ColumnImtiaz Ahmad Shad

غیرت کے نام پر انسانیت کا قتل

ذرا سوچئے
غیرت کے نام پر انسانیت کا قتل
امتیاز احمد شاد
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے، مگر جب یہ تشدد’’ غیرت‘‘ کے نام پر قتل جیسی سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے تو یہ نہ صرف ایک سماجی المیہ بن جاتا ہے بلکہ ریاستی اور قانونی نظام پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ 2025ء میں جاری ہونے والی انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 470خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرے میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں بلکہ ان کے پیچھے سیکڑوں زندگیاں، خواب، امیدیں اور خاندانوں کی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل دراصل ایک ایسا تصور ہے جس میں خاندان یا قبیلے کی عزت کو عورت کے کردار سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور جب بھی کسی عورت پر ’’ روایتی اقدار‘‘ سے انحراف کا الزام لگتا ہے تو اسے سزا کے طور پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور آئینی حقوق دونوں کے منافی بھی ہے، کیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کی جان لینا انتہائی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور قانون بھی اس کی سخت ممانعت کرتا ہے۔
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں زبردستی شادی سے انکار، اپنی پسند سے شادی کرنا، طلاق لینا، یا محض شک کی بنیاد پر کردار پر سوال اٹھانا شامل ہیں۔ کئی بار یہ واقعات دیہی علاقوں میں زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے، البتہ وہاں اسے مختلف طریقوں سے چھپایا جاتا ہے یا خودکشی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑیں گہری سماجی روایات، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور خواتین کی معاشی و تعلیمی کمزوری میں پیوست ہیں۔ جب تک خواتین کو تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی میں برابر کا موقع نہیں دیا جائے گا، وہ اسی طرح تشدد کا شکار ہوتی رہیں گی۔ مزید برآں، کئی کیسز میں خاندان کے افراد ہی قاتل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انصاف کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ متاثرہ خاندان ہی اکثر سمجھوتہ کر لیتا ہے یا قانونی کارروائی سے گریز کرتا ہے۔
قانونی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قوانین موجود ہیں، اور پچھلے چند سالوں میں ان میں کچھ اصلاحات بھی کی گئی ہیں، جیسے کہ قاتل کو معاف کر دینے کی گنجائش کو محدود کرنا۔ اس کے باوجود، ان قوانین پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ پولیس کی ناقص تفتیش، عدالتی نظام میں تاخیر، اور سماجی دبائو کی وجہ سے اکثر مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض اوقات مقامی جرگے یا پنچایتیں بھی ایسے فیصلے دیتی ہیں جو آئین اور قانون کے خلاف ہوتے ہیں، مگر انہیں سماجی سطح پر قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف قانون بنانا کافی نہیں بلکہ اس پر موثر عملدرآمد اور سماجی شعور کی بیداری بھی ضروری ہے۔
میڈیا اور سول سوسائٹی نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں، انسانی حقوق کے کارکن، اور کچھ ریاستی ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں، جیسے کہ متاثرہ خواتین کے لیے شیلٹر ہومز، قانونی معاونت، اور آگاہی مہمات۔ تاہم، ان کوششوں کو مزید وسعت دینے اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین تک مدد پہنچائی جا سکے۔ تعلیم اس مسئلے کے حل کی کنجی ہے، کیونکہ جب معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگا تو وہ فرسودہ روایات کو چیلنج کرنے کے قابل ہوگا۔ خاص طور پر مردوں کو اس حوالے سے شعور دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ خواتین کو ایک برابر انسان کے طور پر دیکھیں نہ کہ عزت کا بوجھ اٹھانے والی مخلوق کے طور پر۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کرے، جیسے کہ پولیس کی تربیت بہتر بنانا، خصوصی عدالتیں قائم کرنا، اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنا تاکہ وہ بلا خوف و خطر انصاف کے لیے آواز اٹھا سکیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جیسے کہ ہیلپ لائنز، موبائل ایپس، اور آن لائن رپورٹنگ سسٹمز کے ذریعے خواتین کو فوری مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، نصاب میں بھی انسانی حقوق، صنفی مساوات، اور قانون کی بالادستی کے موضوعات شامل کیے جانے چاہئیں تاکہ نئی نسل ایک بہتر اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دے سکے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی رہنما اس مسئلے پر کھل کر بات کریں اور واضح کریں کہ غیرت کے نام پر قتل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک مذہبی اور سماجی سطح پر اس سوچ کو رد نہیں کیا جائے گا، تب تک اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی آواز کو سننا، اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 470خواتین کا قتل ایک سنگین انتباہ ہے کہ ہمیں فوری اور موثر اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ہر فرد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اس معاشرے کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔
مت بھولیں کہ غیرت کے نام پر قتل صرف ایک قانونی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس روایت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ اس کے لیے ریاست، معاشرہ، اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی بھی عورت کو محض ’’ غیرت‘‘ کے نام پر اپنی جان نہ گنوانی پڑے۔

جواب دیں

Back to top button