دفاع، وقار اور سفارت کاری: 28مئی کے بعد پاکستان کا

دفاع، وقار اور سفارت کاری: 28مئی کے بعد پاکستان کا باوقار سفر
تحریر:محمد محسن اقبال
تاریخ کے اوراق جب خاموشی اور وقار کے ساتھ پلٹے جاتے ہیں تو 28مئی 1998ء پاکستان کی قومی زندگی کا ایک ایسا تابناک اور باوقار لمحہ دکھائی دیتا ہے جو ہمیشہ عزت و افتخار کی علامت بن کر زندہ رہے گا۔ اس دن چاغی کے سنگلاخ پہاڑوں میں پاکستان نے اشتعال انگیزی کا جواب غرور سے نہیں بلکہ متانت، حکمت اور عزم کے ساتھ دیا۔ ایٹمی صلاحیت کے اعلان کے ذریعے وطنِ عزیز نے دنیا پر واضح کر دیا کہ اسے اپنے دفاع، خودمختاری اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ کوئی جارحانہ مظاہرہ نہ تھا بلکہ ایک ناگزیر ضرورت تھی، ایک ایسی قوم کی ضرورت جو آزمائشوں کی بھٹی میں تپ کر اس مقام تک پہنچی تھی اور جس نے یہ تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ کسی بھی وجودی خطرے کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بصیرت، تدبر اور مقصد کے ایک ہی دھارے میں متحد دکھائی دی۔
اس کی بنیاد بھارت کے اُس اقدام نے رکھی تھی جب مئی 1998ء میں پوکھران کے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے اُس نے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوشش کی۔ برصغیر کی تاریخ پہلے ہی 1948ئ، 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے زخم اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھی، اور تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والی مخاصمت کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ انہی نازک لمحات میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اعلیٰ درجے کی مدبرانہ قیادت کا مظاہرہ کیا۔ شدید عالمی دبا، اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں اور تنہائی کے اندیشوں کے باوجود انہوں نے عسکری قیادت اور قومی سائنس دانوں سے تفصیلی مشاورت کی۔ سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت سنجیدگی سے پاکستان کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ دعا، تدبر اور قومی ذمہ داری کے احساس کے بعد فیصلہ صادر ہوا کہ پاکستان اپنے خودمختار حق کو استعمال کرے گا۔ یوں 28اور 30مئی کو چاغی۔ 1اور چاغی۔IIکے ذریعے خطے میں طاقت کے نازک توازن کو بحال کر دیا گیا۔ یہ طاقت کے بے جا استعمال کا اعلان نہیں تھا بلکہ امن کو قوت کے سہارے محفوظ بنانے کی حکمت تھی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مخلص سائنس دانوں نے اداروں اور بے شمار گمنام کارکنوں کی شبانہ روز محنت کے ساتھ اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ مختلف ادوار کی سیاسی قیادتوں اور عسکری سرپرستی نے کئی دہائیوں تک اس پروگرام کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ دراصل اس سفر کا آغاز اُس وقت ہوا جب 1974ء میں بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ تاریخی اعلان کہ’’ ہم گھاس کھا لیں گے مگر اپنا دفاع ناقابلِ تسخیر بنائیں گے‘‘، قوم کے لیے ایک ولولہ انگیز صدا ثابت ہوا۔ پابندیوں، مشکلات اور عالمی دبائو کے باوجود سیاسی قیادت نے سمت فراہم کی جبکہ مسلح افواج نے اس پروگرام کی حفاظت اور استحکام کو یقینی بنایا۔ یہی سیاسی و عسکری ہم آہنگی 1998ء میں پاکستان کی اصل قوت بن کر ابھری جب پوری قوم ایک آواز بن گئی۔
تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے بعد یہی جذبہ اتحاد مئی 2025ء میں ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔ جب پاکستان کو بھارت کی طرف سے ایک مختصر مگر نہایت خطرناک جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو سیاسی اور عسکری قیادت شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی حکومت اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جرات، مہارت اور قومی یکجہتی کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔ پاکستانی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، عملی تیاری اور بے مثال نظم و ضبط کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں نہایت وقار سے انجام دیں جبکہ سول اداروں نے مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت سے پاکستان کو کامیابی نصیب ہوئی۔ ہمارے جوانوں نے خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا، اپنے زخموں کو اعزاز سمجھا اور شہداء کو سلامِ عقیدت پیش کیا۔
