Column

پاکستان کی معیشت اور عام آدمی پر اثرات

پاکستان کی معیشت اور عام آدمی پر اثرات
حروف بے زباں
مرزا رضوان
پاکستان، جو اپنے جغرافیائی محل وقوع اور افرادی قوت کے لحاظ سے بے پناہ وسائل کا حامل ہے، آج اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی اتار چڑھائو، مہنگائی کی لہر، اور قرضوں کے بوجھ نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس تمام تر معاشی صورتحال کا براہِ راست اور سب سے شدید اثر اگر کسی پر پڑا ہے، تو وہ اس ملک کا ’’ عام آدمی‘‘ ہے۔
معاشی بحران کی نوعیت: پاکستان کی معیشت اس وقت کئی پیچیدہ مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ان مسائل کی جڑیں تزویراتی، سیاسی اور انتظامی ناکامیوں میں پیوست ہیں۔ تجارتی خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دبائو حکومت کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ جب ملک کی معیشت سکڑتی ہے تو اس کا اثر سب سے پہلے عام آدمی کی قوتِ خرید پر ہوتا ہے۔
عام آدمی کی زندگی پر اثرات: عام آدمی کے لیے زندگی ایک مستقل جدوجہد بن کر رہ گئی ہے۔ مہنگائی کا جن ہے کہ قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا۔ ضروریاتِ زندگی کی اشیائ، جیسے آٹا، چینی، دالیں، گھی، اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
1۔ قوتِ خرید میں کمی: مہنگائی کا سب سے پہلا نشانہ تنخواہ دار طبقہ اور دیہاڑی دار مزدور ہے۔ ایک متوسط درجے کے گھرانے کی آمدنی جب مہینوں کے بجٹ کو پورا کرنے سے قاصر رہ جائے، تو انسان سمجھوتوں پر اتر آتا ہے۔ تعلیم کا معیار گرنا، صحت کی سہولیات کا مہنگا ہونا، اور خوراک کے معیار میں کمی، یہ سب اسی معاشی دبائو کے نتائج ہیں۔2۔ بے روزگاری اور غربت: معاشی سست روی کی وجہ سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونا تو دور کی بات، موجودہ ملازمتوں پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ صنعتی پیداوار میں کمی کے باعث فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان جب ڈگری ہاتھ میں لیے سڑکوں پر خوار ہوتا ہے، تو اس سے معاشرے میں مایوسی اور جرائم کی شرح بڑھتی ہے۔
3 توانائی کے بحران کا بوجھ: بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ چکا ہے۔ ایک عام گھرانہ اب بجلی کا بل بھرے یا بچوں کی اسکول کی فیس، یہ ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔ صنعتوں کے لیے توانائی کا مہنگا ہونا پیداواری لاگت بڑھاتا ہے، جس کا حتمی بوجھ بالآخر صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
معاشی بحران کے سماجی اثرات: معیشت کا اثر صرف جیب تک محدود نہیں رہتا، یہ انسانی نفسیات اور خاندانی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب ایک گھر کا سربراہ گھر کی ضروریات پوری نہیں کر پاتا، تو ذہنی تنا، گھریلو جھگڑے، اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ نوجوان نسل میں بیرونِ ملک ہجرت کا رجحان، جو کہ "برین ڈرین” کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ملک کے اندر اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آتی۔بہتری کے ممکنہ اقدامات: پاکستان کی معیشت کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
برآمدات میں اضافہ: صرف قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملکی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہوگا۔ زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے۔
سادگی اور کفایت شعاری: حکومتی سطح پر اخراجات میں کمی اور غیر ضروری مراعات کا خاتمہ عوام کے لیے ایک مثبت پیغام ہو سکتا ہے۔
ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار: ٹیکس چوری کا خاتمہ اور ٹیکس کے نظام کو شفاف بنانا ضروری ہے تاکہ بوجھ صرف چند طبقوں پر نہ پڑے۔
تعلیم اور ہنر مندی: نوجوانوں کو صرف روایتی تعلیم کے بجائے فنی تربیت (Technical Education)دی جائے تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔
نتیجہ: پاکستان کی معیشت اور عام آدمی کا تعلق بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم اور اس کے اعضاء کا۔ اگر معاشی نظام بیمار ہو گا تو عام آدمی سسکتا رہے گا۔ آج کا دور تقاضا کرتا ہے کہ پالیسی ساز اپنی ترجیحات کو بدلیں۔ جب تک عام آدمی کی زندگی میں آسانی نہیں آئے گی، تب تک ملک کی معاشی ترقی کا دعویٰ محض اعداد و شمار تک محدود رہے گا۔
معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ جب تک ملک میں پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہوگا اور اداروں کی مضبوطی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک عام آدمی اسی طرح مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پستا رہے گا۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، اپوزیشن، اور تمام ریاستی ادارے مل کر ایک قومی معاشی ایجنڈا مرتب کریں، جس کا مرکز صرف اور صرف ’’ عام آدمی کی خوشحالی‘‘ ہو۔

جواب دیں

Back to top button