غیر یقینی صورتحال

غیر یقینی صورتحال
محمد مبشر انوار
صدر ٹرمپ کے متعلق بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کی شخصیت انتہائی غیر یقینی ہے لیکن نجانے کیوں ایران کے معاملے پر وہ ابھی تک اپنی ضد پر اٹکے ہوئے ہیں جبکہ جتنا نقصان اب تک کی جنگ میں امریکہ کا ہو چکا ہے، اس کے بعد ٹرمپ کی شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ توقع تھی کہ وہ اس جنگ سے نکل جائیں گے لیکن ابھی تک امریکہ کے اس جنگ سے نکلنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ امریکہ کے نزدیک، ایران کی حالت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ وہ اس حد تک مزاحمت کر سکتا کہ گزشتہ 47برسوں میں ایران کی معاشی و دفاعی حالت کے متعلق یہ تصور کیا جاتا تھا کہ وہ انتہائی کمزور حالت میں ہے جس کی وجہ اس پر مسلسل پابندیاں تھی اور اس کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا تھا، گزشتہ امریکی حکومتوں نے وقتا فوقتا، ایران کے گرد اپنے تئیں شکنجہ مزید کس رکھا تھا اور غالب امکان یہی ہی کہ ٹرمپ اس خوش گمانی کا شکار ہو کر اپنے پیشروئوں کے برعکس، ایران کو ختم کرنے نکل پڑے۔ حالت یہ ہے کہ امریکہ جو بنیادی طور پر تین اہداف کے حصول میں جارحیت کا ارتکاب کر بیٹھا ہے، ان تین اہداف میں سے تاحال کسی ایک کو بھی حاصل نہیں کر پایا، ان تین اہداف میں سب سے پہلا اور بڑا ہدف، ایرانی قیادت اور رجیم کو چینج کرنے کا تھا ،دوسرا ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا تھا اور تیسرا ایران کا افزودہ یورنیم تلف کرنا تھا لیکن امریکی بدقسمتی اور ایران کی خوش قسمتی اور سخت مزاحمت سے ان میں سے کوئی ایک بھی ابھی تک حاصل نہیں ہو پایا۔ گو کہ امریکہ ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے قریبی رفقاء کو شہید کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے لیکن رجیم چینج کا جو مقصد طے تھا کہ ایران سے موجودہ نظام ہی تبدیل کر دیا جائے اور ایرانی شاہ کے وارثین کو دوبارہ اقتدار میں لا بٹھایا جائے بعینہ جیسے دیگر ممالک میں امریکہ اپنی مرضی کی حکومتیں بآسانی ترتیب دے لیتا ہے، ایران میں غداروں کی معاونت کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پایا۔ امریکہ جتنا مرضی کہے کہ اس نے ایران میں رجیم تبدیل کر دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے خلاف ساری مزاحمت اس نئی قیادت کی جانب سے سامنے آئی ہے اور تمام تر دبائو، جارحیت کے باوجود نئی قیادت کسی بھی صورت گھٹنے ٹیکنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتی بلکہ ہر امریکی جارحیت کا خم ٹھونک کر اور بھرپور جواب دے رہی ہے البتہ ایران کی جانب سے ابھی تک کسی ایک حملے میں بھی پہل دکھائی نہیں دی اور دفاع یا جوابی کارروائی میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ بھی ایران نے نہیں کیا۔ جنگ بندی کی خواہش بھی درحقیقت امریکہ ہی کی جانب سے کی گئی کہ جتنی سبکی امریکہ کی ہو چکی تھی اس کے بعد، امریکہ کے لئے ضروری تھا کہ فوری طور پر جنگ روک کر ازسر نو اپنا لائحہ عمل ترتیب دے، امریکی جنگ بندی کی خواہش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سب کو یاد ہے کہ کس طرح وزیر اعظم پاکستان سے جنگ بندی اپیل کا پیغام جاری کروایا گیا اور کس طرح فوری طور پر اس کو تسلیم کر لیا گیا، اور اس کے مطابق بروئے کار آئے اور ماضی کی طرح امریکہ نے پھر مذاکرات کی آڑ میں جارحیت جاری رکھی۔
گزشتہ چند دنوں میں پھر، امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کئے ہیں، جس کا جواب ایران کی جانب سے بھرپور طریقے سے دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے ایک طرف دھمکیوں کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور دوسری طرف مسلسل اس امر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پس پردہ مذاکرات انتہائی مثبت اشاروں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں البتہ جب تک امریکہ مطمئن نہیں ہوتا، ایران ، امریکی خواہشات کے مطابق معاہدے پر قائل ؍ تیار نہیں ہوتا ، امریکہ معاہدے کو حتمی شکل نہیں دے گا، امریکہ کو اس معاملے پر کوئی جلدی نہیں اور امریکہ بری ڈیل نہیں کرے گا اگر ایران امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو امریکہ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کارروائی کرنی پڑے گی۔ زمین حقائق اس کے برعکس ہیں کہ امریکی بحری بیڑے، ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے دور کھڑے ہیں اور ان پر موجود امریکی فوج بھی لڑنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتی، آبنائے ہرمز کے قریب آنے کے لئے تیار نہیں اور اگر بادل نخواستہ اعلی قیادت کے حکم پر قریب آنے کی کوشش کرتی بھی ہے تو ایرانی بحریہ کی وارننگ اور کبھی کبھار فائرنگ سے ڈر کر واپس مڑ جاتی ہے۔ حالانکہ ٹرمپ مسلسل ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دینے کی گردان جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ امریکہ میدان جنگ میں انتہائی کارگر کارروائی کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود امریکی بحریہ کھلے پانیوں میں ناکہ بندی کئے بیٹھی ہے۔ اس بحران کو حل کرنے کے لئے، جس معاہدے کے منتظر ٹرمپ ہیں، اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایرانی میڈیا نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1۔ امریکی افواج، ایران کے اطراف سے واپس جائیں گی۔2۔ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے گی۔3۔ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرے گا ۔ 4۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے کی طرح ہو گی ۔ 5۔ مجوزہ معاہدے میں جنگی جہازوں کی آمد و رفت شامل نہیں ہوگی۔ 6۔ ایران، عمان کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں روٹس کا تعین کرے گا۔ 7۔ 60روز میں معاہدہ ہونے پر سلامتی کونسی کی پابند قرارداد کی شکل دی جائیگی، یہ سات شرائط ایرانی میڈیا کی جانب سے سامنے لائی گئی، جن کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایرانی سرکاری میڈیا کی من گھڑت تجاویز قرار دے کر مسترد کر دیا گیا جبکہ آج برطانوی اخبار دی گارجین کی جانب سے، ان شرائط میں معمولی ردوبدل اور کمی بیشی کے بعد، کہا گیا کہ یہی مجوزہ معاہدے کی شرائط ہیں، جو ٹرمپ نے اسرائیل سمیت دیگر اتحادی ممالک کو بھجوا دی ہیں۔ علاوہ ازیں! امریکی ویب سائٹ AXIOSکی جانب سے دعوی کیا گیا کہ فریقین دو ماہ کے لئے جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہو گئے ہیں، ٹرمپ کی منظوری کا انتظار ہے اور ایران کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران نے مذاکرات میں ایٹمی معاملات پر بات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ ٹرمپ نے اس پر جواب دینے کے لئے دو دن کا وقت مانگ لیا ہے۔ ایسی خبروں سے کسی بھی صورت کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اگر ایران کی جانب سے مذاکرات میں ایٹمی معاملات پر گفتگو کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے تو ٹرمپ کس خوشی میں دو دن بعد جواب دیں گے؟ اصولا ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ٹرمپ اس خبر پر فوری ردعمل دیتے اور اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے، مذاکرات میں شامل اپنے وفد کو فوری ایران سے مذاکرات کرنے کے لئے بھیجتے مگر ایسا نہیں کیا گیا بلکہ کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اس کا جواب دو دن میں دیں گے، انتہائی حیران کن ہے۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنے پرامن ایٹمی پروگرام پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اپنی خود مختاری پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دے گا اور نہ ہی اپنا افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک کے حوالے کرے گا۔ بیانات کے اس قدر متضاد ہونے کے بعد، اگر کوئی یہ سمجھے کہ واقعتا معاملات کسی پائیدار امن کی جانب چل رہے ہیں، تو میری دانست میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوطی سے جمائے ہوئے ہے اور دنیا اب اپنے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لئے ایرانی ٹول ٹیکس ادا کرنا شروع ہو چکی ہے، تو کس طرح ایران اس سونے کی چڑیا سے دستبردار ہو گا؟ بالخصوص جب امریکہ اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اس قدرتی راستے کو کھلوانے میں ناکام ہو رہا ہے اور ایرانی بحریہ کی بوٹس ، ان تجارتی جہازوں کو، جو ٹول ٹیکس ادا کر رہے ہیں، بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکال رہی ہے اور امریکی ناکہ بندی بھی غیر موثر ثابت ہورہی ہے۔ گو کہ امریکہ نے ایران کی اس نئی اتھارٹی، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس وصول کر رہی ہے، اس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور اس کے ساتھ ان ممالک کو بھی وارننگ جاری کردی ہے جو ٹول ٹیکس ادا کر کے یہاں سے گزر رہے ہیں، یوں امریکہ خود عالمی تجارت کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے، کیا اس پس منظر میں عالمی برادری امریکہ کی ان پابندیوں کی پرواہ کرے گی؟ کیا امریکہ اس طرح مزید اپنی ہزیمت کا سامان پیدا نہیں کر رہا؟ بہرحال اس وقت مشرق وسطی کا بحران ہر گزرتے پل کے ساتھ مزید گھمبیر ہو رہا ہے اور بظاہر اس کے حل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا، ایک غیر یقینی سی صورتحال ہے!!!







