Column

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور پوپ لیو

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور پوپ لیو
میری بات
روہیل اکبر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرے گا جس کے بعد جنگ کی کیا صورتحال بنے گی پر لکھنے سے پہلے ٹرمپ اور پوپ لیو کے درمیان جو دلچسپ صورتحال بنی ہوئی ہے اسے دنیا کس نظر سے دیکھ رہی ہے پر عرض ہے کہ دنیا کی سیاست اور روحانیت جب ایک ہی اسٹیج پر آ کھڑی ہوں تو منظر محض ملاقات نہیں رہتا بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایک نیا باب رقم ہو جاتا ہے ایک طرف طاقت، سرمایہ اور جدید سیاست کا نمائندہ امریکہ کا دبنگ انداز رکھنے والا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسری طرف ویٹیکن کی خاموش مگر اثر انگیز روحانی قوت، پوپ لیویہ ٹکرائو محض دو شخصیات کا نہیں بلکہ دو نظریات کا مقابلہ محسوس ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز ہمیشہ سے بے باک، براہِ راست اور کسی حد تک جارحانہ رہا ہے۔ وہ دنیا کو بزنس کی نظر سے دیکھتے ہیں جہاں ہر فیصلہ فائدے اور نقصان کے پیمانے پر تولا جاتا ہے دوسری طرف پوپ لیو کی شخصیت صبر، برداشت اور انسانیت کے آفاقی اصولوں کی علمبردار دکھائی دیتی ہے، جہاں محبت، امن اور مساوات کو اولین ترجیح حاصل ہے پوپ لیو کے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں نے دنیا کو بھی بتا دیا ہے کہ طاقتور کے سامنے کلمہ حق کہنا ہی اصل جہاد ہے جس پر ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوپ آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ روشنی دکھائی اور ہم آپ کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں پوپ لیو کا ’’ مجھے خوف نہیں‘‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب یہ دونوں شخصیات آمنے سامنے آئیں گی تو گفتگو کا رخ کیا ہوگا؟ کیا ٹرمپ اپنی ’’ امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کو ہی دہراتے رہیں گے یا پوپ لیو انہیں انسانیت کے وسیع تر مفاد کی طرف مائل کر پائیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جو عالمی سیاسی مبصرین کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ جیسے رہنما کے لیے مذہبی اور اخلاقی دلائل اکثر ثانوی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ پوپ لیو کے لیے یہی دلائل بنیادی ستون ہیں ایک طرف دیواروں کی سیاست، سرحدیں، پابندیاں اور سخت فیصلے اور دوسری طرف پل بنانے کی سوچ رواداری، مکالمہ اور ہم آہنگی۔ اگر اس گفتگو کو ایک علامتی منظر کے طور پر دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا دو راستوں کے درمیان کھڑی ہے ایک راستہ طاقت، قوم پرستی اور مفادات کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ انسانیت، امن اور عالمی بھائی چارے کا، لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اکثر بڑے تصادم ہی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتے ہیں ہو سکتا ہے یہ لفظوں کی جنگ بھی کسی نئی سوچ، کسی نئے بیانیے کو جنم دے دے شاید ٹرمپ جیسے لیڈر بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ دنیا صرف معیشت سے نہیں بلکہ اخلاقیات سے بھی چلتی ہے اور شاید پوپ لیو بھی اس حقیقت کو سمجھیں کہ جدید دنیا میں طاقت کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے سوچنا یہ ہے کہ ان دونوں شخصیات میں سے کس کا پلڑا بھاری ہوگا اور کون جیتے گا، ٹرمپ یا پوپ لیو؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت جیتے گی یا نہیں؟ اب بات کرتے ہیں امریکی صدر کی اس دھمکی کی جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے یہی وہ سوال ہے جو آج بھی دنیا کے ہر باشعور فرد کے دل میں گونج رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے دنیا ایک خطرناک موڑ میں داخل ہو جائیگی یا پھر کچھ بھی نہیں ہو گا؟ اگر دیکھا جائے تو دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کو دائو پر لگا سکتا ہے۔ خلیج میں واقع Strait of Hormuzمحض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے یہاں سے گزرنے والا تیل دنیا کے صنعتی پہیے کو رواں رکھتا ہے اور اگر یہی راستہ بند ہو جائے تو نتائج کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی طاقت کا محور سمجھتا ہے اگر اس اہم گزرگاہ کی ناکہ بندی کی طرف بڑھتا ہے تو یہ محض ایک عسکری قدم نہیں بلکہ ایک عالمی اعلانِ اثر و رسوخ ہوگا۔ United States Navy کے جنگی بیڑے، جدید آبدوزیں اور طیارہ بردار جہاز کسی بھی وقت اس خطے کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کا یہ مظاہرہ واقعی دنیا کے مسائل کا حل ہے یا ایک نئے بحران کی ابتدا؟ اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ دبائو Iranپر پڑے گا جس کی معیشت کا بڑا دارومدار تیل کی برآمدات پر ہے امریکہ اگر اس راستے کو محدود کرتا ہے تو بظاہر یہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہوگی مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایران جیسے ممالک دبا میں آ کر جھکتے نہیں بلکہ ردعمل دیتے ہیں اور یہی ردعمل ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اس ممکنہ ناکہ بندی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے چین، یورپ، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک جو توانائی کے لیے خلیج پر انحصار کرتے ہیں شدید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی مہنگائی کا طوفان آئے گا اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی گویا ایک فیصلہ پوری دنیا کے کروڑوں انسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے اگر امریکہ یہ قدم اٹھاتا ہے تو اسے عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا بین الاقوامی سمندری راستوں کی بندش کو اکثر ممالک کھلی جارحیت تصور کرتے ہیں ایسے میں امریکہ کے اپنے اتحادی بھی مشکل میں پڑ سکتے ہیں کیا وہ اس اقدام کی حمایت کریں گے یا خود کو الگ رکھیں گے؟
اب اصل سوال یہی ہے کہ کیا دنیا طاقت کے زور پر چل سکتی ہے یا اسے مکالمے اور برداشت کی ضرورت ہے؟ اگر ہر مسئلے کا حل بندوق اور ناکہ بندی میں تلاش کیا جائے گا تو پھر امن ایک خواب ہی رہ جائے گا ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے فیصلوں میں صرف اپنے مفادات کو دیکھتی ہیں جبکہ ان فیصلوں کا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہو سکتا ہے جس کا فائدہ چند کو اور نقصان پوری دنیا کو ہوگا جس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کو اس وقت جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے ورنہ ایک چنگاری، ایک ایسا الائو بھڑکا سکتی ہے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ جائے۔

جواب دیں

Back to top button