Columnمحمد مبشر انوار

جینے دو

جینے دو!!

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

ایران، امریکہ جنگ کے دوران، جہاں معاملات انتہائی سنگین ہیں، وہیں منچلوں کی جانب سے بھی مزے مزے کی پوسٹس دیکھنے کو مل رہی ہیں، اور اندازہ ہوتا ہے کہ قوم میں ابھی حس مزاح باقی ہے اور ایسے سنگین حالات میں بھی ہنسنے کے لئے مواد ان کو میسر رہتا ہے یا عوام نے اس کو خود پر اتنا طاری نہیں کیا۔ گو کہ بات مزاح میں کی گئی ہے مگر اس میں چھپا گہرا طنز اپنی جگہ، مگر حالات کے تناظر میں ارباب حکام پر انتہائی لطیف انداز میں اپنا دکھڑا بھی پہنچایا گیا ہے۔ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ آن کی جانب سے اس جنگ کے دوران غالبا ہائپر سونک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا اور امریکہ کو تنبیہ کی کہ اگر ایران پر محدود صلاحیت کا ایٹمی حملہ کیا گیا تو جواب میں شمالی کوریا محدود صلاحیت والا حملہ نہیں کرے گا کہ اس کے پاس یہ صلاحیت نہیں لیکن وہ امریکہ پر بھرپور حملہ کرے گا اور اسے مزہ چکھائے گا۔ شمالی کوریا کی اس تنبیہ یا دھمکی کو منچلوں نے ایک اور انداز اور زاوئیے سے دیکھا اور اس پر انتہائی گہرا طنز کرتے ہوئے لکھا کہ شمالی کوریا کی جانب جنگ نہ کرنے کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ اگر وہ بھی جنگ میں کودا تو سب سے زیادہ پریشانی پاکستانی عوام ہو گی کہ پاکستان براہ راست کسی جنگ میں شامل نہیں لیکن شمالی کوریا کے جنگ میں اترنے کے بعد، پاکستان میں مہنگائی بڑھ جائے گی۔ ایسی خوبصورت بات، اس خوبصورت پیرائے میں کر کے، پاکستانی عوام کے دکھڑوں کو ارباب اختیار تک ایسے پہنچایا کہ کہنے والا کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی سے محفوظ رہے بعینہ جیسا کسی زمانے میں مرحوم شاعر راحت اندوری ( مرحوم ) نے سٹیج پر ایک قصہ سنایا کہ میں نے ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم تھا کہ ’’ سرکار چور ہے ‘‘ دوسرے دن پولیس نے تھانے بلا لیا کہ تم نے سرکار کو چور کہا ؟۔ راحت اندوری نے فرمایا کہ میں نے یہ تھوڑی کہا کہ کون سی سرکار ( یعنی نام تو نہیں لیا )۔

پولیس والے نے کہ ہمیں بیوقوف مت بنائو، کیا ہمیں معلوم نہیں کہ کون سی سرکار چور ہے(( یعنی آپ نے کسے چور کہا ہمیں علم ہے )۔

لگتا ہے کہ جس نے بھی شمالی کوریا کے حوالے سے یہ بات کی ہے یقینی طور پر وہ معاملات سے بخوبی واقف ہی نہیں بلکہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، اپنی حفاظت کا انتظام کہنے سے پہلے کر لیا کہ اس وقت ایسی کوئی بھی آواز حکمرانوں کے لئے انتہائی نا پسندیدہ اور قابل تعزیر ٹھہرتی ہے۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ کسی حکمران کی شان میں اگر کچھ کہا جائے تو اسے بھی توہین کے زمرے میں لا کر، بد زبان، گستاخ اور بے ادب کو زندان میں ڈال دیا جاتا ہے کہ خواہش ایک ہی ہے کہ ہر سو موسم بہار دکھایا جائے، ترقی کے گیت گائے جائیں، اقبال کی بلندی کی دعائیں مانگی جائیں، سایہ تا قیامت سروں پر رہنے کی خواہش کی جائے جبکہ عوام خواہ ذلیل و خوار ہوتے رہیں، اس کی فلاح و بہبود و بہتری سے قطعا کوئی غرض نہیں۔ عوامی دکھڑا تو یہ ہے کہ وہ ممالک جو براہ راست جنگ میں ملوث ہیں، وہاں اشیائے روزمرہ کی قیمتوں میں اتنی گرانی نہیں دیکھی گئی اور حکمرانوں کی قبل از وقت منصوبہ بندی و پیش بندی نے، عوام کو ان حالات میں بھی پرسکون ہی نہیں بلکہ ان کی معاشی حیثیت کو بھی بہتر رکھا ہوا ہے، اور زندگی بہرطور رواں دواں ہے۔ حتی کہ خطے کے ممالک کی صورتحال ایسی ہے کہ مہنگائی تو دور کی بات ہے، حکومتوں نے لاگو ٹیکسز میں خاطر خواہ کمی کر کے، مہنگائی کے طوفان کا رخ عوام کی جانب نہیں موڑا بلکہ ان حالات میں اپنے عوام کو اس دبا سے بچانے کی کوشش کی ہے وہ خواہ بھارت ہو یا بنگلہ دیش، حکمرانوں نے اپنے اخراجات کو کنٹرول میں رکھا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو حکومتی ٹیکسز تھے، ان کو مزید کم کیا ہے۔ پاکستان میں معاملات کلیتا مختلف دکھائی دے رہے ہیں کہ جنگ کے شروع ہوتے ہی، پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا اور ابتدائی دنوں میں تو یہ اضافہ سو فیصد بھی کیا گیا مگر بعد ازاں، عوامی رد عمل یا غیر منطقی اضافے کو دو؍ تین روز بعد کم کر دیا گیا۔ اس دوران، پاکستان عالمی سطح پر انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا اور دونوں ممالک نے پاکستان کو بطور ثالث تسلیم تو کیا مگر تاحال پاکستان، فریقین میں معاملہ طے کروانے، حتمی معاہدہ کروانے میں تو کامیاب نہیں ہوا لیکن اندرون ملک، اس جنگ کے انتہائی سخت اثرات دیکھنے کو ملے۔ بطور ثالث، پاکستان میں چونکہ فریقین کے اعلیٰ ترین وفود کی آمد متوقع رہی، لہٰذا سیکورٹی کے نام پر، اسلام آباد اور راولپنڈی، دونوں شہروں میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے لیکن ان اقدامات نے دونوں شہروں میں بالخصوص زندگی مفلوج کر کے رکھ دی۔ گو کہ پاکستان کو اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لئے یہ انتہائی

