Column

گلگت بلتستان: انتخابی نعروں سے حقیقت تک

گلگت بلتستان: انتخابی نعروں سے حقیقت تک

غلام مصطفیٰ جمالی

گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوتے ہی سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم ہو چکا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، مرکزی رہنما اور مقامی امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہیں۔ جلسے جلوس، کارنر میٹنگز، انتخابی منشور، ترقیاتی وعدے اور مستقبل کے سنہرے خواب ایک بار پھر عوام کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ہر جماعت خود کو عوامی مسائل کا واحد حل اور اپنے مخالفین کو ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ ایسے ماحول میں عام ووٹر کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا کہ وہ کس پر اعتماد کرے اور کس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرے۔ تاہم جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور یہی فیصلہ آنے والے برسوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی سمت کا تعین کرتا ہے۔

گلگت بلتستان پاکستان کا ایک منفرد خطہ ہے جس کی جغرافیائی، تاریخی اور معاشی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے، قدرتی حسن، معدنی وسائل اور سیاحت کے بے شمار مواقع اس خطے کو غیر معمولی اہمیت عطا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہاں کے عوام کو آج بھی متعدد بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں، تعلیمی ادارے مطلوبہ معیار سے دور ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہیں اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہی مسائل انتخابات میں عوام کی توجہ کا مرکز ہونے چاہئیں۔

ہر انتخاب میں عوام سے بے شمار وعدے کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے وعدے بھی سامنے آتے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوتا۔ انتخابی مہم کے دوران الفاظ کی چمک دمک اور جذباتی نعروں کا اثر وقتی طور پر عوام کو متاثر ضرور کرتا ہے، لیکن حقیقت کا سامنا انتخابات کے بعد ہوتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ووٹرز صرف وعدوں پر نہیں بلکہ ماضی کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار پہلے اقتدار میں رہ چکا ہے تو عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے اپنے دور میں کیا کارنامے انجام دیے، کن منصوبوں کو مکمل کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے۔

جمہوری نظام میں ووٹ ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ووٹر جب پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف ایک امیدوار کا انتخاب نہیں کر رہا ہوتا بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل، اپنے علاقے کی ترقی اور اپنے معاشرے کی سمت کا فیصلہ بھی کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے وقت انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہاں سیاسی وابستگی اپنی جگہ لیکن کارکردگی اور عوامی خدمت بنیادی معیار ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کو اقتدار کا موقع دیا ہے۔ ہر جماعت نے اپنے دور حکومت میں ترقی کے دعوے کیے اور عوامی خدمت کے وعدے کیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ووٹرز ان دعوں اور وعدوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ سڑکوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پانی، بجلی، سیاحت اور روزگار کے شعبوں میں جو کام ہوا ہے، اس کا موازنہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کس جماعت یا قیادت نے واقعی عوامی مفاد کو ترجیح دی۔

نوجوان ووٹرز اس انتخاب میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان تعلیم یافتہ ہیں، جدید ذرائع ابلاغ تک رسائی رکھتے ہیں اور ملکی و عالمی حالات سے باخبر ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات، جذباتی نعروں اور غیر مصدقہ خبروں سے متاثر ہونے کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ اگر نوجوان نسل باشعور انداز میں ووٹ دے گی تو اس کے مثبت اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

خواتین کی سیاسی شرکت بھی جمہوری عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کی خواتین مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انتخابات میں ان کی بھرپور شرکت نہ صرف جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے بلکہ سیاسی قیادت کو خواتین کے مسائل پر توجہ دینے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں خواتین کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابی عمل میں میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ آزاد اور ذمہ دار صحافت عوام کو درست معلومات فراہم کرتی ہے اور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ انتخابی مہمات کو صرف بیانات اور الزامات تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی مسائل، پالیسیوں اور عملی اقدامات پر توجہ دے۔ اسی طرح ووٹرز کو بھی چاہیے کہ وہ ہر خبر اور دعوے کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح اس خطے کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے ہیں۔ تاہم سیاحت کے شعبے میں ابھی بھی بے شمار امکانات موجود ہیں۔ بہتر سڑکیں، معیاری ہوٹل، ماحول دوست پالیسیاں اور جدید سہولیات اس شعبے کو مزید ترقی دے سکتی ہیں۔ ووٹرز کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت سیاحت کے فروغ کے لیے قابل عمل منصوبہ رکھتی ہے۔

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے محدود وسائل کے باوجود تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کے باوجود کئی علاقوں میں تعلیمی سہولیات ناکافی ہیں۔ اساتذہ کی کمی، بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور جدید تعلیمی وسائل کی عدم دستیابی جیسے مسائل توجہ طلب ہیں۔ انتخابات میں تعلیم ایک اہم موضوع ہونا چاہیے۔

صحت کا شعبہ بھی عوامی توجہ کا مستحق ہے۔ دور دراز علاقوں میں اسپتالوں اور طبی سہولیات کی کمی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مریضوں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو صحت کے شعبے میں واضح اور قابل عمل پروگرام پیش کرنا چاہیے تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات ان کے اپنے علاقوں میں میسر آ سکیں۔

روزگار نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہزاروں نوجوان مناسب ملازمت کے منتظر رہتے ہیں۔ اگر روزگار کے مواقع پیدا نہ کیے جائیں تو بے روزگاری سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹرز کو ان جماعتوں کی حمایت کرنی چاہیے جو نوجوانوں کے لیے عملی اور حقیقت پسندانہ معاشی منصوبے پیش کرتی ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور اپنے حق رائے دہی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اس بار بھی ان کے سامنے موقع موجود ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ایک واضح پیغام دیں کہ عوام اب صرف نعروں اور وعدوں سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ کارکردگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کو ترجیح دیں گے۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ مسلسل احتساب کا عمل بھی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ انتخابات کے بعد بھی اپنے منتخب نمائندوں سے رابطہ رکھیں، ان سے سوال کریں اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں۔ جب عوام بیدار اور باشعور ہوں گے تو سیاسی قیادت بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ سنجیدگی سے ادا کرے گی۔

آج گلگت بلتستان ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جہاں انتخابی نعروں، جذباتی تقاریر اور وقتی وعدوں کو بنیاد بنا کر فیصلے کیے جائیں، جبکہ دوسرا راستہ وہ ہے جہاں حقائق، کارکردگی اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ ترقی یافتہ معاشرے ہمیشہ دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ یہی راستہ پائیدار ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات محض سیاسی مقابلہ نہیں بلکہ عوامی شعور کا امتحان بھی ہیں۔ ووٹرز اگر کارکردگی، دیانت داری، قابلیت اور عوامی خدمت کو اپنا معیار بنائیں گے تو نہ صرف بہتر قیادت سامنے آئے گی بلکہ پورا خطہ ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہو سکے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ انتخابی نعروں سے آگے بڑھ کر حقیقت کو دیکھا جائے، وعدوں سے زیادہ نتائج کو اہمیت دی جائے اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے جو واقعی عوام کی خدمت اور علاقے کی ترقی کے لیے مخلص ہوں۔

جواب دیں

Back to top button