امریکہ سے پاک مشرق وسطیٰ

امریکہ سے پاک مشرق وسطیٰ
صورتحال
سیدہ عنبرین
امریکی صدر کے دورہ چین کی تاریخوں میں دو مرتبہ تبدیلی کی گئی ہے، یہ تبدیلی چین کی طرف سے اس کے ایران پر حملے کے نتیجے میں کی گئی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ دوران جنگ ہی ان کا یہ دورہ ہو جائے گا، اور وہ چین کے سر پر سوار ہو کر اس کے ساتھ اپنے کاروباری اور سیاسی معاملات طے کر لیں گے، لیکن چین نے مناسب سمجھا کہ وہ امریکہ کو اس کی اوقات میں لے آئے پھر ملاقات کرے۔
امریکی صدر ماہ مئی کے وسط میں چین جانے کی تیاریاں عرصہ دراز سے مکمل کئے بیٹھے ہیں، صرف دوسری طرف سے مثبت اشارے کا انتظار ہو رہا ہے۔ ٹرمپ میں ہزار خامیاں ہیں، لیکن ایک خوبی یا ڈھٹائی کہہ لیجئے وہ بدرجہ اتم موجود ہے، وہ اکھاڑے میں چت گرنے کے باوجود اپنی شکست تسلیم نہیں کرتا، بلکہ چلاتا رہتا ہے کہ وہ جیت گیا ہے، وہ جیت گیا ہے۔ یہ عجیب جیت ہے جو اسے ملنے کے باوجود چین نہیں لینے دیتی، وہ اس جیت سمجھی جانے والی شکست کو دورہ چین میں اپنے مفادات کے حصول میں بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل مل کر بھی اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکے، ساٹھ روزہ جنگ میں ایران نے اس کے لڑاکا جہاز گرائے، بحری جہاز تباہ کر کے ان کا منہ پھیر دیا، ایک بڑی تعداد میں جزیرہ خارگ اور اصفہان پر حملہ کرنے والے فوجی قیدی بنا لئے، ایران اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق بحر ہرمز میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز گزارتا رہا، اور جس سے چاہا اس سے نقد راہداری بھی وصول کرتا رہا۔ ایران نے اس کے بغل بچے اور پروردہ علاقائی غنڈے اسرائیل کی بھی خوب مرمت کی، اس کی اہم ترین بندرگاہ حیفہ کو ناکارہ بنا دیا، ڈیمونہ کا ایٹمی ری ایکٹر شدید زخمی کر دیا، بن گورین ایئر پورٹ عرصہ دراز کیلئے ناکارہ بنا دیا، گوتم اڈانی بندرگاہ میں کھڑے جہاز راکھ کر دیئے اور عراد، بیرشیوا، راحت، کریانہ، شادونہ، اشکولون، بیت الشیمس، اشدود، ڈیبنورا، نیتام، ہولون اور ناہیرا جیسے شہروں میں اہم فوجی تنصیبات کو کھنڈر بنا دیا، جس کے بعد ایران سے جنگ بندی کی منتیں شروع ہو گئیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے خطے میں سولہ فوجی اڈے اور وہاں نصب قیمتی ترین فوجی سازو سامان کو پہنچنے والا نقصان ایک سو ارب ڈالر کے قریب ہے، جبکہ ساٹھ روزہ جنگ میں روزانہ ایک ارب ڈالر کے حساب سے اٹھنے والا خرچ ساٹھ ارب ہے، جبکہ جانی نقصانات کی تفصیل حیران کن اور پریشان کن ہے، جیسے خفیہ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکہ نے اب تک صرف اپنے انہی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جنہیں چھپانا ناممکن تھا، ایک بڑی تعداد ان فوجیوں کی ہے جو اصفہان پر اور جزیرہ خارگ پر حملوں میں مارے گئے، ان کی لاشیں وہیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ امریکی بحری بیڑے پر جب ایرانی میزائل گرے تو اس کے نتیجے میں بھی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں، ان سپاہیوں سیلرز کی ڈیڈ باڈیز امریکہ نہیں لائی جاتیں، بلکہ انہیں آخری دعا کے بعد سمندر میں بہا دیا جاتا ہے، جہاں وہ شارک مچھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں، ان سپاہیوں کا کوئی خاندان نہیں ہوتا، یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی مائیں انہیں یتیم خانوں میں یا سڑکوں، پارکوں میں کپڑوں میں لپیٹ کر چھوڑ جاتی ہیں، ان میں نوے فیصد بچے حرامی ہوتے ہیں، حکومت کے خرچ پر یہ پلتے بڑھتے ہیں۔ واجبی سے تعلیم کے بعد انہیں ملٹری ٹریننگ دے کر جنگوں میں جھونک دیا جاتا ہے۔ امریکی ایئر فورس کے پائلٹ، انجینئر اور نیوی کے کمیشنڈ افسر عموماً اچھے خاندانوں سے لئے جاتے ہیں، جبکہ فضائیہ اور نیوی میں نان کمیشنڈ اور سپاہی رینک کا طبقہ بھی ان حرامی بچوں کی فوج ہی ہوتا ہے، پس ان حرامی سپاہیوں کی لاشیں لاوارث ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں ملک کے وسیع تر مفاد میں سمندر برد کر دیا جاتا ہے اور دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ ساٹھ روزہ جنگ میں ایران کے ہاتھوں ان کے مرنے والے سپاہیوں کی تعداد صرف سترہ ہے، جبکہ درحقیقت یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ عراق کے خلاف جنگ میں ذرائع کے مطابق بارہ ہزار فوجی ہلاک ہوئے، جن کا تعلق نیٹو فورسز سے تھا۔ امریکہ اور ویت نام کی برسوں جاری رہنے والی جنگ میں اٹھاون ہزار امریکی فوجی مارے گئے۔ افغان جنگ میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے، ویت نام جنگ قریباً آٹھ برس جاری رہی، جبکہ افغانستان میں جنگ دس برس جاری رہی۔ امریکی صدر نے ہاتھ میں بندوق پکڑے جو تصویر سوشل میڈیا پر ڈالی، اس سے ان کے شوق ناتمام کا اندازہ ہوتا ہے، ان کا جو شوق میدان جنگ میں پورا نہ ہو سکا، وہ اسے تصور ہی تصور میں پورا کرتے ہیں۔ یہ شوق اب درحقیقت پورا نہ ہو سکے گا، ان کی ذہنی حالت پر تو بہت سوال اٹھ چکے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی خاصی خراب ہے، وہ بوڑھے اور کمزور ہو چکے ہیں، یوں تو بہتر، چوہتر برس کی عمر کوئی زیادہ عمر نہیں ہوتی، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا المیہ یہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر بے تحاشہ خرچ ہوئے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو صبح، دوپہر، شام خرچ کیا ہے، اب بھی جب وہ کسی جوگے نہیں رہے کسی سرکاری یا غیر سرکاری تقریب میں کسی خوبصورت خاتون کو دیکھ لیں تو بے اختیار اس کی طرف لپکتے ہیں، جبکہ حالت یہ ہے کہ انہیں دن میں تین مرتبہ ’’ اڈلٹ پیمپر‘‘ بدلنا پڑتا ہے، جس کے بغیر وہ اب رہ نہیں سکتے۔
آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور درجنوں ممالک کے جہازوں کو آمدورفت میں سہولت دینے کیلئے ٹرمپ کا بیان سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ایک خیال کے مطابق انہیں خارش تنگ کر رہی ہے جبکہ دوسرے خیال کے مطابق وہ اپنے دورہ چین کیلئے چین پر دبائو بڑھا رہے ہیں ایران نے ان کی بڑھک کے جواب میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے قریباً ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر عرصہ دراز سے لنگر انداز راہداری ملنے کے منتظر مختلف ممالک کے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو یہاں سے دور نکل جانے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے واضع کر دیا ہے کہ اگر اب بھی وہ واپس نہیں لوٹتے تو وہ اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے اس کے ساتھ ہی ایران نے اپنی تیز رفتار موٹر موٹس اور سرویلنس میں استعمال ہونے والے ڈرون کی تعداد اور ان کی نقل و حرکت میں اضافہ کرتے ہوئے اپنے میزائل بھی سیدھے کر لئے ہیں۔
امریکی دھمکی اور انتظامات کا ایک مقصد قریباً نو ارب ڈالر کا اسلحہ فوری فروخت کرنے کیلئے حالات کی سنگینی میں اضافہ کرنا بھی ہے یہ اسلحہ وہ انہی ممالک کو بیچ کر دام کھرے کرنا چاہتا ہے جو جنگ زدہ علاقے میں ہیں لیکن امریکہ کو اس کا خمیازہ یوں بھگتنا پڑ سکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چین آنے سے روک دیا جائے اور آبنائے ہرمز میں اس کی مزید مرمت کے انتظامات کر دیئے جائیں۔ ایرانی لیڈر شپ نے کہہ دیا ہے اب امریکہ سے پاک مشرق وسطیٰ بنایا جائے گا۔





