Column

نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے 

پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

تحریر : صفدر علی حیدری

انسان اتنی ترقی کے باوجود اندر سے خالی کیوں رہتا ہے؟، کیونکہ وہ اپنی اصل بھول جاتا ہے۔ انسان کی حقیقت ایک لفظ میں سمجھے تو وہ ہے بے بسی، مگر ہم تو بہت کچھ کر لیتے ہیں، طاقت بھی ہے، علم بھی ہے۔ باہر کی دنیا میں ہاں، مگر اندر کی دنیا میں نہیں۔ انسان کا علم محدود ہے، اس کی نظر محدود ہے، اس کا ادراک محدود ہے۔ پھر ہم جو فیصلے کرتے ہیں وہ؟۔ وہ اکثر مکمل سچ نہیں ہوتے، صرف ایک زاویہ ہوتے ہیں، تو ہم غلطی پر رہتے ہیں؟۔ نہیں، ہم سیکھنے کے سفر پر رہتے ہیں۔

پھر دعا کیا ہے؟ میں کیا مانگوں جب میں کچھ جانتا ہی نہیں؟، یہی تو دعا ہے۔ یہ کہنا کہ میں نہیں جانتا، تو جانتا ہے۔ میں نہیں دیکھتا، تو دیکھتا ہے، تو دعا صرف مانگنا نہیں؟۔ دعا مانگنا نہیں، ماننا ہے۔ پھر ہم جو اپنی حاجتیں مانگتے ہیں؟ ۔ وہ بھی دعا ہے، مگر مکمل دعا نہیں۔

مکمل دعا وہ ہے جس میں رضا شامل ہو۔ رزق میں کیا صرف مال شامل ہے؟۔ نہیں، رزق وہ سب کچھ ہے جو زندگی کو سہارا دے: سکون، صحت، محبت، علم، ایمان، وقت، قناعت۔

دعا میں سب سے جامع چیز کیا ہے؟۔ عافیت۔

ہم کیوں بھٹک جاتے ہیں؟، کیونکہ سمت غلط ہو جاتی ہے، پھر صحیح راستہ؟۔ ہدایت۔

سب سے بلند مقام؟، رضا۔

زندگی کیوں غیر یقینی ہے؟، تاکہ انسان کسی یقینی ذات سے جڑ جائے۔ سکون کیسے ملتا ہے؟، جب خواہش کم اور رضا زیادہ ہو جائے۔

دعا کمزور لگتی ہے، مگر اسی کمزوری میں طاقت ہے، آخر دعا کیا ہے؟، ’’ میں کچھ نہیں، تو سب کچھ ہے‘‘ ۔۔۔

وقت کیا ہے؟، وقت دریا ہے، انسان اس میں تیرتا ہے۔

کچھ لوگ تاریخ بدل دیتے ہیں؟، وہ وقت نہیں بدلتے، اپنے عمل بدلتے ہیں۔۔۔

انسان بار بار غلطی کیوں کرتا ہے؟، نفس کی وجہ سے۔ نفس کیا چاہتا ہے؟، جلدی، آسانی، وقتی لذت۔

جنگ کہاں ہے؟، انسان کے اندر۔۔۔

شکر کیا ہے؟، جو ملا ہے اسے دیکھنا۔

مومن کی کیفیت؟، خوف اور امید۔۔۔

دعا قبول نہ ہو تو؟، وہ ضائع نہیں جاتی۔

آزمائش کیوں؟، تاکہ انسان خود کو پہچانے ۔۔۔ا

گر سب کچھ انسان کے اندر ہے تو باہر کیا ہے؟، آئینہ۔۔۔

کچھ لوگ عبادت کر کے بھی بے سکون کیوں؟، کیونکہ عبادت دل تک نہیں اترتی۔

دل تک راستہ؟۔ اخلاص۔۔۔

انسان کو سب سے بڑا نقصان؟، اپنی ضد۔۔۔ سب سے بڑی کمائی؟، اپنی شکست کو مان لینا ۔۔۔

تو آخر انسان کو چاہیے کیا؟۔ توازن۔ اور آخری حقیقت؟ انسان مسافر ہے۔۔۔

دل میں ایک صدا رہ گئی: ’’ پرواز باہر نہیں، اندر کی آزادی کا نام ہے۔۔۔

پھر دعا اگر تقدیر بدل دیتی ہے تو ہم ایسے کیوں ہیں؟

ایک خاموشی، پھر جواب آیا: ’’ دعا تقدیر بدل دیتی ہے، مگر صرف اس معنی میں نہیں کہ سب کچھ خود بدل جائے۔

مطلب؟۔ دعا دروازہ کھولتی ہے، مگر اس دروازے سے چلنا انسان کو پڑتا ہے۔

پھر ہم کیوں نہیں بدلے؟، کیونکہ ہم نے دعا کو امید بنایا، مگر عمل چھوڑ دیا۔

تو اصل مسئلہ؟، دعا نہیں، اسباب سے غفلت۔

اسباب کیا ہیں؟۔ علم، محنت، نظم، اتحاد، دیانت، شعور۔

ہم کیا چاہتے ہیں؟۔ نتیجہ￿í بغیر قیمت کے۔

یہ ممکن ہے؟۔ نہیں۔

پھر دعا کیا کرتی ہے؟۔ دعا امکان پیدا کرتی ہے، لیکن راستہ انسان کو چلنا ہوتا ہے۔

تو اجتماعی زوال کیوں آیا؟۔ کیونکہ ہم نے مانگنا سیکھ لیا، مگر بدلنا بھول گئے۔

کیا دعا کافی نہیں؟۔ دعا آغاز ہے، انجام نہیں۔

پھر امت کیسے اٹھے گی؟۔

جب دعا شعور بنے گی، اور شعور عمل میں اترے گا۔

تو امید؟۔ ہاں، جب تک انسان بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے

آخری بات: دعا تقدیر بدل سکتی ہے، مگر جو قومیں صرف دعا پر ٹھہری رہیں اور عمل چھوڑ دیں، انکی حالت نہیں بدلتی۔

’’ اصل تبدیلی ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے، باہر سے نہیں‘‘۔۔۔

جواب دیں

Back to top button