اقدامات کرنا بہت ضروری تھے لیکن جن ممالک میں جنگ جاری ہے، وہاں سیکیورٹی کے معاملات ایسے دکھائی نہیں دئیے بہرحال، وہ وقت گزر چکا کہ امریکہ کی جانب سے وفود کی پاکستان آمد کو ختم کر دیا گیا اور معاملات فون پر طے کرنے کا عندیہ دینے کے بعد، پاکستان میں معاملات معمول پر آ چکے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں سیکیورٹی کے انتظامات ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے؟۔ دوسری طرف لمحہ موجود میں، بجلی کی فراہمی یا سہولت کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت میں شمار کی جاتی ہے کہ بلا تعطل بجلی کی فراہمی سے روزمرہ زندگی کے امور رواں دواں تو صنعتی پہیہ متحرک ہے، بدقسمتی سے، ہماری سول و آمر حکومتوں نے اس معاملے میں انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہی نہیں کیا بلکہ اس بجلی کی اس کمی کو ذاتی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بھی بنا رکھا ہے۔ آئی پی پیز، سے ایسے شرمناک معاہدے کر کھے ہیں کہ جنہوں نے عوام کی زندگی تو اجیرن کر رکھی ہے، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو بھی طفیلئے کی مانند جکڑ رکھا ہے اور پاکستان کی تمام تر استعداد کو ہڑپ کرتی جا رہی ہیں، البتہ خبریں یہ بھی ہیں کہ قیدی نمبر 804نے اپنے دور اقتدار میں ان آئی پی پیز کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی شق، جو انہیں رقم کی وصولی ڈالرز میں کرنے کی پابند بناتی تھی، اسے 148روپے فی ڈالر تک محدود کر دیا تھا، آج کی صورتحال کیا ہے، حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت وہی اشرافیہ حکومت میں ہے، جس نے یہ آئی پی پیز لگا رکھی ہیں اور ان سے معاہدے بھی کر کھے ہیں۔ بہرحال اس سے بھی زیادہ پریشان کن صورتحال اس وقت نظر آتی ہے جب حکومت کی جانب سے، عوام کو سولر انرجی کے لئے قائل کیا جاتا ہے اور خبریں یہ ہے کہ سولر پینلز منگوانے میں بھی موجودہ اعلیٰ شخصیت کے ڈان زادے شامل رہے

ہیں، جن کو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا کر فائدہ پہنچایا گیا، عوام کو سولر پینل بیچے گئے، عوام کی پیدا کی گئی سولر بجلی، خریدنے کے معاہدے کئے گئے، بتدریج نیٹ میٹرنگ اور اب ایک کے بدلے تین یونٹ کا قانون نافذ العمل اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ بدقسمتی سے اب معاملہ اس سے بھی آگے جا چکا اور حکومت کی طرف سے، دولت بجلی پیدا کرنے والی عوام، جس نے واپڈا سے تنگ آ کر ، سولر انرجی پیدا کرنے کے لئے اپنی ذاتی جیب سے خرچ کیا تھا، اس پر بھی ٹیکس لگایا جا چکا ہے۔ جو کام حکومت کے کرنے والے ہیں، ان میں بری طرح ناکامی کے باوجود، عوامی ذاتی کوششوں کو بھی قابل ٹیکس قرار دیا جا رہا ہے، نجانے حکومت اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے، عوام کو ممکنہ طور پر ووٹ نہ دینے کی سزا یا عذاب دے رہی ہے؟

یہاں پھر ایک روایت پھر یاد آ رہی ہے کہ ماضی میں ایک بادشاہ، اپنی عوام کی برداشت کو چیک کرنے کے لئے، ٹیکس کا نفاذ ہی نہیں بلکہ اس میں مسلسل اضافہ کرتا رہا مگر عوام ٹس سے مس نہ ہوئی۔ آخری حربے کے طور پر، بادشاہ نے عوام سے ٹیکس کی وصولی کے ساتھ ساتھ، سپاہیوں کو بھی تعینات کیا کہ عوام کو جوتے بھی مارے جائیں، اس کے باوجود، عوام آٹا سے مس نہ ہوئی بلکہ بادشاہ نے اپنی آمد پر عوام کے دکھڑے سننے چاہے تو عوام کی طرف سے التجا کی گئی کہ بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو، سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیں کی کم تعداد سے وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستانی عوام کی حالت بھی بتدریج اسی جانب لائی جا رہی ہے کہ اب ان میں مزاحمت کے کوئی آثار یا کوئی رقم دکھائی نہیں دیتی، کہ وہ سرکار سے کہیں کہ ٹیکسوں ؍ سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ کر دو مگر جینے دو!!

جواب دیں

Back to top button