امدادبمقابلہ خودکفالت

امداد بمقابلہ خودکفالت
تحریر : امتیاز احمد شاد
دنیا بھر میں حکومتیں غریب اور کمزور طبقات کی مدد کے لیے مختلف فلاحی پروگرام چلاتی ہیں۔ پاکستان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کی سکیمیں اسی مقصد کے تحت قائم کی گئی ہیں۔ ان پروگراموں کا بنیادی ہدف غربت میں کمی، معاشی عدم مساوات کا خاتمہ اور کمزور طبقوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ہے۔ تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسے پروگرام واقعی غربت ختم کرتے ہیں یا معاشرے میں سرکاری امداد پر انحصار کو فروغ دیتے ہیں؟
فلاحی ریاست کا تصور اس بنیاد پر قائم ہے کہ ریاست اپنے کمزور شہریوں کو مشکل حالات میں تنہا نہ چھوڑے۔ بیروزگاری، بیماری، قدرتی آفات یا معاشی بحران کے دوران حکومتی امداد لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی اور بھوک کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بہت سے خاندانوں نے انہی پروگراموں کی بدولت اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھی، علاج کروایا یا بنیادی ضروریات پوری کیں۔
اس کے باوجود ان پروگراموں پر کئی سنجیدہ اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ طویل عرصے تک بلاشرط نقد امداد افراد میں خود انحصاری کے بجائے انحصار کی نفسیات پیدا کر سکتی ہے۔ جب امداد مستقل آمدنی کی شکل اختیار کر لے تو بعض افراد اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ترغیب کھو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ اعتراض تمام مستحقین پر لاگو نہیں ہوتا، لیکن اس خطرے کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ امدادی پروگرام غربت کی علامات کا علاج کرتے ہیں، اسباب کا نہیں۔ غربت کی اصل وجوہات میں کمزور تعلیمی نظام، فنی تربیت کی کمی، بیروزگاری، صنعتی پسماندگی، زرعی مسائل اور محدود معاشی مواقع شامل ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکالا جاتا، نقد امداد صرف وقتی ریلیف فراہم کرتی ہے اور غربت کا چکر جاری رہتا ہے۔
ایک اور مسئلہ مالی وسائل کے استعمال کا ہے۔ حکومتیں ہر سال اربوں روپے امدادی پروگراموں پر خرچ کرتی ہیں۔ ناقدین کا موقف ہے کہ اگر ان وسائل کا ایک بڑا حصہ صنعتوں، چھوٹے کاروباروں، فنی تربیت کے مراکز، جدید زراعت اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں پر لگایا جائے تو معیشت زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے اور لوگ مستقل روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
سیاسی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بعض اوقات فلاحی پروگرام عوامی خدمت سے زیادہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ امدادی اسکیموں کو ووٹ بینک مضبوط کرنے یا سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کے ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو فلاحی پالیسی کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ریاستی وسائل سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔
تاہم امدادی پروگراموں کے مکمل خاتمے کی تجویز بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی سماجی تحفظ کے نظام موجود ہیں۔ اصل مسئلہ امداد کے وجود کا نہیں بلکہ اس کے ڈیزائن کا ہے۔ ایک موثر نظام وہ ہے جو لوگوں کو مستقل طور پر امداد کا محتاج بنانے کے بجائے خود کفیل بننے میں مدد دے۔
اس مقصد کے لیے چند اہم اصلاحات ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ نقد امداد کو فنی تربیت اور ہنر مندی کے پروگراموں سے جوڑا جائے۔ دوسری یہ کہ امداد حاصل کرنے والوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان قرضے اور رہنمائی فراہم کی جائے۔ تیسری یہ کہ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو امدادی اخراجات کے برابر اہمیت دی جائے۔ چوتھی یہ کہ امدادی پروگراموں میں شفافیت، احتساب اور باقاعدہ جائزے کا نظام قائم کیا جائے تاکہ وسائل صرف حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔
حکومتی امدادی پروگرام انسانی ہمدردی اور سماجی تحفظ کے لیے ضروری ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ان کا مقصد صرف رقم تقسیم کرنا رہ جائے تو وہ غربت کے مستقل خاتمے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک کامیاب فلاحی پالیسی وہ ہے جو وقتی مدد کے ساتھ ساتھ افراد کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے ذریعے خودمختار اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ ریاست کی کامیابی اس میں نہیں کہ کتنے لوگ امداد لے رہے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے لوگ امداد سے نکل کر خود کفیل بن رہے ہیں۔







