ColumnImtiaz Aasi

حج انتظامات کا طائرانہ جائزہ

حج انتظامات کا طائرانہ جائزہ

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

اگرچہ حج کسی مجاہدے سے کم نہیں اسی لئے حج کا احرام باندھتے وقت حق تعالیٰ سے حجاج کرام حج کو آسان کرنے کی دعا مانگتے ہیں۔ حج مسلم امہ کی سب سے بڑی عبادت ہے اگر کوئی پاک مال اور رسالت مآبؐ کے بتلائے ہوئے مناسک حج کے مطابق حج کرے تو اللہ سبحانہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ دنیا کے مذاہب میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس میں لوگ اتنی بڑی تعداد میں یکسوئی کے ساتھ اپنے خالق کو راضی کرنے کے لئے جمع ہوتے ہوں ۔ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حج بہت بڑا انعام ہے جس میں وہ عرفہ کے میدان میں اپنے گناہوں کی معافی کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ ایک ہی لباس میں بوڑھے جوان مرد اور عورتیں منعم حقیقی کو راضی کرنے کے لئے وقوف کرتے ہیں۔ پاکستان سے حج کے لئے جانے والوں کو مثالی حج انتظامات کی نوید سنا دی جاتی ہے بدقسمتی سے ہمارا حج مشن کسی نہ کسی حوالے سے ہر سال بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس کا اتنا بڑا حج مشن ہے ورنہ کسی اور ملک کا حج مشن سعودی عرب میں نہیں ہے۔ حج انتظامات کے لئے صرف تین ماہ درکار ہوتے ہیں نو ماہ حج مشن کا پورا عملہ فارغ رہتا ہے جب کہ ایک غریب اور مقروض ملک کے حج مشن کا سالانہ بجٹ کئی ارب روپے ہے۔ حج مشن کے افسران سرکاری ٹرانسپورٹ میں جدہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے کیلئے سو ڈالر بھی وصول کرتے ہیں جسے ڈیلی الاونس کہا جاتا ہے۔ ملک میں بیوروکریسی کا ایک مضبوط کلک ہے جو اپنے بندوں کی ہر طرح سے نگہداشت کرتے ہیں۔ سابق وفاق سیکرٹری لطف اللہ مفتی نے تو ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا تھا لیکن ملک کے خیر خواہوں نے اس عہدے کو بحال کر دیا۔ اب میں حج انتظامات اور حج مشن کی کارکردگی پر بات کروں گا۔ حجاج کرام نے وزیر مذہبی امور کو منی میں گھیرا ہوا تھا اور وہ کھانے کے غیر معیاری ہونے کی شکایات کر رہے تھے۔ چلیں پیک شدہ کھانا ٹھنڈا ہوسکتا ہے مگر جلا ہوا کھانا تو حجاج کو نہیں دینا چاہیے تھا۔ منی میں حجاج جن خیموں میں بھیجے گئے انہی خیموں میں میڈیکل مشن کے ڈاکٹروں نے بسیرا کر لیا جس پر حجاج کرام سراپا احتجاج بنی ہوئے تھے۔ کیا یہ حج مشن کی بدنظمی نہیں تو اور کیا ہے۔ سفارشی حاجیوں کو زون فائیو سے جمرات کے قریب خیموں میں لانے کی کوشش کی گئی تو حاجیوں کے احتجاج پر حج مشن نے اپنا مراسلہ واپس لے لیا۔ یہ بات درست ہے منیٰ سے عرفات حجاج کو ٹرین میں بھیجا جاتا ہے عرفات سے واپسی پر حاجی بسوں کی شکایات کر رہے تھے جس سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا پاکستان سے روانگی سے قبل وزارت مذہبی امور نے انہیں پوری طرح بریف نہیں کیا تھا۔ حاجیوں کی رہنمائی کے لئے پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں خدمت گاروں کے بھیجنے کا کیا فائدہ جب وہ اپنے اپنے ڈیوٹی مقامات سے غیر حاضر رہتے ہوں۔ مجھ سمجھ نہیں آتا سعودی عرب بھیجنے سے قبل سرکاری ملازمین کو این ٹی ایس کے ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے جیسے انہوں نے سعودی عرب میں سی ایس ایس کا امتحان دنیا ہو۔ اللہ کے بندوں صحت مند اور نوجوان سرکاری ملازمین کو بھیجا جائے اور سعودی عرب روانگی سے ایک ماہ قبل انہیں دو چار کلومیٹر پیدل چلنے کی مشق کرائی جائے تو وہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کر سکتے ہیں نہ کہ انہیں تحریری امتحان سے گزارا جاتا ہے۔ حج مشن میں تقرری کے لئے فارن سلیکشن بورڈ جس میں سیکرٹری مذہبی امور ، سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری عملہ ڈویژن ہوتے ہیں، لیکن وہی صاحب منتخب ہوتے ہیں جنہیں سرکاری منتخب کرتے ہیں۔ وزارت مذہبی امور کی نااہلی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ مدینہ منورہ میں دونوں پاکستان ہائوسز منہدم ہو چکے ہیں۔ مجھے سابق سیکرٹری مذہبی امور جناب ذوالفقار حیدر نے بتایا تھا سعودی حکومت نے ان کی کاوشوں سے پاکستان ہائوس کی عمارت کی خریداری کی اجازت دے دی ہے۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کئی ملین ریال پاکستان ہائوس کی عمارت کے لئے موجود ہیں لیکن وہ سعودی عرب کی شرعی عدالت کی تحویل میں بطور امانت موجود ہیں۔ اگر ہمارے کسی افسر کے پاس اتنی بڑی رقم ہوتی وہ کب کی ہضم ہو چکی ہوتی جس کے بعد نیب قوانین میں تبدیلی کرکے مقدمہ داخل دفتر کر دیا جاتا۔ سعودی عرب میں پوسٹنگ پر جانے والوں میں سے بعض ملازمین مالکان مکانات کے ساتھ اپنی رہائش کے لئے زیادہ سے زیاد ہ رقم کا معاہدہ کرتے ہیں مگر اندرون خانہ بہت کم کرایوں پر رہائش حاصل کرتے ہیں۔ حجاج کرام کے بہبود فنڈ کو مال مفت سمجھ کر خرچ کیا جاتا ہے ڈائریکٹر جنرل حج کے اختیارات ایک وفاقی وزیر سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک دوست بتا رہے تھے حاجیوں کے لئے کھانا فراہم کرنے والی کمپنیاں فی کس حاجی کم سے کم پانچ ریال کمیشن دیتے ہیں جو لاکھوں ریال بنتی ہے۔ سعودی عرب میں کوئی کمیشن مانگے نہ مانگے مکانات کے مالکان اور مستاجر خود ہی کمیشن دے دیتے ہیں کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پاکستان حج مشن میں کیسے کیسے اعلیٰ افسران تعنیات رہے احمد بخش لہڑی، شاہد خان، کیپٹن یوسف اور عبداللہ صاحب ایسے راست باز افسران کو لوگ آج بھی شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ جناب شاہد خان کے دور میں پاکستانی ایجنٹوں کا پاکستان ہائوس مکہ مکرمہ میں داخلہ بند تھا۔ ایک خود ساختہ مسلم لیگی پاکستان ہائوس میں ملازم تھا وہ پاکستان ہائوس میں قیام کرنے والوں کے لئے گاڑی کا بندوبست کرتا تو ٹیکسی ڈرائیور سے کمیشن طے کر لیا کرتا تھا لیکن جناب شاہد خان نے اسے ملازمت سے برطرف کر دیا۔ آج کل وہ پاکستانی حاجیوں کو عزیزیہ میں عمارات مہیا کرتا ہے۔ حج مشن کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے حاجیوں کی منی روانگی سے دو روز پہلے تجرباتی طور پر Muna Moveکرتے تھے تاکہ انتظامات میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو بروقت اس کا ازالہ ہو سکے۔ پورا سال سعودی عرب میں رہنے کے باوجود جو حج مشن اس بات کا تعین نہ کر سکے منیٰ کے کن خیموں میں حاجیوں کو ٹھہرانا ہے اور کن میں میڈیکل مشن کے لوگوں کو رکھنا ہے ایسے حج مشن سے اچھے انتظامات کی توقع عبث ہے۔

جواب دیں

Back to top button