آبنائے ہرمز اہم کیوں؟

ذرا سوچئے
آبنائے ہرمز اہم کیوں؟
امتیاز احمد شاد
آبنائے ہرمز صدیوں سے عالمی تاریخ، تجارت اور طاقت کی سیاست کا ایک نہایت اہم مرکز رہی ہے۔ قدیم زمانوں میں بھی یہ تنگ سمندری راستہ مشرق اور مغرب کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ تھا، جہاں سے نہ صرف اشیاء کی تجارت ہوتی تھی بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور خیالات کا تبادلہ بھی ممکن ہوتا تھا۔ عرب تاجروں، فارسی سلطنتوں اور بعد ازاں یورپی طاقتوں نے اس راستے کی اہمیت کو بخوبی سمجھا اور اسے اپنے اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، خاص طور پر بیسویں صدی میں تیل کی دریافت کے بعد، اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران عالمی توانائی کی سپلائی کے بڑے مراکز بن گئے، اور یوں آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی شہ رگ بن گئی۔ جغرافیائی طور پر یہ ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے، اور اس کی چوڑائی بعض مقامات پر اتنی کم ہے کہ بحری جہاز مخصوص راستوں سے ہی گزر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر کنٹرول یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں کسی قسم کی کشیدگی پیدا ہو جائے یا اسے بند کر دیا جائے تو عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں اچانک بڑھ سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، اور بڑی طاقتیں فوری طور پر مداخلت پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں ایران کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ایران جغرافیائی لحاظ سے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اس کے پاس اس علاقے میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ماضی میں کئی بار ایران کی جانب سے یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ اگر اس پر اقتصادی یا عسکری دبا بڑھایا گیا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران عالمی سیاست میں ایک اہم اور بعض اوقات متنازع کھلاڑی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ، جو خود کو عالمی طاقت سمجھتا ہے، اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مسلسل سرگرم رہتا ہے۔ امریکہ کی بحری موجودگی خلیج فارس میں ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس اہم گزرگاہ کو بند نہیں ہونے دے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کے معاملات پر۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں نے نہ صرف ایران کی معیشت کو متاثر کیا بلکہ پورے خطے میں بے چینی پیدا کی، جس کا اثر آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بھی پڑا۔
موجودہ حالات میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنا ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کسی بھی غلط فہمی یا چھوٹے سے واقعے کے بڑے نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایسے میں خطے کے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان، ایک اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی کی ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک ممکنہ پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ پاکستانی قیادت کی جانب سے بارہا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی ثالثی کی کوششوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکتا ہے۔
عالمِ اسلام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صورتحال ایک اہم سبق بھی پیش کرتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ارد گرد واقع ممالک زیادہ تر مسلم ہیں، لیکن ان کے درمیان سیاسی اختلافات، مسلکی تقسیم اور باہمی عدم اعتماد اس خطے کو کمزور بناتے ہیں۔ اگر یہی ممالک متحد ہو جائیں اور مشترکہ مفادات کے تحت پالیسیاں تشکیل دیں تو وہ نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک طاقتور بلاک کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، موجودہ حالات میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا، اور یہی کمزوری عالمی طاقتوں کو اس خطے میں مداخلت کا موقع فراہم کرتی ہے۔ عالمی طاقتیں، جنہیں اکثر ’’ عالمِ کفر‘‘ کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے، ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ اس اہم خطے پر ان کا اثر و رسوخ برقرار رہے، کیونکہ جو بھی آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرے گا، وہ درحقیقت عالمی توانائی کی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی، عسکری اور سفارتی کشمکش مسلسل جاری رہتی ہے، اور ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کا ایک مرکزی نقطہ ہے۔ اس کی اہمیت ماضی میں بھی تھی، حال میں بھی ہے، اور مستقبل میں بھی رہے گی۔ اگر اس خطے میں استحکام اور امن قائم رہتا ہے تو دنیا کی معیشت مستحکم رہ سکتی ہے، لیکن اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع، پاکستان کی ثالثی کی کوششیں، اور عالمِ اسلام کی داخلی صورتحال، عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز آنے والے وقتوں میں بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریق دانشمندی، تحمل اور سفارتکاری کا مظاہرہ کریں تاکہ اس حساس خطے کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے اور دنیا کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل فراہم کیا جا سکے۔





