تازہ ترینخبریںپاکستان سے

نواز شریف کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں نہیں تھا : وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں نہیں تھا ،کل فیصلہ آ گیا ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی نا اہلی کوئی خوشی کا وقت نہیں بلکہ مقام عبرت ہے ، اسلام آباد میں کسی سرٹیفائیڈ چور کو داخل نہیں ہونے دیں گے۔

لاہور میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ شخص سب کو چور ڈاکو کہتا رہتا تھا، اسی چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں عمران خان نے کہا تھا کہ یہ قابل اور ایماندار آدمی ہیں، اسی الیکشن کمشنر نےکرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو نا اہل قرار دیا ہے، 2018 میں عمران خان کو بد ترین دھاندلی کے ذریعے وزیر اعظم پاکستان بنوایا گیا، اگر  آپ نے تحفے بیچ کر پورے پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے ہوتے تو ہم آپ کی تعریف کرتے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دبئی میں جس دکان سے عمران خان کے لیے تحفہ بنوایا گیا، یہ اسی دکان پر گھڑی بیچنے پہنچ گئے، قوم کو پتہ چلنا چاہیےکہ کون ہے جو تحفے بیچ کر پیسے جیب میں ڈال کر نکل گیا، ایسا کوئی قانون نہیں کہ پہلے آپ تحفے بیچ دیں اور بعد میں پیسے توشہ خانے میں جمع کروائیں، اس سے بدترین کوئی مثال نہیں ملے گی کہ پہلے گھڑی بیچ دی گئی اور بعد میں 20 فیصد پیسے جمع کروا دیے۔

 شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی جھوٹ اور بدیانتی کا مجسمہ ہے، اگر عمران خان کے خلاف فیصلہ نواز شریف نے لکھوایا ہے تو کیا نواز شریف کے خلاف اقامے کا فیصلہ عمران خان نے لکھوایا  تھا؟ عمران خان نے جب کل دیکھا کہ لوگ ان کے حق میں نہیں نکلے تو انہوں نے کارکنوں کو کہہ دیا کہ واپس گھروں کو چلے جائیں، جلسے جلوسوں، گالی گلوچ اور قوم کو تقسیم کرنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمارے مسائل مل جل کر کام کرنے سے حل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا پوری قوم کی کامیابی ہے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور حنا ربانی کھر نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے،  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اس معاملے کو کامیابی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، بطور اپوزیشن ہم نے بھی فیٹف کے بل میں پوری طرح ہاتھ بٹایا، نواز شریف کے دور میں پاکستان گرے لسٹ میں نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قانون اپنا راستہ بنائےگا، اسلام آباد میں کسی سرٹیفائیڈ چور کو داخل نہیں ہونے دیں گے،عام انتخابات ابھی 11 مہینے دور ہیں،ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ معیشت کو بہتر کیے بغیر الیکشن میں جائیں۔

 انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری ایک آئینی معاملہ ہے اور یہ حکومت کا آئینی اختیار ہے، جو نام آئیں گے تو حکومت فیصلہ کرے گی، جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، آئین و قانون کے دائرے میں ہم کام کرتے رہیں گے، پاکستان کی بہتری کے لیے ہر در پر جانے کو تیار ہوں، نواز شریف وطن واپس آئیں گے تو انہیں لینے ائیرپورٹ جاؤں گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button