Column

پاکستان کی امن کیلئےجدوجہد کامیاب ہوگی

پاکستان کی امن کیلئے
جدوجہد کامیاب ہوگی
ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور عدم اعتماد کی فضا ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے پر اہم پیش رفت کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وہ ان مذاکرات کے انعقاد اور تسلسل کو ممکن بنانے میں مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطے کی مجموعی صورت حال، ایران کی جانب سے مذاکرات میں ابتدائی عدم شرکت کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور آئندہ سفارتی لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان رابطے کے تسلسل کو برقرار رکھے گا۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے جغرافیائی محل وقوع کے تناظر میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوئے ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈیاں، آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، علاقائی اتحاد اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے میں پاکستان کا کردار ایک ایسے ملک کے طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے جو جغرافیائی طور پر بھی اس خطے کا حصہ ہے اور سفارتی طور پر بھی مختلف فریقین کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ یا دبائو کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ حالیہ اجلاس میں اس بات پر خاص زور دیا گیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی زیر غور آیا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس پر قابو پانے کے لیے سفارتی روابط کو مزید فعال کیا جائے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس میں امریکی اور ایرانی سفیروں سے اپنی ملاقاتوں سے متعلق وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ان ملاقاتوں میں نہ صرف مذاکراتی عمل کے تسلسل پر بات ہوئی بلکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس پورے عمل میں صرف سیاسی یا سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عملی اور انتظامی سطح پر بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ مذاکرات پاکستان میں منعقد ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کا ثبوت ہوگا۔ تاہم صورت حال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، کیونکہ فریقین کے درمیان سخت گیر موقف برقرار ہے اور کسی حتمی معاہدے یا ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں فریقین کو ایک میز پر لایا جائے تاکہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ایران کی مذاکرات میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی روابط جاری رکھے جائیں گے۔ پاکستان کی قیادت ہر نئی پیش رفت پر فوری ردعمل دے رہی ہے اور متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ہر موقع پر کامیابی یقینی نہیں رہی، لیکن پاکستان کا سفارتی رویہ ہمیشہ مذاکرات، امن اور استحکام کی حمایت میں رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہوا جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا گیا۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی تنازعات اور سیکیورٹی خدشات اس کشیدگی کی بڑی وجوہ رہے ہیں۔ ان حالات میں کسی بھی مذاکراتی پیش رفت کو عالمی سطح پر نہایت اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف دو ممالک کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیاسی توازن پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ اس سفارتی عمل میں پاکستان کے لیے جہاں ایک طرف مواقع ہیں، وہیں چیلنجز بھی کم نہیں۔ اگر پاکستان دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی عالمی سفارتی حیثیت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کو تقویت ملے گی بلکہ اقتصادی اور سیکیورٹی سطح پر بھی نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم اگر مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوتا ہے یا فریقین مزید دور ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی کوششوں کو بھی محدود نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود اجلاس میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرے گی۔ عالمی برادری بھی اس عمل کو غور سے دیکھ رہی ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی مثبت پیش رفت کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی کوششیں ایک نازک مگر اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ پاکستان کا کردار اس پورے عمل میں ایک سہولت کار اور ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور خطے میں امن کے لیے عملی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ خطے میں استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ تاہم اس پورے عمل کی کامیابی کا انحصار فریقین کے سیاسی ارادوں، اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی رابطوں پر ہے۔
گھی اور کوکنگ آئل مہنگے
مہنگائی کے مسلسل دبائو نے ایک بار پھر عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور اس بار ہول سیل مارکیٹ میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ کریانہ مرچنٹس کی حالیہ رپورٹس کے مطابق ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ معاشی دبائو کے شکار عوام کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فرسٹ گریڈ آئل اور گھی کی قیمت میں فی کلو 30روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد قیمت 560روپے سے بڑھ کر 590روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح سیکنڈ گریڈ آئل میں بھی 35روپے فی لٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے نئی قیمت 510روپے سے بڑھ کر 545روپے تک جا پہنچی ہے۔ سیکنڈ گریڈ گھی کی قیمت میں بھی 25روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے، جو اَب 535روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ یہ مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا دبائو ابھی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ عام صارف، جو پہلے ہی بجلی، گیس، آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہے، اب ایک اور مالی بوجھ کا سامنا کر رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پیداواری اور ترسیلی اخراجات میں اضافہ ہے۔ دوسری جانب پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PVMA)کے مطابق صنعتی سطح پر بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ تاہم عوامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ہر بار قیمتوں میں اضافہ ہی واحد حل ہے، یا پھر حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن سے پیداواری لاگت کو کم کرکے صارفین کو ریلیف دیا جاسکے؟ ضروری ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے اور صنعت کار مل کر ایک ایسا قابل عمل لائحہ عمل تیار کریں جس سے نہ صرف سپلائی چین مستحکم ہو بلکہ عوام کو بھی ریلیف مل سکے۔ بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور معاشی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button