Column

پاکستان کا امن کیلئے کردار ادا کرنے کا عزم

پاکستان کا امن کیلئے
کردار ادا کرنے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے گزشتہ روز کے بیانات اور سفارتی پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا کشیدگی، عدم اعتماد اور سیاسی تنازعات کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی نہ صرف ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس عمل میں پاکستان کے فعال کردار نے خطے میں اس کی پوزیشن کو ایک نئی جہت دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں رکوانے اور امن قائم کرنے میں برسوں لگتے ہیں، ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے۔ عالمی سیاست میں یہ حقیقت بارہا ثابت ہوچکی کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مکالمے، برداشت اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر خود کو ایک ذمے دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے، جس نے نہ صرف فریقین کو قریب لانے کی کوشش کی، بلکہ عملی طور پر مذاکرات کی میزبانی بھی کی۔ وزیراعظم کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان 21گھنٹے طویل براہ راست مذاکرات اور 47سال بعد ایک میز پر بیٹھنے کا واقعہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان براہ راست رابطے کا آغاز ہی ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہو، وہاں کسی تیسرے فریق کی سہولت کاری ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان کا یہ کردار محض وقتی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سفارتی وژن کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف امن کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا بلکہ خطے میں مستقل استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اپنی خارجہ پالیسی میں امن کے پل کا کردار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے گفتگو اس سفارتی سلسلے کی توسیع ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تعریف اور حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدامات محض دوطرفہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی سفارتی فریم ورک کا حصہ ہیں۔ چین اور پاکستان کا خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی تعاون ایک دیرینہ حقیقت ہے اور حالیہ پیش رفت نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان پانچ نکاتی امن اقدام پر تبادلہ خیال اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی حل کی تلاش میں ہیں۔ آج کی عالمی سیاست میں جہاں طاقت کے بلاکس دوبارہ تشکیل پا رہے ہیں، وہاں ایسے سفارتی اقدامات خطے کے لیے ایک متوازن راستہ فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سیاسی اور عسکری قیادت کے کردار کو مشترکہ طور پر سراہا۔ آرمی چیف اور دیگر عسکری قیادت کی شمولیت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ادارہ جاتی ہم آہنگی موجود ہے۔ تاہم اس امر کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ سفارت کاری کی کامیابی ہمیشہ شفافیت، تسلسل اور بین الاقوامی اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔ خطے میں امن کے امکانات اگرچہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ جنگ بندی کا تسلسل اور مذاکرات کا جاری رہنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ عالمی برادری اس عمل کو امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے، تاہم ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ ایسے معاہدات اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں حاصل کر سکتے جب تک تمام فریقین سنجیدگی، برداشت اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہ کریں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم سفارتی موقع ہے۔ اگر اسلام آباد اسی تسلسل کے ساتھ غیر جانبدار اور متوازن کردار ادا کرتا رہا تو یہ نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو بہتر بنائے گا بلکہ اسے ایک موثر امن ساز ریاست کے طور پر بھی مستحکم کرے گا۔ تاہم اس کردار کے ساتھ ذمے داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں، جن میں فریقین کا اعتماد برقرار رکھنا اور مذاکراتی عمل کو کسی بھی تعطل سے بچانا شامل ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ سفارتی کوششیں اگرچہ ابھی ابتدائی اور نازک مرحلے میں ہیں، لیکن یہ خطے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ جنگوں سے تھکے ہوئے اس خطے کو اگر واقعی امن کی طرف لے جانا ہے تو پاکستان جیسے ممالک کی سہولت کاری ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
منشیات کے خلاف جنگ
اینٹی نارکوٹکس فورس ( اے این ایف) کی جانب سے گزشتہ روز ملک کے مختلف شہروں میں کی گئی 9کارروائیوں میں 141.32کلوگرام منشیات کی برآمدگی اور 13ملزمان کی گرفتاری ایک اہم پیش رفت ہے۔ حیدرآباد، اسلام آباد، سنگجانی، غازی گھٹ، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں بیک وقت کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کا نیٹ ورک وسیع اور منظم ہے، جس کے خلاف مسلسل اور مربوط کارروائی ناگزیر ہے۔ برآمد ہونے والی منشیات میں افیون، چرس، آئس، ہیروئن اور زینیکس گولیاں شامل ہیں، جو اس خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اب منشیات کی اقسام صرف روایتی مادوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ جدید اور مصنوعی نشہ آور ادویات بھی تیزی سے نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ خاص طور پر آئس اور غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی ادویات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جو نہ صرف فرد کی صحت بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ گرفتار ہونے والے بعض ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو نشہ فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ انکشاف اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ منشیات فروش اب اپنے نشانے پر نوجوان نسل کو رکھ رہے ہیں، جو کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے اندر یا ان کے گرد اس طرح کے نیٹ ورکس کا موجود ہونا اداروں، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انسداد منشیات ایکٹ 1997کے تحت مقدمات کا اندراج ایک قانونی قدم ضرور ہے، لیکن صرف قانونی کارروائی اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں روک تھام، آگاہی اور بحالی کے اقدامات شامل ہوں۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات، والدین کی جانب سے نگرانی اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ اس جنگ کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ منشیات کا کاروبار ایک بین الاقوامی اور منظم نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جسے صرف مقامی سطح پر کچلنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے بین الاقوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ اے این ایف کی حالیہ کارروائیاں اس سمت میں ایک مثبت قدم ضرور ہیں، لیکن اس تسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ معاشرتی سطح پر بھی منشیات کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک معاشرہ خود اس لعنت کے خلاف متحد نہیں ہوتا، اس مسئلے پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ میڈیا، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی سب کو مل کر اس خطرے کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اے این ایف کی حالیہ کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں، لیکن یہ صرف آغاز ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب منشیات کی طلب اور رسد دونوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button