امن کی راہ اور ذمے داریاں

امن کی راہ اور ذمے داریاں
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، اس کے تناظر میں جاری سفارتی سرگرمیاں، اور پاکستان کا کردار، یہ تمام عوامل اس وقت خطے کی سیاست اور عالمی توازن کے لیے نہایت اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں اور اس کے بعد ہونے والے سفارتی روابط خوش آئند ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا فروغ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے، پاکستان کا ثالثی کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے واضح ہے کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سفارت کاری اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جنگ بندی اور اس کے مستقل حل کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک پیش کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکا اس سفارتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا یا نہیں۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ خطے میں طاقت کے استعمال نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ ایسے میں اگر سفارت کاری کو موقع دیا جائے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور اس پر عمل درآمد کی کوششیں ایک متوازن اور ذمے دار خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسحاق ڈار کے ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر ایک وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف پاکستان کی سفارتی ساکھ کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایرانی قیادت نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے اور انہیں ’’ مخلصانہ اور برادرانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی کاوشیں صرف رسمی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں اثر رکھتی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ پاکستان کو اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ وہ کسی ایک فریق کے قریب دکھائی نہ دے بلکہ اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے یہ واضح کرنا کہ جوہری معاملہ اس کی ’’ ریڈ لائن‘‘ ہے، اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مذاکرات کے دائرہ کار کی حدود بھی متعین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سفارتی پیش رفت میں حساس معاملات کو نہایت احتیاط کے ساتھ زیر بحث لانا ہوگا۔ اگر ان حدود کا احترام نہ کیا گیا تو مذاکرات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی طویل ٹیلیفونک گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف قریبی رابطے میں ہیں بلکہ خطے کے مستقبل کے حوالے سے ایک مشترکہ وعن بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مختلف عالمی رہنماں سے رابطے اور امن کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ تاہم اس تمام سفارتی سرگرمی کے باوجود چند بنیادی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج اعتماد کا فقدان ہے، جو ایران اور امریکا کے تعلقات میں ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ دوسرا چیلنج علاقائی طاقتوں کے مفادات ہیں، جو اکثر کسی بھی امن عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو نہایت دانش مندی کے ساتھ اپنی سفارتی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی داخلی سیاسی اور معاشی صورت حال کو مستحکم کرے، کیونکہ ایک مضبوط داخلی ڈھانچہ ہی موثر خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر پاکستان اندرونی طور پر مستحکم ہوگا تو وہ عالمی سطح پر زیادہ موثر کردار ادا کر سکے گا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ صورت حال پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔ اگر پاکستان اس موقع کو درست طریقے سے استعمال کرتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو بھی مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سفارت کاری میں تسلسل، غیر جانبداری اور دانش مندی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ خطہ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور ایسے میں پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ امن، مکالمے اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے، کیونکہ یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کا تقاضا ہے بلکہ اس کے اپنے قومی مفاد میں بھی ہے۔
پاکستان کا خلائی تحقیق میں عظیم سنگ میل
خلائی شعبے میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت، بالخصوص الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ EO-3کا کامیاب لانچ، ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو نہ صرف سائنسی ترقی بلکہ قومی خودمختاری اور تکنیکی خود انحصاری کی سمت میں بھی نمایاں قدم ہے۔ سپارکو کی جانب سے تیار کردہ اس جدید سیٹلائٹ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں قابل ذکر پیش رفت کر رہا ہے۔ EO-3کی خاص بات اس میں شامل جدید فیچرز ہیں، جن میں ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول، جدید توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام اور مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ شامل ہیں۔ یہ تمام خصوصیات نہ صرف سیٹلائٹ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں، بلکہ اسے آئندہ نسل کی خلائی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک تجربہ گاہ بھی بناتی ہیں۔ اس کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا زرعی منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور شہری ترقی جیسے اہم شعبوں میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ پاکستان اپنے خلائی پروگرام کو محض نمائشی سطح پر نہیں بلکہ عملی افادیت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ چین کے ساتھ تعاون نے اس سفر کو مزید تقویت دی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے ترقی کے نئے دروازے کھولے جاسکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اس تعاون کے ساتھ اپنی مقامی تحقیق اور افرادی قوت کو مزید مضبوط بنائے تاکہ مستقبل میں مکمل خودانحصاری حاصل کی جاسکے۔ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے اس کامیابی کو سراہنا حوصلہ افزا ہے، مگر اصل چیلنج اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی ایک مہنگا اور پیچیدہ شعبہ ہے، جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، مستقل سرمایہ کاری اور پالیسی کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان عوامل پر توجہ دی جائے تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر EO-3کی لانچ ایک امید افزا پیش رفت ہے جو پاکستان کے روشن سائنسی مستقبل کی نوید دیتی ہے۔





