتبر کرنسی گردانا جاتا تھا۔ یہ وہی معیشت تھی جو تباہی کے دہانے پر پہنچادی گئی، اُس کی گاڑی کو پٹری سے اُتار پھینکا گیا، جسے ایشیا کی اُبھرتی ہوئی معیشت کہا جاتا تھا۔ ایک دور میں صنعتوں کی ترقی اور فروغ کی مثال نہیں ملتی تھی، لیکن صنعتوں کا پہیہ جام کردیا گیا۔ بے روزگاری کا بدترین عذاب لاکھوں لوگوں کو جھیلنا پڑا، جس سے وہ ابھی تک اُبھر نہیں سکے ہیں۔ بے شمار متوسط طبقے کے خاندانوں کو غربت کی نچلی ترین سطح پر زیست گزارنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ وہی عوام تھے، جن کی خوش حالی کی دُنیا مثالیں دیتی تھی، اب وہ پچھلے 6سال سے تاریخ کے کٹھن دور سے گزر رہے ہیں کہ گرانی نے اُن کا بھرکس نکال ڈالا ہے۔ ہر شے کے دام تین، چار گنا بڑھ چکے ہیں۔ بنیادی ضروریات (بجلی، گیس اور ایندھن) کی قیمتوں میں بھی تین، چار گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ جب ہمارا روپیہ ہی جان بوجھ کر بے توقیر کیا گیا تو ہوش رُبا گرانی کا سیلاب تو لازمی آنا تھا۔ غریبوں کی آمدن وہی پانچ چھ سال پُرانی ہے، لیکن اخراجات چار گنا بڑھ چکے ہیں۔ اُن کے لیے سفر زیست چنداں آسان نہیں، روح اور جسم کے رشتے کو اُستوار رکھنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس پر طرّہ پچھلے 6سال کے دوران جس قدر بیرونی قرضے لیے گئے، اُتنے ابتدائی 70سالہ ملکی تاریخ میں کبھی بھی حاصل نہیں کیے گئے۔ معیشت کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، دہشت گردی کا عفریت بھی سر اُٹھاتا دِکھائی دیتا ہے، دیگر اور بھی خرابیاں ہیں، ان تمام کا حل مشکل ضرور ہے، لیکن ان مسائل کو کڑی محنت، ذمے داری، دانش مندی، تدبر اور سنجیدہ اقدامات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ملک اور قوم کو ترقی و خوش حالی سے ہمکنار کرنا ہرگز ناممکن نہیں۔ جب جذبہ ہو اور لگن سے محنت کی جائے تو کامیابی ضرور قدم چومتی ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف ملکی معیشت کی بحالی اور بہتری کے لیے خاصے پُرجوش اور پُرامید دِکھائی دیتے ہیں، اس ضمن میں اُنہوں نے انتہائی مختصر عرصے میں خاصے اقدامات کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ذمے داری کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چل سکتا اور ہم نے 5 سال میں پاکستان کی معیشت کو بدلنا ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کے دور 2013سے 2018میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا، دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستانی قوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قربانیاں دیں مگر گزشتہ دو تین برس میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشام واقعہ پر پیش رفت ہوئی ہے اور معاملات سامنے لائے جارہے ہیں، چینی انجینئرز اور ان کے خاندانوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم سب نے مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، میں نے 5 سالہ منصوبہ کابینہ ارکین کے ساتھ شیئر کیا ہے، مقاصد کے حصول کے لیے سب وزارتوں نے سر توڑ محنت کرنی ہے، تمام وزارتوں کے اہداف کے حصول کے لیے جلد حکمت عملی اپنائی جائے، جس کے بعد ہر وزارت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، انسانی وسائل کی کمی ہے تو بہترین یونیورسٹیوں سے قابل لوگ لیے جائیں اور اس کے علاوہ وزارتوں میں بھی بہترین سیکریٹریز موجود ہیں، جن سے کام لیا جاسکتا ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ موثر دفاعی صلاحیت کے لیے مسلح افواج کی ضروریات پورا کریں گے، ہمارے شہدا اور غازی اس قوم کے ہیرو ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ذمے داری کے بغیر دنیا کا کوئی نظام نہیں چل سکتا، ہم نے 5سال میں پاکستان کی معیشت کو بدلنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے بھی معیشت کے استحکام کے لیے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔وزیراعظم کا مذکورہ بالا اظہار خیال تدبر، دانش مندی پر مبنی ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ برحق ہے۔ پانچ سال میں معیشت کو بدلنے کا عزم قابل تعریف ہے۔ پچھلے کچھ ماہ کے دوران ہونے والے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ معیشت کو درست پٹری پر گامزن کردیا گیا ہے۔ بس اس پر سنجیدگی کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ خرابیوں کو تلاش کیا جائے اور اُن کا حل نکالا جائے تو رفتہ رفتہ تمام گتھیاں سُلجھ جائیں گی اور کوئی مشکل مشکل نہیں رہے گی۔ چینی باشندوں کی سیکیورٹی ہر صورت یقینی بنانی چاہیے کہ وہ ہمارے محسن ہیں اور ملکی ترقی میں اپنا بھرپور حصّہ ڈال رہے ہیں۔ معیشت، دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر چلنے کا عزم ہر لحاظ سے سراہے جانے کے قابل ہے۔ اتحاد و اتفاق کی برکت سے بڑے سے بڑے چیلنجز آسان ہوجاتے ہیں اور کامیابی مقدر بنتی ہے۔ تمام وزارتوں کے لیے اہداف کا تعین اور ان کا حصول یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت احسن قدم ہے۔ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بات بھی درست ہے کہ اس سے اندازہ ہوسکے گا کہ ان وزارتوں کے تحت ملک و قوم کے مفاد میں کس قدر بہتر فیصلے کیے جاسکے۔ اس میں شبہ نہیں کہ چیلنجز خاصے سنگین ہیں، لیکن اگر شفافیت کے ساتھ ملک و قوم کے مفادات میں اقدامات کیے گئے تو ناصرف معیشت مستحکم و مضبوط ہوجائے گی بلکہ ملک و قوم بھی خوش حالی و ترقی سے بہرہ مند ہوں گے۔
پتنگ باز اور کتنی جانیں لیں گے
پچھلے دنوں فیصل آباد میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے نوجوان جاں بحق ہوا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے وائرل ہوئی، اس واقعے کو دیکھنے والوں کی روح کانپ اُٹھی، ہر دردمند دل پر لرزہ طاری ہوگیا، لیکن حیف ہے اُن بے حس پتنگ بازوں پر جو اس خونی کھیل سے اب تک تائب نہ ہوسکے اور ملک کے طول و عرض میں متواتر واقعات رونما ہورہے ہیں۔ افسوس اس خونی کھیل کا مکمل راستہ روکا نہیں جاسکا۔ ہمارے ملک کے طول و عرض میں بسنے والے سنگ دل پتنگ باز بھی اپنے کھیل کو جاری رکھ کر بے حسی کی انتہا کو چُھوتے دِکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی لاہور میں دو افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک ہفتے کے دوران کراچی میں 8افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر شہر قائد میں پتنگ بازی پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ لاہور میں ڈور پھرنے سے زخمی ہونے کے واقعات کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسکیو 1122کے مطابق لاہور میں 28سالہ عدنان اور ایک نامعلوم موٹرسائیکل سوار پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے کے باعث زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، دونوں کی حالت کو ڈاکٹرز نے خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ڈور پھرنے سے دو افراد کے زخمی ہونے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی۔ مریم نواز نے کہا کہ سخت احکامات کے باوجود پتنگ بازی اور ڈور پھرنے کے واقعات پر تشویش ہے، پتنگ بازی کے خونی کھیل کو ختم کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمے داری نبھاتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور پتنگ بازی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری طرف پتنگ بازی پر پابندی سے متعلق کمشنر کراچی نے جاری بیان میں کہا کہ پتنگ بازی پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ پتنگ کی ڈور کی زد میں آکر اب تک 8افراد زخمی ہوچکے، شہریوں کی قیمتی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے یہ اقدام کرنا پڑا۔ پتنگ باز لوگ ازخود اس کھیل سے تائب ہوجائیں کہ اُن کا کھیل دوسروں کی زندگیوں کے درپے ہے۔ کھیل وہی اچھا ہوتا ہے جو نقصان دہ نہ ہو اور جس سے تفریح کا پہلو نکلتا ہو، جس کھیل سے بے گناہوں کی جانیں ضائع ہونے لگیں، وہ کسی طور اچھا نہیں ہوسکتا، اس لیے لوگ ازخود اس کھیل کو ترک کر دیں۔ دوسری جانب ملک بھر میں پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ عوامی زندگیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، پتنگ بازوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کا آغاز کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button