
ایران کے رکنِ پارلیمان اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ کمانڈر سالار ولایت مدار نے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی تازہ تصاویر اب تک جاری نہ کرنے کی اصل وجہ بتا دی۔
آئی آر جی سی سے وابستہ کمانڈر نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی تصاویر جاری نہ کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جن میں یہ خدشہ بھی شامل ہے کہ دشمن عناصر انہیں نقصان پہنچانے کے لیے غیبی علوم، جادو ٹونے کا استعمال کر سکتے ہیں۔
انہوں نے جمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں اور مذہبی حلقوں کی مشاورت کے بعد یہ طے کیا گیا ہے کہ فی الحال مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق کوئی نئی تصاویر یا مواد جاری نہیں کیا جائے گا، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے
سالار ولایت مدار کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مخالفین غیر روایتی طریقوں، بشمول نام نہاد جادو ٹونہ اور علومِ غیبی کے ذریعے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، اسی لیے یہ احتیاطی اقدام اختیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے 10 دن بعد 8 مارچ 2026ء کو مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا






