CM RizwanColumn

غربت کا عذاب اور وزارت کے مزے اور۔۔۔

غربت کا عذاب اور وزارت کے مزے اور۔۔۔

تحریر : سی ایم رضوان

پاکستان میں وزارت کے مزے اڑانے والے سیاستدانوں کو کیا پتہ کہ ایک فاقہ زدہ غریب گھرانے کو زندگی کے کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر وزراء غربت سے متعلق بیانات یا تجزیہ دیتے وقت حقائق سے صرف نظر کر جاتے ہیں جو کہ ان کی تکنیکی اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی غربت کا عذاب اور ہے وزارتِ کے زعم میں غربت پر تجزیاتی بیان دینا ایک یکسر مختلف معاملہ ہے۔ ایسے میں ملک کے مفلوک الحال لوگوں کی تکلیفوں میں مزید اضافہ تو ہو سکتا ہے مگر انہیں ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے میں پاکستان کی سیاست اور معاشی پالیسیوں میں غربت کے خاتمے کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا بھی ضروری ہے جو اپنی کئی قباحتوں یا سسٹم کی بددیانتی کے باوجود کم از کم کچھ غریب خواتین کی اشک شوئی تو کر ہی رہا ہے جو نام جویں کے ایک ایک لقمے کو ترس گئی ہوتی ہیں۔

بہرحال روایتی وزارتی حربے سے کام لیتے ہوئے گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس نوعیت کے سماجی تحفظ کے پروگراموں کی اہمیت تسلیم، لیکن ان کا بنیادی اصرار اس بات پر ہے کہ غربت کا مستقل حل صرف نقد رقم بانٹنے میں نہیں بلکہ معاشی ترقی میں ہے۔ احسن اقبال غربت کے خاتمے کے لئے نقد امداد کے بجائے ہنر اور روزگار فراہم کرنے کے سخت حامی ہیں حالانکہ ان کی سیاسی جماعت کی کبھی بھی ایسی کوئی پالیسی نہ رہی ہے البتہ زبانی طور پر وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ’’ ہمیں مچھلی پکڑ کر دینے کے بجائے غریب کو مچھلی پکڑنا سکھانا ہو گا‘‘۔ ان کا ماننا ہے کہ بی آئی ایس پی جیسے پروگرامز غریب خاندانوں کو فوری لائف لائن تو دیتے ہیں لیکن غربت کا اصل خاتمہ تعلیم، آئی ٹی اور تکنیکی مہارتیں دینے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اپنے بعض بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک ملک میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہو گا اور کارخانے نہیں لگیں گے، تب تک ملک سے مستقل طور پر غربت ختم نہیں ہو سکتی۔ وہ سماجی تحفظ کے بجٹ کو نوجوانوں کے لئے بلاسود کاروباری قرضوں ( جیسے یوتھ لون اسکیم) سے جوڑنے کے حق میں رہے ہیں تاکہ لوگ خود کفیل ہو سکیں۔ یاد رہے کہ اس سے چند روز قبل ن لیگی قائد رانا ثناء اللہ کے بیانات نے اس حوالے سے زیادہ توجہ حاصل کی تھی۔ رانا ثناء اللہ زیادہ تر بی آئی ایس پی کے سیاسی پہلوئوں، اس کے انتظام اور مسلم لیگ ( ن) کی اپنی معاشی کارکردگی کے موازنے پر مبنی بیانات دیتے رہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے ماضی میں بھی اس بات پر تنقید کی تھی کہ بی آئی ایس پی کو بعض اوقات سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، جب مسلم لیگ ( ن) اتحادی حکومتوں کا حصہ بنی تو انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی اس پروگرام کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھانا چاہتی ہے، بشرطیکہ اس میں سے سیاسی مداخلت ختم کی جائے اور ڈیٹا بالکل شفاف ہو۔ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جب بی آئی ایس پی کا نام بدل کر احساس پروگرام کے تحت لایا گیا، تو رانا ثناء اللہ نے اس پر بھی سخت سیاسی موقف اپنایا تھا۔ انہوں نے بیانات دیئے تھے کہ یہ پروگرام اصل میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن) کے ادوار کا شروع کردہ تھا، اور تحریک انصاف نے صرف اس پر اپنی سیاسی مہر لگانے کی کوشش کی، جبکہ اس کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اگرچہ مسلم لیگ ( ن) کی قیادت ( بشمول احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ملک کی غریب ترین خواتین کے لئے ایک ضروری پناہ گاہ سمجھتی ہے، لیکن ان کا سیاسی اور معاشی بیانیہ یہ ہے کہ ملک کو طویل المدتی بنیادوں پر ’’ امداد مانگنے والی معیشت‘‘ سے نکال کر ’’ روزگار پیدا کرنے والی معیشت‘‘ بنانا ہو گا، مگر یہ بھی محض بیانات کی حد تک ہے۔ افسوس کہ یہ سب بیانات ان کی اپنی سیاسی جماعت کی وقتی سیاسی تقاضوں کی خاطر ہوتا ہے اس میں ملک کے کروڑوں غریبوں کے لئے خلوص، استقلال اور سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی گئی ورنہ آج ملک میں غربت کی صورت حال اس قدر تشویشناک نہ ہوتی۔ الا ماشائاللہ یہ صرف ن لیگ ہی نہیں بلکہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا مستقل وتیرہ یہی ہے مذکورہ بالا رہنماں کے ساتھ ساتھ دیگر باریاں لینے والے سیاستدانوں کا ہی کیا دھرا ہے کہ پاکستان میں آج غربت ایک انتہائی پیچیدہ اور گہرا مسئلہ بن چکا ہے، جو صرف کسی ایک حکومت یا حالیہ معاشی بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں سے چلے آنے والے اسٹرکچرل نقائص اور پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق، 2022ء کے تباہ کن سیلاب، کورونا اور اس کے بعد ریکارڈ توڑ مہنگائی کی وجہ سے پاکستان کی تقریباً 25%سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

اگر ہم گہرائی میں جا کر دیکھیں، تو واضح ہو گا کہ پاکستان میں غربت کا پہلا بنیادی سبب یہ ہے کہ پاکستان کا معاشی ماڈل پیداوار یا برآمدات کے بجائے زیادہ تر اندرونی کھپت اور درآمدات پر چلتا ہے۔ دوسرا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکومت کا زیادہ تر بجٹ پرانے قرضوں کی سود کی ادائیگی اور دفاعی یا انتظامی اخراجات میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر ترقیاتی کاموں ( سڑکیں، ہسپتال، سکول) کے لئے فنڈز نہیں بچتے۔ ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام بھی پاکستان میں غربت کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں امرائ، بڑے جاگیر داروں اور ریٹیل سیکٹر پر براہِ راست ٹیکس لگانے کے بجائے عام استعمال کی اشیاء ( پٹرول، بجلی، گیس، آٹا، چینی) پر ان ڈائریکٹ ٹیکس لگایا جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور مڈل کلاس طبقے پر پڑتا ہے۔ غیر رسمی معیشت اور کم اجرت بھی غربت کا باعث ہیں۔ پاکستان کے تقریباً 85%سے 95%غریب افراد غیر رسمی شعبے یعنی دیہاڑی داری، تعمیراتی کاموں، زراعت یا ریڑھی بانی سے وابستہ ہیں۔ ان ملازمتوں میں کوئی جاب سکیورٹی، میڈیکل الانس یا پنشن نہیں ہوتی۔ پچھلے چند برسوں میں مہنگائی 30%تک اوپر گئی جبکہ غریب کی اجرت یا تنخواہ میں صرف 2%سے 3%اضافہ ہوا، جس نے لاکھوں لوگوں کو غربت کی دلدل میں دھکیل دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی کمی ملک میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی خراب ہے جبکہ کوالٹی ایجوکیشن صرف امیر طبقے کی پہنچ میں ہے۔ غریب کے بچے یا تو سکولوں سے باہر ہیں ( قریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے) یا وہ ایسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو انہیں جدید مارکیٹ کے مطابق کوئی ہنر نہیں دیتی۔ پبلک ہیلتھ سسٹم ( سرکاری ہسپتالوں) کی نااہلی بھی غربت کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے جب بھی کسی غریب خاندان میں کوئی شدید بیمار ہوتا ہے، تو انہیں نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ علاج کے یہ اخراجات اکثر پورے کے پورے خاندان کو قرض تلے دبا کر خطِ غربت سے نیچے گرا دیتے ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر غذائی قلت بھی غربت میں اضافے کا ایک سبب ہے۔