یہ کامیابی صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے قومی اتحاد کو بھی مضبوط کیا۔ اس کے بعد پاکستان نے سفارتی میدان میں بھی غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل میں پاکستان ایک معتبر ثالث کے طور پر ابھرا۔ سیاسی اور عسکری قیادت کی متوازن سفارت کاری نے دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا اور یہ حقیقت اجاگر کی کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کا خواہاں ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترقی اور دفاعی اداروں کے باہمی تعاون کے استحکام نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ پاکستان میں قومی سلامتی کے لیے ایک بالغ، متوازن اور ذمہ دار سیاسی و عسکری شراکت داری موجود ہے۔
اس پورے سفر میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی ہمیشہ شامل رہی۔ قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے، ( ترجمہ): ’’ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت تیار رکھو‘‘ ( سورۃ الانفال: 60)۔ پاکستان کی قیادت نے اسی قرآنی حکم کی روشنی میں اپنی ذمہ داری ادا کی۔ حضور اکرم ؐ نے بھی ایمان اور تدبیر کے حسین امتزاج کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’ اپنی اونٹنی کو باندھو اور پھر اللہ پر بھروسہ کرو‘‘۔ یقیناً محض دعا کافی نہیں، بیداری، تیاری اور حکمت بھی ضروری ہیں۔ ایٹمی قوت اگرچہ ناگزیر ہے مگر صرف یہی کافی نہیں۔ آج دنیا ہائبرڈ جنگوں، معاشی دبائو، سائبر خطرات اور اندرونی انتشار جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں یاد دلاتا ہے، ( ترجمہ)’’ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے‘‘ ( سورۃ الرعد: 11)۔ مضبوط دفاع سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے مگر قوموں کی حقیقی بقا اتحاد، معاشی ترقی، اخلاقی استحکام اور قومی کردار سے وابستہ ہوتی ہے۔
اس تاریخی دن کی سالگرہ پر ہم اللہ رب العزت کے حضور سراپا شکر ہیں کہ اُس نے بارہا پاکستان پر اپنی رحمت فرمائی۔ ہم اُن سائنس دانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی ذہانت نے قوم کے لیے روشنی کا مینار تعمیر کیا، اُن سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو آج بھی وطن کی سرحدوں کے محافظ ہیں، اور اُن سیاسی راہنمائوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے دانشمندی اور استقامت کے ساتھ بھاری ذمہ داریاں اٹھائیں، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف، شہباز شریف اور دیگر قائدین تک، نیز اُن عسکری قائدین کو بھی جن کی شراکت داری نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ان سب کی میراث طاقت کے بے جا اظہار کی نہیں بلکہ ذمہ داری، تدبر اور قومی وقار کی میراث ہے۔ پاکستان آج اگر سربلند ہے تو یہ محض اپنی قوت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اپنے فرزندوں کی قربانیوں کے باعث ہے۔
آئیے اس دن کے موقع پر ہم اپنے دلوں میں انصاف، استقامت اور قومی وحدت کے عہد کو تازہ کریں۔ قرآنِ حکیم فرماتا ہے، ( ترجمہ) : ’’ اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیی گواہی دو‘‘ ( سورۃ النسائ: 135)۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دانش کے ساتھ اپنی خودمختاری کی حفاظت کریں، اخلاص کے ساتھ اپنے باہمی اختلافات ختم کریں اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے رہیں۔ سیاسی و عسکری اداروں کے اتحاد، ایمان کی قوت اور شکرگزاری کے جذبے میں ہی ہماری اصل عزت اور بقا پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، اس کے قائدین کو ہدایت عطا فرمائے اور اس وطنِ عزیز کو ہمیشہ مضبوط، باوقار اور سربلند رکھے۔ آمین۔