پاکستان میں 5سال سے کم عمر کے قریباً 40%بچے غذائی قلت کی وجہ سے ’’ اسٹنٹنگ‘‘ ( قد اور دماغ کا نہ بڑھنا) کا شکار ہیں، جو مستقبل میں ان کے کمانے کی صلاحیت کو مستقل طور پر متاثر کرتا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ان سب اسبابِ کو دوآتشہ کر رہا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں سالانہ تقریباً 1.5%سے 2%کی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وسائل ( پانی، زمین، نوکریاں) محدود ہیں اور ان پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک اوسط غریب خاندان میں کمانے والا ایک اور کھانے والے زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کبھی بچت نہیں کر پاتے۔ صنفی عدم مساوات بھی ہمیں معاشی تباہی کے اندھے کنویں میں دھکیل رہا ہے۔ وطن عزیز میں خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت صرف 25%کے قریب ہے، جو خطے میں سب سے کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ آبادی کے آدھے حصے ( خواتین) کا معیشت میں حصہ نہ لینا گھرانوں کی آمدنی کو محدود رکھتا ہے۔ خطہ میں موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات نے بھی ہمارے معاشی مصائب میں اضافہ کیا ہے کیونکہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یاد رہے کہ 2022ء کے سیلاب نے پاکستان کی زراعت اور دیہی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا، جس کی وجہ سے صرف ایک سال کے اندر اضافی 13ملین ( ایک کروڑ 30لاکھ) لوگ غربت کا شکار ہو گئے۔ دیہی علاقوں میں کسانوں کی فصلیں اور مال مویشی تباہ ہونے سے ان کا روزگار یکسر ختم ہو گیا۔ غربت کا جغرافیائی پھیلا بھی ہمارے معاشی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غربت یکساں نہیں ہے۔ تاریخی طور پر غربت دیہی علاقوں میں زیادہ رہی ہے، خاص طور پر بلوچستان کے دور دراز اضلاع، جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ میں، جہاں جاگیر دارانہ نظام اور بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی نے نسل در نسل غربت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ تاہم، حالیہ معاشی بحران کے بعد اب یہ غربت تیزی سے بڑے شہروں ( کراچی، لاہور، راولپنڈی) کی کچی آبادیوں اور پسماندہ علاقوں میں بھی پھیل رہی ہے، جسے معاشی ماہرین شہروں میں غربت کا پھیلائو کہتے ہیں لیکن یہ وزراء حضرات محض سرسری بیانات دیتے ہیں مگر ان معاملات کو مستقل طور پر حل نہیں کرتے۔ حالانکہ اس غربت کے بعد اب جہاں دیگر خطرات نے جنم لیا ہے وہاں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ممکن ہے کل کلاں غربت کے ستائے لوگ بغیر کسی سیاسی قیادت کے ہی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ یا پھر مایوسی میں اضافے کے باعث خودکشیوں اور ذہنی امراض میں اضافہ ہو جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان کی طرح غربت، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کے مسائل دنیا کے کئی دوسرے ممالک کو بھی درپیش ہیں۔ عالمی بینک اور اقوامِ متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دنیا میں قریباً 80کروڑ سے زائد لوگ شدید غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بھی مہنگائی، فیول کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی پالیسیوں کے دبائو کی وجہ سے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر 100سے زائد ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 55واں ہے ( جہاں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ غربت اور آخری نمبر پر سب سے کم غربت ہے)۔ یعنی پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ’’ لوئر مڈل انکم‘‘ یعنی نچلے متوسط طبقے میں آتے ہیں، جہاں غربت کے چیلنج تو بڑے ہیں لیکن حالات افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک جتنے سنگین نہیں ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک جیسے انڈیا اور بنگلادیش بھی اسی کیٹیگری (50سے 60کے درمیان) میں آتے ہیں، جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی بنیادی معاشی سہولیات کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ ان حالات میں موجودہ حکومت کے ہونہار وزراء کو راستہ اقدامات کرنے چاہئیں نہ کہ غریبوں کے زخموں پر نمک پاشی۔

جواب دیں

Back to top button